Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

قبائلی علاقے: بارودی سرنگیں کب تک جانوں سےکھیلتی رہیں گی؟

SAMAA | - Posted: Oct 16, 2020 | Last Updated: 4 days ago
SAMAA |
Posted: Oct 16, 2020 | Last Updated: 4 days ago

Landmine

تحریر: اسلام گل آفریدی

زر بی بی گذشتہ برس نومبر کی ایک شام اپنے گھر سے ایندھن کے لئے لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لئے نکلیں لیکن وہ اپنے پاؤں پر چل کر واپس نہیں آئیں۔

نیوز ویب سائٹ سجاگ کی ایک رپورٹ کے مطابق زر بی بی اپنے گھر کے پاس ایک پہاڑ پر لکڑیاں کاٹ رہی تھیں تو ان کا پاؤں ایک بارودی سرنگ پر آ پڑا جس سے ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یوں لگا جیسے انہیں زوردار دھکا دیا گیا ہو۔ کئی گھنٹوں کی بے ہوشی کے بعد جب ان کی آنکھ کھلی تو وہ پشاور کے کمبائنڈ ملٹری اسپتال میں پڑی تھیں اور ان کا دایاں پاؤں کٹ چکا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب زندگی بھر کی معذوری ان کا مقدر بن گئی چکی ہے۔

تیس سالہ زر بی بی خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ جس بارودی سرنگ نے انہیں زخمی کیا تھا وہ ایک ایسے سکیورٹی چیک پوائنٹ کے پاس گڑی ہوئی تھی جسے 2018 میں ختم کر دیا گیا تھا۔ انہیں شکوہ ہے کہ سکیورٹی حکام کی جانب سے مقامی آبادی کو بارودی سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں کبھی آگاہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اطلاع ہوتی کہ چیک پوائنٹ کے آس پاس سرنگیں ہوسکتی ہیں تو میں وہاں کبھی نہ جاتی۔

یہ بارودی سرنگیں پاک افغان سرحد پر واقع ان تمام علاقوں میں ایک سنگین لیکن پوشیدہ خطرہ بنی ہوئی ہیں جہاں پچھلی دو دہائیوں میں مذہبی عسکریت پسند گروہوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم ہوتے رہے ہیں۔ ان کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

جنوبی وزیرستان کی تحصیل سراروغہ کے اللہ نور محسود کی 12 سالہ بیٹی فاطمہ ان میں سے ایک ہیں۔ گذشتہ برس 20 جولائی کو وہ اپنے گھر کے پاس کھیل رہی تھیں کہ ان کا پاؤں ایک بارودی سرنگ پر پڑ گیا جس سے ہونے والے دھماکے میں ان کا دایاں پاؤں اتنا شدید زخمی ہوگیا کہ بعد میں پشاور کے ایک ہسپتال میں اسے کاٹنا پڑا۔

دھماکے کے وقت فاطمہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھیں مگر اس کے بعد وہ دوبارہ اسکول نہیں جا سکیں۔ ان کے والد کو یہ بھی گلہ ہے کہ ان کی بیٹی کے علاج کے لیے سیکیورٹی حکام نےان کی کوئی مالی مدد نہیں کی۔

سیکیورٹی اداروں نے یہ سرنگیں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لئے بچھائی تھیں ابتدائی طور پر انہیں پہاڑوں کی بے آباد چوٹیوں پر گاڑا گیا تھا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بارشوں اور برف باری کی وجہ سے یہ لڑھکتی لڑھکتی نشیبی علاقوں میں آگئی ہیں جہاں یہ اکثر کھیل کود کے دوران بچوں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔

پانچویں جماعت کے طالب علم محمد نعمان بھی سن 2018  کی ایک شام کو ایک بارودی سرنگ کو کھلونا سمجھ کر گھر لے آئے اور اس کو چھری سے کھولنے لگے جس سے ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف ایک ہاتھ بلکہ دونوں آنکھوں سے بھی محروم ہو گئے۔

ضلع کرم کے رہنے والے محمد نعمان کے والد کو آج بھی پورا واقعہ اچھی طرح یاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کمرے میں شام کا کھانا کھا رہے تھے کہ دھماکے کی آواز آئی۔ جب ہم باہر نکلے تو ہر طرف دھواں تھا اور نعمان زمین پر زخمی پڑا تھا۔

سرکاری سطح پر ان بارودی سرنگوں کے دھماکوں کا ریکارڈ کسی ایک جگہ اکٹھا نہیں کیا جاتا لیکن ضلع باجوڑ میں خصوصی افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن حضرت ولی شاہ بتاتے ہیں کہ ان کے ضلع میں محکمہ سماجی بہبود کے ساتھ 4 ہزار 600 معذور افراد رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان میں ایک ہزار 600 سے زائد افراد ایسے ہیں جو مختلف بم دھماکوں یا بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات میں معذور ہوئے ہیں۔

فوٹو: اے ایف پی

اسی طرح جنوبی وزیرستان کے ایک سماجی کارکن حیات پریغل کہتے ہیں کہ سن 2008 سے لے کر سن 2015 تک ان کے ضلع میں رہنے والے محسود قبائل کے علاقے میں بارودی سرنگیں پھٹنے کے 150 سے زائد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان کے مطابق ان واقعات میں 3 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 11 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے جبکہ 200 کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں سے 15 کی آنکھیں ضائع ہوگئی ہیں۔ کچھ سرکاری اعداد و شمار ان کے مشاہدات کی تصدیق کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وہ تمام اضلاع جو سن 2018 میں صوبے میں ضم ہونے سے پہلے قبائلی ایجنسیاں تھے ان میں کام کرنے والے ڈائریکٹوریٹ برائے سماجی بہود کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں تو معذور افراد کی تعداد 10 فیصد ہے لیکن ان اضلاع میں یہ تعداد 15 فیصد ہے جس کی بنیادی وجوہات بم دھماکے، بارودی سرنگیں اور پولیو ہیں۔

اس کے باوجود بارودی سرنگوں کا شکار ہونے والے افراد کے علاج کے لیے قبائلی اضلاع میں خاطر خواہ سہولیات میسر نہیں لہذا انہیں اکثر پشاور، اسلام آباد یا لاہور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر جب ضلع باجوڑ  کی 30 سالہ رہائشی ثمینہ بی بی کا ایک پاؤں بارودی سرنگ پھٹنے سے ضائع ہو گیا تو انہیں علاج سے لے کر مصنوعی پاؤں کی تلاش تک ہر کام کے لئے پشاور جانا پڑتا تھا حالانکہ انہیں سفر خرچ کے لئے اکثر قرض لینا پڑتا تھا۔

اگرچہ اِن بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے لیکن فروری 2018 میں پختون تحفظ موومنٹ بننے کے بعد مقامی لوگ نہایت زور شور سے ان کی جلد از جلد صفائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے رکن صوبائی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکن میر کلام وزیر نے اپنی گفتگو کے دوران بتایا کہ قبائلی اضلاع میں بارودی سرنگوں کی موجودگی سے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کو بھی خطرات لاحق ہیں لہذا ان کی صفائی بہت ضروری ہے۔

رواں سال 10 جون کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں انہوں نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس بھی جمع کرایا تاکہ وہ حکومت کو قبائلی اضلاع میں بارودی سرنگوں کی صفائی کرنے اور ان کے متاثرین کے علاج اور بحالی کے لئے ضروری اقدامات کرنے کا کہہ سکیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ دو ماہ سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود اس نوٹس کو اسمبلی کے ایجنڈا میں شامل نہیں کیا گیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube