Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرکے دکھائیں، مریم نواز

SAMAA | - Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 1 year ago
Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 1 year ago

مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم رہنماؤں کے ہمراہ ہوں، اگر کسی میں ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرلے، جو بھی فیصلہ کریں گے وہ وقت آنے پر اور سوچ سمجھ کر کریں گے۔ انھوں نے دو ٹوک کہا کہ کسی بھی لمحے یہ خیال نہیں آیا کہ محمد صفدر کی گرفتاری کے پیچھے سندھ حکومت کا ہاتھ ہے۔

کراچی میں پی ڈی ایم نے پیر کو مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں پی ڈی ایم کے تمام مرکزی قائدین موجود تھے۔ تاہم بلاول بھٹو کی نمائندگی سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کی۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم کس منہ سے کہیں گے کہ ہم مہذب قوم ہیں،پی ٹی آئی والےبھی مزارقائدپرہلڑبازی کرتےتھے اور محمد صفدر کی گرفتاری صرف نون لیگ پرنہیں بلکہ پوری پی ڈی ایم پرحملہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت معاملےپراپنامؤقف دےچکی ہے،آج جو حرکت کی گئی وہ بدمعاشی ہے۔

راجا پرویز اشرف نے بتایا کہ محمد صفدر کی گرفتاری پربلاول بھٹونےوزیراعلیٰ سندھ کوانکوائری کاحکم دیا ہے۔

پریس کانفرنس میں مریم نواز نے بتایا کہ پیر کی صبح اچانک ہوٹل کا دروازہ کھٹکھٹانےکی آواز آئی۔ صفدر نے جب دروازے پر جاکر پوچھا تو پتہ چلا کہ پولیس والے گرفتار کرنے آئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بلاول سمیت کئی رہنماؤں کے بھی ٹیلی فون آئے اور انھوں نے محمد صفدر کی گرفتاری کی مذمت کی۔ مریم نواز نے کہا کہ ایک لمحے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہ سندھ حکومت کی سازش ہے یا اس کے پیچھے پیپلزپارٹی کا ہاتھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم تیار ہیں کہ اس طرح کے حربے استعمال کئے جائیں گے۔مریم نواز نے بتایا کہ مزار قائد پر ملک مخالف نعرے نہیں لگے اور نہ ہی نوازشریف کے لیے نعرے لگائے گئے بلکہ قائد اعظم کے فرمان کے نعرے لگائے گئے۔

مریم نواز نے انکشاف کیا کہ کیپٹن صفدر کو کافی پہلے سے دھمکیاں آرہی تھی اور انھیں چپ رہنے کا کہا جارہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جب طاقت کا نشہ ہوتا ہے تو غلطیاں ہوتی ہیں۔

مقدے سے متعلق انھوں نے کہا کہ وقاص احمد جو مدعی ہیں وہ بھی دہشت گردی کے مقدمے میں مطلوب ہیں اور ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہے،سب سمجھ آرہا ہے کہ کیا گیم کھیلا جارہا ہے۔

صحافی کے سوال پر مریم نواز نے جواب دیا کہ جب مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو نے کہہ دیا تو سب سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کارروائی کس کی ہوسکتی ہے۔

صحافی کےسوال کا جواب  دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جن جرم کی پاداش میں منتخب حکومتوں کو برطرف کیا جاتا ہے،یہ اس زمانے کی بات کرتے ہیں لیکن آج بیٹا اور ابا ایک ہی جرم کے مجرم ہیں اور وہ ایسی باتیں نہیں کرتے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube