Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

کٹھ پتلی کوبوٹ پالش کا موقع ملا تھا، مولانافضل الرحمان

SAMAA | , , , , , and - Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 1 year ago
Posted: Oct 19, 2020 | Last Updated: 1 year ago

اپوزیشن کی حکومت مخالف جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ کے زیر اہتمام دوسرا عوامی جلسہ باغ جناح میں شروع ہوگیا ہے۔ جس میں عوام کا سمندر امڈ آیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے شرکا کیلئے 50 ہزار کرسیاں لگائی ہیں مگر گراؤنڈ کھچا کھچ بھر جانے کے بعد اطراف کی سڑکوں پر بھی تاحد نظر سر ہی سر نظر آرہے ہیں۔

جلسے کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔ تمام پارٹیوں کے قائدین اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔ صوبائی قائدین خطاب کر رہے ہیں اور جلسے کے شرکا حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو سال سے ہم میدان کارزار میں ہیں۔ ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ بدترین دھاندلی کے نتیجے میں قائم حکومت کو تسلیم کریں۔ ہمیں ڈرا دھمکایا گیا۔ لالچ و ترغیب بھی دی گئی مگر ہم اپنے موقف پر ڈتے ہیں۔ ہم علیٰ اعلان کہتے ہیں ہم کٹھ پتلی حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ہم حسین کے پیروکار ہیں۔ جس نے یزید کے اقتدار کو تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن جماعتیں پاکستان کے بقا اور تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ جمہوریت اور آئین کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جن قوتوں نے کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کو تسلیم کرنے کا کہا ہے، وہ سن لیں ہم تیار نہیں۔ اب ہم آپ سے منوائیں گے کہ آپ اپنی غلطی تسلیم کرکے یہ گارنٹی دیں کہ آئندہ سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کل نواز شریف کا خطاب الیکٹرانک میڈیا پر نہیں دکھایا گیا۔ اس کے باوجود ان کے کچھ حصوں پر ہمارے کچھ بڑوں کو بڑا اعتراض تھا۔ مگر کٹھ پتلی کو بوٹ پالش کرنے کا موقع ملا۔ یہ پالشی ہمیشہ بات کرتا ہے تو بونگی مارتا ہے۔

انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بقول آپ نے خواجہ آصف کو الیکشن جتوایا۔ اس نا اہل اور نالائق شخص اتنا خیال نہیں کہ انہی کی دھاندلی کا اعتراف کر رہا ہے۔ باجوہ صاحب آپ ہمارے لیے قابل احترام ہیں مگر بے وقوف دوستوں کو سنبھالیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فوج ہماری آنکھوں کی پلکیں ہے۔ پلکیں آنکھوں کی حدود کی حفاظت کرتی ہیں لیکن اگر پلکوں کا کوئی بال ٹوٹ کر آنکھ میں گھس جائے تو پھر اشک بہنے لگتے ہیں اور اشک روکنے کے لئے بال کو آنکھ سے نکالنا تو پڑتا ہے۔

ظلم تو ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ بلاول بھٹو

بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ جو بھی فیصلہ ہوگا عوام کریں گے اور اس سے ملک کی سمت کا تعین ہوگا۔ ہم نے آئینی اور جمہوری جنگ لڑنی ہے۔ ایک ایک کرکے وہ تمام ادارے کھوکھلے کیے جارہے ہیں جو عوام کے حققوق کے ضامن تھے۔ ان تمام آوازوں کا گلا دبایا جارہا ہے جو عوام کے لیے اٹھتی ہیں۔ عدلیہ، میڈیا اور پارلیمنٹ کو گلا دبایا گیا ہے، مگر ظلم تو ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ اقتدار کی جنگ نہیں۔ یہ آئین اور جمہوریت کی جنگ ہے۔ جب غیرآئینی طریقے سے اقتدار پر شب خون مارا جاتا ہے تو ہر شہری اس سے متاثر ہوتا ہے۔ لوگوں سے بات کرنے، عزت سے جینے کا حق چھینا جاتا ہے۔ اس میں فیصلے چند لوگوں کیلئے کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ڈمی وزیراعلیٰ لگا کر پنجاب کو تباہ کردیا گیا ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، سندھ کے 300 ارب این ایف سی ایوارڈ سے روکے گئے ہیں اور اب کراچی کو الگ کرنے کی سازش چل رہی ہے۔ کے الیکٹرک عوام کا خون چوس رہی ہے اور عمران خان اپنے دوست کو نوازنے کیلئے خاموش ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ کے حق پر مزید ڈاکہ ڈالنے کی تیاری کی گئی ہے۔ رات کی تاریکی میں آئی لینڈ پر قبضے کا آرڈیننس جاری کردیا گیا۔ اس کے خلاف سندھ میں طوفان اٹھ رہا ہے۔ اس آرڈیننس کو واپس لو ورنہ سندھ اسمبلی اور سینیٹ میں قرارداد پاس کرکے اس آرڈیننس کو باہر پھینک دیں گے۔ یہ جزیرے ہمارے ماہی گیروں کے ہیں۔ کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔ ہم آپ کو قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔

نواز شریف نے کرداروں اور اداروں کے درمیان لیکر کھینچ دی۔ مریم نواز

مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے خطاب میں کہا کہ نواز شریف نے کرداروں اور اداروں کے درمیان لیکر کھینچ دی ہے۔ ہم پاکستان فوج کے سپاہیوں، شہیدوں اور ان کے لواحقین سلام پیش کرتے ہیں مگر عوام کے ووٹوں کو بوٹوں تلے کچلنے والوں کو سلام نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک یا دو افراد ادارے کو بدنام کرتے ہیں۔ وہ ادارہ نہیں ہوتے۔ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں چلنے والے ہر فوجی کو سب سلام کرتے ہیں۔ مگر عوام کے ووٹوں کو بوٹوں تلے کچلنے والوں کو سلام نہیں کریں گے۔ جو حکومتیں بناتے، گراتے، ووٹ چوری کرتے، منتخب وزیراعظم کو اقامہ پر نکالتے، عدالت سے اپنی مرضی کے فیصلے لیتے، میڈیا کو گلا دباتے، ان کو ہم سلام نہیں کرتے۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کہتا ہے سیاست میں دخل اندازی مت کرو، وہ کہتا ہے کہ عوام کی امانت میں خیانت مت کرو، کیا نواز شریف غلط کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے عوامی نمائندوں کی تضحیک مت کرو، کیا وہ غلط کہتا ہے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ اپنے حلف کی پاسداری کرو کیا وہ غلط کہتا ہے۔ قائداعظم نے بھی یہی کہا تھا۔ آج زندہ ہوتے تو ان پر بھی غداری کے فتوے لگاتے۔

انہوں نے کہا کہ جب ان نالائقوں سے جواب مانگا جاتا ہے تو کہتے ہیں غدار ہو۔ بابائے قوم کی بہن فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا تھا۔ یہ غداری والی کہانیاں نہ سناؤ۔ ہمیں پتہ ہے کن کن ملکوں سے پیسے لیے ہیں۔ اس لیے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 4 سال سے نہیں ہورہا۔ کب تک عدالتوں، میڈیا اور الیکشن کمیشن کو قابو کروگے۔ کسی دن زنجیریں ٹوٹیں گی۔ آپ کی کرپشن سامنے آئے گی تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کو مودی کا یار کہا جاتا ہے۔ مودی کی کامیابی کی دعائیں مانگو تم، بات کرنے کیلئے مرے جارہے ہو تم، راتوں رات کلبھوشن کیلئے آرڈیننس جاری کرو تم، کشمیر بھارت کو پیش کرو تم، سلامتی کونسل میں بھارت کو ووٹ دو تم اور مودی کا یار نواز شریف ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف دشمن واجپائی کو لاہور لایا جس نے مینار پاکستان پر کھڑے ہوکر پاکستان کو سلام کیا۔ نواز شریف نے جے ایف تھنڈر بنایا۔ موٹرویز بنائیں جس پر پاکستان کے جنگی طیارے اترتے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑی۔ سیاچن میں مورچوں میں کھڑے ہوکر جوانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ فوج کی تنخواہ بڑھائی، فوجی بجٹ میں اضافہ کیا۔

مریم نواز نے کہا کہ جب نا اہلی کا پوچھا جاتا ہے تو فوج کے پیچھے چھپ جاتے ہو، فوج کو اپنی نالائقی چھپانے کیلئے استعمال کرتے ہو، کیا فوج عمران خان کی نہیں۔ کیا فوج تحریک انصاف کی ہے۔ تمہیں کس نے ترجمان مقرر کیا ہے۔ پاکستان کی فوج سب کی ہے۔

ایسی جمہوریت چاہتے جس میں مسخ شدہ لاشیں نہ ملیں، اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوریت چاہتے ہیں مگر وہ جمہوریت جو مجھے ضمانت دے کہ میری ماؤں بہنوں کی عزت ہوگی۔ جس میں مسخ شدہ لاشیں نہ ملیں۔ جس میں بزرگوں کی پگڑیاں نہ اچھالی جائیں۔ جس میں مجھے برابر کا شہری سمجھا جائے۔

سرحد پر موجود ہر سپاہی کی قدر کرتے ہیں، محموداچکزئی

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہر اس سپاہی کی قدر کرتے ہیں جو ملک کے تحفظ کیلئے سرحد پر ڈیوٹی کرتا ہے مگر اس کی عزت کیسے کریں جو منتخب وزیراعظم کو پھانسی لگوا دیتا ہے۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس لیے جمع نہیں ہوئے کہ لوگوں کی ماں بہن کو گالیاں دیں، ہم بے روزگار بھی نہیں۔ ہم نے سوچ سمجھ کر پی ڈی ایم بنائی ہے۔ یہ قافلہ ایک نئے پاکستان کی تشکیل کیلئے جدوجہد کرے گا۔

محمود خان نے کہا کہ یہ ایسا پاکستان ہوگا جس کا خواب ساتھ میں آرام فرمانے والے ( قائداعظم) نے دیکھا تھا۔ قائد نے فرمایا تھا کہ یہاں مسلمانوں کی مملکت ہوگی۔ اس میں انصاف ہوگا۔ پارلیمنٹ اور آئین بالادست جبکہ اس میں رہنے والے لوگ خود مختار ہوں گے۔

بلوچستان کا مسئلہ گولی سے حل نہیں ہوسکتا۔ مالک بلوچ

نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین پارلیمنٹ کی بلادستی، انسانی سربلندی، قوموں اور طبقات میں برابری چاہتا ہے مگر سیکیورٹی اسٹیٹ بنیادی حقوق سے انکاری ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کثیرالقومی ملک ہے۔ اس حیثیت کو مانو، ریاست انکاری ہے۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پارلیمنٹ کے بجائے بندوق کو بالادست سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سیکیورٹی اسٹیٹ نے میڈیا اور عدلیہ کو مقید بناکر رکھا ہے۔ بلوچستان میں آپ 5 آپریشن کرچکے ہیں۔ فاٹا میں آپ کیا کر رہے ہیں۔ پختونخوا میں کیا کر رہے ہیں۔ ڈکٹیٹر نے بلوچستان میں آگ لگادی۔ اکبر بگٹی کے گھر پر حملہ کیا۔ وہ پہاڑوں میں چھپ گیا تو اس کو وہاں شہید کردیا گیا۔

عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ آئین اجازت نہیں دیتا کہ آپ لوگوں کو لاپتہ کرکے لاشیں پھینک دیں۔ آپ بلوچستان میں گولی سے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں لیکن گولیوں سے دوریاں اور نفرتیں بڑھ جاتی ہیں۔ بلوچستان میں مذاکرات کا سلسلہ نواز شریف نے شروع کیا تھا۔ اس کو آگے لیکر جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی پنجاب حکومت نے تمام پبلک یونیورسٹیوں میں بلوچستان کے طلبہ کیلئے کوٹہ رکھا تھا اور ان کے اخراجات بھی ادا کیے جارہے تھے۔ موجودہ حکومت نے یہ کوٹہ ختم کرکے بچوں کو نکال دیا۔ یہ انتہائی شرم کی بات ہے۔

ایک کروڑ نوکریوں سے بات مرغی اور انڈے پر آگئی، حیدرخان ہوتی

عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے رہنما امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ عمران سلیکٹڈ خان آپ نے ایمپائر کو ساتھ ملاکر دھرنا دیا تھا۔ ہم پاکستان کے عوام کو ساتھ ملاکر تحریک چلا رہے ہیں۔ ہم اسلام آباد آکر آپ سے کہیں گے کہ آپ نے گھبرانا نہیں۔

امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ سلیکٹڈ کہتا ہے کہ اب نیا عمران خان سامنے آئے گا۔ ہم نے نیا پاکستان دیکھ لیا۔ اب نئے عمران سلیکٹڈ خان بھی دیکھ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ کہتا تھا پاکستان کی معیشت ٹھیک کردوں گا۔ یہاں ڈالروں کا سیلاب، ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دیں گے۔ آخر میں کٹے، بکری، مرغی اور انڈوں پر آگئے۔

کشمیر فتح نہ کرسکے مگر اپنے ملک کو بار بار فتح کیا، ساجد میر

جمعیت اہلحدیث کے سربراہ حافظ ساجد میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کہا جاتا ہے اپوزیشن اپنی کرپشن چھپانے کیلئے تحریک چلا رہی ہے۔ اپوزیشن آپ کے چینی، گندم، بجلی، انڈے اور گیس چوروں اور بکسہ چوروں کے خلاف نکلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی نے وہ وقت دیکھا کہ فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا۔ ان کے سامنے اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو فتح کیا۔ کشمیر کو فتح نہ کرسکے مگر اپنے ملک کو بار بار فتح کیا۔

ساجد میر نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ پولنگ ایجنٹس کو دھکے دے کر باہر نکالا گیا۔ آر ٹی ایس بند کرکے نتائج تبدیل کیے گئے۔

بیلٹ کے ذریعے بلٹ کو شکست دیں گے۔ اویس نورانی

جمعیت علمائے پاکستان کے جنرل سیکریٹری اویس نورانے جلسے کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے۔ جو لوگ انتخابات کی رات ہار کر سوگئے تھے، صبح ان کو جگاکر بتایا گیا کہ پپو اٹھ جائیں، آپ جیت گئے ہیں۔

اویس نورانی نے کہا کہ اب پی ڈی ایم کے کارکنان اپنے ووٹ کی حفاظت کریں گے اور بیلٹ کے ذریعے بلٹ کو شکست دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے بعد کراچی کے لیے گرین لائن بس منصوبے کا تحفہ دیا۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت نے اس کو روک دیا کیوں کہ اس پر تختی نواز شریف کی لگی ہوئی ہے۔

تحریک انصاف کے کارکن بھی جلسہ گاہ میں موجود

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے باغ جناح میں منعقدہ جلسے میں تحریک انصاف کا ایک کارکن بھی موجود ہے جو مہنگائی اور بیروزگاری کے باعث حکومت سے مایوس ہوچکا ہے۔ جلسے میں شریک کارکن نے اپنا تحریک انصاف کا ممبرشپ کارڈ بھی اٹھایا ہوا ہے۔

میاں نواز شریف خطاب نہیں کریں گے

سماء ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف آج پی ڈی ایم کے کراچی میں ہونے والے جلسے سے خطاب نہیں کریں گے۔

مرکزی قیادت جلسہ گاہ پہنچ گئی

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے تمام مرکزی قائدین سمیت مقررین جلسہ گاہ پہنچ گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، بلاول بھٹو، محمود خان اچکزئی اور محسن داوڑ اسٹیج پر موجود ہیں اور انہوں نے ہاتھ ہلاکر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا۔

بلاول ہاؤس میں مشاورت

جلسہ گاہ آمد سے قبل مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز شریف بھی بلاول ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔ جہاں ضروری مشاورت کے بعد تینوں رہنما ایک ساتھ باغ جناح روانہ ہوں گے۔

کیپٹن صفدر کی مزار قائد پر نعرے بازے

Safdar Naray Kh

مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر نے مزار قائد پر حاضری کے دوران ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے اور ان کے ساتھ موجود کارکنوں نے بھرپور جواب دیا

نماز مغرب ادا

جلسہ میں شامل بعض لوگوں نے مغرب کی آذان ہوتے ہی پنڈال میں چادریں بچھا کر نماز ادا کی۔

مریم نواز کی سماء ٹی وی سے خصوصی گفتگو

مزار قائد پر حاضری کے بعد سماء ٹی وی کی عدیلہ انعام خان سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ قائداعظم مزارپر حاضری کے وقت جذباتی ہوگئی تھی۔ قائد نے کہا تھا کہ حکومت ووٹ سے آئے گی اور ووٹ سے جائے گی۔ ہمارا بیانیہ ان اصولوں پر مبنی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ کراچی کے عوام نے اُمیدوں سے بڑھ کر استقبال کیا۔ جتنی محبت ملی اب کراچی سے عمربھر کا رشتہ قائم ہوگیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی آصف زرداری سے ملاقات

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کراچی کے نجی اسپتال میں سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ جس میں اپوزیشن تحریک سمیت ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آصف زرداری کو چند دن قبل طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال داخل کیا گیا ہے۔

نواز شریف خطاب نہیں کریں گے

لندن سے نمائندہ سما کے مطابق شريف فيملی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف آج اتوار کو ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب نہیں کریں گے۔ نواز شریف کی جگہ ان کی صاحبزادی مريم نواز شریف خطاب کريں گی۔ مزار قائد پر حاضری کے بعد جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ پہنچیں گی۔

سیکیورٹی

جلسے کی سیکیورٹی کیلئے 6 ہزار اہل کاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پريڈی اسٹريٹ سميت ملحقہ شاہراہيں کنٹينر لگا کر بند کردی گئی ہیں۔ سيکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پوليس کے ساتھ رينجرز سیکیورٹی کے فرائض انجام دے گی۔

جلسہ گاہ

کراچی کے باغ جناح میں کرسیاں لگا دی گئی ہیں، جب کہ اسٹیج بھی سج گیا ہے، شرکا کے لیے ماسک جمع کرلیے گئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے باغ جناح جلسے کے انتظامات کا جائزہ لیا، اس موقع پر انہیں صوبائی وزیر سعید غنی نے بریفنگ بھی دی۔

ادھرصوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ کی طرح کراچی کا جلسہ بھی تاریخی ہوگا۔ پنڈال میں مختلف سياسی جماعتوں کے رہنماؤں کی تصويريں بھی آويزاں کردی گئی ہيں، جب کہ باغ جناح کو کنيٹنر لگا کر بند کرديا گيا ہے۔

کراچی جلسہ: متبادل راستوں کا اعلان

کراچی میں آج پی ڈی ایم کے جلسے کے پیش نظر ٹریفک کے متبادل راستوں کا اعلان کردیا گیا۔ جمشید روڈ اور تین ہٹی سے نمائش جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ شارع قائدین سے آنے والی ٹریفک نورانی سگنل سے آگے نہیں جاسکے گی۔

شہری گرومندر سے سولجر بازار، جمشید روڈ سے جیل فلائی اوور، نیو ٹاؤن اور طارق روڈ کا راستہ اختیار کرسکیں گے۔ علاوہ ازیں ناظم آباد اور تین ہٹی سے آنے والے ہیوی ٹریفک کو گرومندر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

جلسہ گاہ کا اسٹیج

کراچی میں ہونے والے باغ جناح کے جلسے کیلئے 180 فٹ لمبا، 60 فٹ چوڑا اور 20 فٹ اونچا اسٹیج تیار کیا گیا ہے۔ اسٹیج کے 3 حصے ہیں، مرکزی اسٹيج کا درميانہ حصہ 100 فٹ لمبا اور 20 فٹ اونچا ہے۔ اسٹیج پر پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین ہونگے۔ خواتین شرکاء جلسہ گاہ کے سب سے آگے حصہ میں ہونگی اور ان کیلئے راستہ بھی علیحدہ ہوگا۔ مرکزی اسٹیج کے ساتھ ہی دونوں اطراف 40 فٹ لمبائی اور 10 فٹ اونچائی والے 2 اسٹیج صوبائی اور ضلعی قیادت کیلئے مخصوص ہوں گے۔

وی وی آئی پیز کی شرکت

گراؤنڈ میں وی آئی پیز کیلئے داخلے اور ان کی گاڑیوں کی پارکنگ اسٹیج کے قریب رکھی گئی ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں سعید غنی نے بتایا کہ مرد شرکاء گراؤنڈ میں 3 داخلی راستوں، جب کہ میڈیا گراؤنڈ کے دوسری جانب سے مخصوص راستہ سے داخل ہوسکیں گے۔

سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ گراؤنڈ میں پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے والینٹرز متعین کئے جائیں گے، جن کو مخصوص کارڈز پہلے ہی جاری کردئے گئے ہیں۔ شرکاء کیلئے پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کیلئے گراؤنڈ میں مختلف مقامات پر سبیلیں لگائی گئی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube