Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

اورماڑہ: کوسٹل ہائی وے پرفائرنگ، 7سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 14افراد شہید

SAMAA | - Posted: Oct 15, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 15, 2020 | Last Updated: 2 months ago

بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردوں کی فائرنگ میں 7 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 14 افراد شہيد ہوگئے۔ سیکیورٹی حکام نے واقعے کی تصدیق کردی۔

جمعرات کو پیش آنے والے واقعے میں مکران کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے آئل اینڈ گیس کمپنی (او جی ڈی سی ایل) کی سیکیورٹی پر مامور 7 ایف سی اہلکار اور 7 سیکیورٹی گارڈز شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب او جی ڈی سی ایل کا قافلہ گوادر سے کراچی جارہا تھا، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو مؤثر جواب دیا، جھڑپ میں دہشت گردوں کا کافی نقصان ہوا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کو باحفاظت روانہ کردیا، شرپسند عناصر بلوچستان کے امن، معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں، اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ایسی حرکتوں سے ہماری فورسز کے عزم کو ختم نہیں کیا جاسکتا، فورسز اپنی جان کی قیمت پر بھی وطن کے دفاع کیلئے پُرعزم ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونیوالوں میں صوبیدار عابد حسین (لیہ)، نائیک محمد انور (سبی)، لانس نائیک افتخار احمد (ڈیرہ غازی خان)، سپاہی محمد نوید (چکوال)، لانس نائیک عبداللطیف (پشین)، سپاہی محمد وارث (میانوالی)، سپاہی عمران خان (لکی مروت)، حوالدار (ر) سمندر خان (لکی مروت)، فواد اللہ (لکی مروت)، عطاء اللہ (ڈیرہ اسماعیل خان)، عبدالنافع (کوہاٹ) شاکر اللہ (کوہاٹ)، عابد حسین (بنوں) اور وارث خان (ٹانک) بھی شامل ہیں۔

دہشت گردی کا واقعہ کوسٹل ہائی وے پر ٹاپ کے مقام پر پیش آیا۔ دہشت گردی کے واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ حکام کے مطابق اورماڑہ سے کراچی کی طرف جانے والی تیل کی کمپنی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔

لیویز حکام کے مطابق حملہ اس وقت کیا گیا جب او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کی حفاظت کیلئے سیکیورٹی فورسز کی دو گاڑیاں ساتھ جارہی تھیں۔دہشت گردوں کے حملے میں سییکورٹی قافلے میں موجود ایک گاڑی کو بھی آگ لگ گئی۔

یہ بھی پڑھیں : شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کادھماکا، افسر سمیت 6فوجی شہید

واقعے میں زخمی ہونیوالوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی گرفتاری کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔

بلوچ مسلح گروپ بی آر اے ایس (بلوچ راجی اجوئی سنگر) نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

وزیراعظم عمران خان نے اورماڑہ حملے پر کی مذمت اور سیکیورٹی اہلکاروں اور گارڈز کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی

 وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعے کو افسوسناک اور بزدلانہ عمل قرار دیتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

جام کمال نے مزید کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور حملے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube