Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

پیپلزپارٹی کا عام انتخابات میں گرتا گراف

SAMAA | - Posted: Oct 17, 2020 | Last Updated: 2 days ago
SAMAA |
Posted: Oct 17, 2020 | Last Updated: 2 days ago

سن 2008 کے بعد سیٹوں اور ووٹس میں ملسل کمی

پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں اپنی آخری وفاقی حکومت سن 2008ء میں بنائی تھی جس کے بعد ہونیوالے 2 عام انتخابات میں سیٹوں کے اعتبار سے پارٹی کا گراف وقت کے ساتھ نیچے آیا ہے۔

سن 2013ء میں پيپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر 229 اميدوار کھڑے کیے جن ميں سے صرف 34 کامياب ہوئے اور 45 دوسرے نمبر پر جبکہ 150 اميدوار تيسرے يا اس سے بھی نيچے کی پوزيشن پر رہے۔

پیپلزپارٹی کو پورے ملک سے ملنے والے ووٹوں کی تعداد 70 لاکھ 60 ہزار 574 رہی جو سن 2008ء کے مقابلے ميں 33.81 فیصد فيصد کم تھی۔ اسی اليکشن ميں پی ٹی آئی کو 75 لاکھ سے زائد ووٹ ملے تھے۔

صرف قومی اسمبلی ميں ہی نہیں بلکہ صوبائی نشستوں پر بھی پیپلز پارٹی کی کامیابی پہلے کی نسبت کم رہی۔ پنجاب ميں 55.45 فیصد، سندھ ميں 8.45 فیصد، خیبرپختونخوا ميں 15.93 فیصد اور بلوچستان ميں 68.72 فیصد  ووٹ کم ملے۔

اس کے بعد سن 2018ء کے عام انتخابات میں پيپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کیلئے 247 اميدواروں کو ٹکٹ ديا، جن ميں سے صرف 43 کو کاميابی ملی اور 18 اميدوار دوسری پوزيشن پر رہے جبکہ 186 اميدوار کوئی خاص پوزیشن لینے میں ناکام رہے۔

پارٹی نے 69 لاکھ 26 ہزار 875 ووٹ حاصل کیے جو الیکشن 2013ء کے مقابلے ميں تقريباً 2 فيصد کم تھے۔ پی ٹی آئی نے 2013 کے اليکشن میں ايک کروڑ 60 لاکھ سے زائد ووٹ لئے تھے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب ميں بھی پیپلز پارٹی 28 فیصد کم ووٹ حاصل کرسکی۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سن 2018ء کے انتخابات ميں پہلی مرتبہ میدان میں اترے تھے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی 3 نشستوں سے اليکشن لڑا لیکن کاميابی صرف ايک پر ملی جو لاڑکانہ والی سیٹ تھی، وہ پيپلز پارٹی کا گڑھ سمجھے جانیوالے لياری اور مالاکنڈ کی نشستوں سے الیکشن ہار گئے تھے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube