Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

صفدر کیخلاف درخواست گزار پولیس پر حملے میں ملوث نکلا

SAMAA | - Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 2 months ago

مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دینے والا وقاص نامی شخص پولیس پر حملے میں ملوث ہے جس کی ایف آئی آر سایٹ سپر ہائی وے تھانے میں درج ہے۔

وقاص نامی ایک شخص نے پولیس کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ کیپٹن صفدر نے مزار قائد کے احاطے میں نعرے بازی کرکے مزار قائد کی بے حرمتی کی۔ درخواست دہندہ نے الزام عائد کیا کہ کیپٹن صفدر سمیت 200 نامعلوم افراد نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

مریم نواز نے بعد میں پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ جس شخص نے مقدمہ درج کروایا وہ دہشت گردی کے کیس میں مفرور ہے۔

سماء ٹی وی کے چیف کرائم رپورٹر احمر رحمان خان نے ملزم وقاص کے خلاف درج مقدمہ دھونڈ نکالا ہے۔ وقاص تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کا بھانجا اور اس کو کوارڈی نیٹر بھی ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق وقاص کے خلاف مقدمہ نمبر 513 سائٹ سپرہائی وے تھانے میں درج ہے۔ مقدمہ میں ملزم پر پولیس موبائل کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر پتھراؤ کے الزامات ہیں۔

وقاص کے ساتھ اس مقدمہ میں دیگر 58 افراد بھی شامل ہیں۔ پولیس پر حملے اور موبائل کو نقصان پہنچانے کا واقعہ 25 اگست 2019 کو گلشن معمار کے علاقہ احسن آباد میں پیش آیا تھا۔

گزشتہ روز مریم نواز نے مزار قائد پر حاضری دے کر پھول چڑھائے تھے۔ اس دوران کیپٹن صفدر نے ووٹ کو عزت دو اور مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگوائے۔ مادر ملت فاطمہ جناح کو آمر ایوب خان کی حکومت میں غدار قرار دیا گیا تھا اور انتخابی مہم کے دوران فاطمہ جناح کی کردار کشی کی گئی۔

کیپٹن صفدر کی ہوٹل سے گرفتاری کی ویڈیو بھی منظرعام پر آگئی ہے جس میں وہ مادر ملت زندہ باد اور ایوب خان مردہ باد کے نعرے لگاتے نظر آرہے ہیں۔

سندھ حکومت نے اس گرفتاری سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مریم نواز اور مسلم لیگ نواز کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے اور معاملے کی مکمل تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ سیکٹر کمانڈر کے دفتر میں آئی جی سندھ سے زبردستی وارنٹ پر دستخط کروائے گئے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’آئی جی سندھ سے پہلے کہا گیا کہ آپ وارنٹس پر دستخط کریں، گرفتاری رینجرز والے کر لیں گے۔ مگر دستخط کے بعد کہا گیا کہ گرفتاری بھی پولیس ہی کرے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری میں سندھ حکومت ملوث نہیں ہے۔ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ اقدام کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ حزب مخالف اتحاد میں دراڑ ڈالی جائے مگر ’ہم بچے نہیں ہیں۔‘

وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کو ٹیلی فون کرکے باور کروادیا ہے کہ گرفتاری میں سندھ حکومت کا کردار نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ کو اس پر افسوس ہے۔ انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ہے۔

میاں نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر کا ایک آڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ آئی جی پولیس کو اغوا کرکے سیکٹر کمانڈر کے آفس لے جایا گیا جہاں ایڈیشنل آئی جی پہلے سے موجود تھے۔ وہاں ان سے زبردستی دستخط کروائے گئے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube