Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

شمالی وزیرستان میں پہلی مرتبہ خواتین کا دھرنا

SAMAA | - Posted: Oct 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں خواتین نے پہلی مرتبہ گھروں سے نکل کر مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیا ہے۔ خواتین کے دھرنے کے باعث مرکزی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی جبکہ مقامی افراد نے دھرنے کے مقام پر شامیانے لگاکر خواتین کیلئے پردے کا انتظام کیا ہے۔

شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں علاقہ محمد خیل میں سیکیورٹی فورسز نے رات کو گھروں میں داخل ہوکر درجن سے زائد افراد کو اٹھاکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا، جنہیں آج تک رہا نہیں کیا گیا۔

محسن داوڑ نے کہا کہ اس چھاپوں کے دوران خواتین کے زیورات اور مردوں کے موبائل فون بھی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار لے گئے جنہیں آج تک واپس نہیں کیا گیا۔ علاقے کی خواتین نے اپنے زیورات اور دیگر قیمتی سامان کی واپسی کے لیے دھرنا دیا ہے۔

دھرنے کے منتظمین نے مطالبات پر مبنی ایک چارٹرر پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف ناخوشگوار واقعات کے بعد قوم ملخ کے 28 افراد کو سیکیورٹی فورسز نے اٹھایا ہے انہیں فوری رہا کیا جائے۔

گزشتہ ماہ ناخوشگوار واقعے کے بعد قوم ملخ سے چوری کیا گیا سامان بشمول زیورات اور موبائل فون واپس کیے جائیں اور اس عمل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

چونکہ پولیس کا دائرہ قبائلی اضلاع تک وسیع کردیا گیا ہے۔ اس لیے قانون کے مطابق آئندہ علاقے میں فوج لوگوں کو گرفتار نہیں کرے گی۔ یہ قانون کے مطابق پولیس کی ذمہ داری ہے۔

گزشتہ ماہ سیکیورٹی فورسز کی حراست میں 18 سال کا نوجوان اسراراللہ جاں بحق ہوگیا تھا۔ اس کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

عوامی ورکرز پارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم شمالی وزیرستان کے گاؤں محمد خیل گاؤں میں سیکیورٹی فورسز کے مظالم کے خلاف احتجاجی دھرنا دینے والی اپنی بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ رات کے اندھیرے میں سرچ آپریشن کے نام پر گھروں سے عورتوں کے زیورات غائب کئے گئے اور جبری طور پر پچیس سے زیادہ افراد کو اُٹھایا تھا، جن کو تا حال رہا نہیں کیا گیا اور نہ ہی زیورات واپس کئے گئے۔

عوامی ورکرز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ جو پچیس سے زیادہ آدمی اغوا کئے گئے ہیں، انہیں رہا کیا جائے، اور جولاکھوں کی مالیت کا جو زیورات اٹھائے ہیں، وہ بھی واپس کر دئیے جائیں۔ سیکوریٹی کے نام پر عوام کی ہراسانی اور اجتماعی سزاوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube