Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

نواز شریف کی طلبی کا اشتہار اخبارات میں شائع

SAMAA | - Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 1 month ago

عدالتی حکم پر نواز شريف کی طلبی کا اشتہار آج پیر 19 اکتوبر کو اخبارات میں شائع کردیا گیا ہے۔ اشتہار کی نقل نواز شريف کو بھيجی جائے گی۔

عدالت کی جانب سے نواز شريف کے اثاثے ضبط کرنے کيلئے 29 اکتوبر2020 تک مہلت دی گئی ہے۔ نواز شریف کے اشتہار العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنس میں طلبی کیلئے شائع کیے گئے ہیں۔ دونوں اشتہارات عدالتی احکامات کی روشنی میں روزنامہ جنگ اور ڈیلی ڈان میں شائع کرائے گئے۔

شائع اشتہار کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف 6 جولائی 2018 کو 10 سال قید اور 8 ملین پاؤنڈز جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ اشتہار میں یہ بھی درج ہے کہ نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں 19 ستمبر 2018 کو نواز شریف کی سزا معطل ہوئی تو وہ جیل سے ضمانت پر رہا ہوئے۔

دیگر تفصیل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیل زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران نواز شریف عدالت پیش ہونے کے پابند تھے۔ نواز شریف کی حاضری یقینی بنانے کیلئے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، جس کی تعمیل نہ ہوسکی۔ بذریعہ اشتہار طلبی کے متن میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف 24 نومبر کو عدالت میں پیش ہوں۔

شائع متن میں یہ بھی درج ہے کہ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید اور 1.5 ارب روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں 8 ہفتوں کی ضمانت منظور کی گئی۔ سزا معطلی اور ضمانت کے بعد اپیلوں پر سماعت کی پیروی کیلئے نواز شریف پیش نہیں ہوئے۔ نوازشریف کے وارنٹس جاری کئے گئے جن کی تعمیل نہیں ہوسکی۔ عدالت رپورٹس سے مطمئن ہے کہ نوازشریف مفرور ہیں، جان بوجھ کر عدالتی کارروائی سے خود کو چھپا رہے ہیں۔

طلبی کے متن میں نواز شریف کو بذریعہ اشتہار طلب کیا جاتا ہے وہ 24 نومبر کو عدالت پیش ہوں۔

واضح رہے کہ پاکستان حکومت نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے بارے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا آغاز کردیا ہے اور اس ضمن میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اشتہار کیلئے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کو ایک خط لکھا تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر کی طرف سے پرنسپل انفارمیشن آفیسرکے نام لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں 2 فوجداری مقدمات میں طلبی کے باوجود مسلسل غیر حاضری پر فوجداری ایکٹ کی دفعہ87 کی کارروائی شروع کی جا چکی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں ہدایات دی گئی تھی کہ یہ اشتہار بلیک اینڈ وائٹ جاری کیا جائے اور دونوں اخبارات کے بِیک پیج پر کالی سیاہی سے کوارٹر پیج کا اشتہار جاری کیا جائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube