Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

پاک بھارت جنگ کے امکانات بہت زیادہ ہیں، صدر آزادکشمیر

SAMAA | - Posted: Oct 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago

کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے

آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کہتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ کے امکانات اب بہت زیادہ ہیں اور ہمیں ہندوتوا کے خلاف بھرپور طریقے سے مخالفت کرنی ہوگی۔

لاہور سینٹر فار پیس اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام ویبینار سے خطاب میں آزاد کشمیر کے صدر کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہوگا اور پاکستان کسی بھی حال میں کشمیر حاصل کرکے رہے گا۔

سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا میں کہیں بھی ایٹمی جنگ ہونی ہے تو وہ جنوبی ایشیا کے خطے میں ہوگی کیونکہ کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔

بھارتی قبضے میں کشمیریوں پر جبر کے موضوع پر ہونے والے ویبینار سے خطاب میں سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کے پامالی خصوصی طور پر عورتوں پر مظالم کے خلاف دنیا بھر کے طرح اب بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے میں اضافہ ہوا ہے۔

شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ ان مظالم کے خلاف آواز اٹھنے کی ایک وجہ مودی حکومت کی ہندوتوا پالیسی ہے۔ بھارت میں بھی لوگوں نے اب ہندوتوا پالیسی کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور روشن خیال ہندو بھی اب ہندوتوا سوچ کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی طاقتیں بھی کشمیر کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جو ایک بڑی ناکامی ہے۔

سیمینار کے ماڈریٹر اور لاہور سینٹر فار پیس اینڈ ریسرچ کے چئیرمین سابق ایمبیسیڈر شمشاد احمد نے ویبینار کا آغاز اس جملے سے کیا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ہندوتوا سوچ کی عکاس ہے۔

سیمینار سے جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے صدر ڈاکٹر نذیر حسین کا کہنا تھا کہ جنگ لازمی ہے۔ اگر جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ ہوئی تو یہ کشمیر کی عوام اور بھارت کے درمیان ہوگی۔

مقبوضہ کشمیری میں جاری آزادی کی جنگ لڑنے والے اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ چئیرمین یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک کا کہنا تھا کہ کشمیر کا حالیہ اسٹیٹس مودی کی انتخابی مہم کا حصہ تھی اور یہ واضح تھا کہ بھارت اب ہندوتوا کے عمل پر چلے گا۔

پیس اینڈ کلچر آرگنایزیشن کی چئیرمین مشعال مالک کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اگست میں کیے جانے والا بھارتی قدم کشمیر میں جاری آزادی جنگ لڑنے والوں کے خلاف ایک بھرپور محاز ہے اور اس کے نتائج مستقبل میں بھی اچھے نہیں ہونگے۔

مشعال ملک نے کشمیر میں جاری مظالم کے بارے میں بتایا کہ مسلمانوں کی جائیداد کے کاغذات تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ مسلمان آبادی کو اقلیتی آبادی میں تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور وہاں موجود بیوروکریسی کو دہلی کی جانب سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ دہلی حکومت مقامی افراد سے تمام اختیارات لیکر دہلی کے لوگوں میں منتقل کررہی ہے۔

مشعال کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات ہندوتوا سوچ کے باعث ہیں۔ آر ایس ایس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پابندی لگوانے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ بھارت کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کے قتل کی آزادانہ تحقیقات کے لیے ایک وفد بھیج کر اس کی غیرجانبدار تحقیقات کرے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube