Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

ٹو فنگرٹیسٹ آئینی حقوق پامال کرتاہے،وزارت انسانی حقوق

SAMAA | - Posted: Oct 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: آن لائن

لاہور ہائی کورٹ نے ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین کے ’’ورجنیٹی ٹیسٹ‘‘ پر پابندی کے لیے آئینی درخواست پر سماعت کی جس میں لیگل افسران کی جانب سے عصمت درری اور ریپ کا شکار خواتین کے ’’ہائمن ٹیسٹ‘‘ اور ’’ٹو فنگر ٹیسٹ‘‘ ختم کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔

وزارت انسانی حقوق نے لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا کیس (ڈبلیو پی۔ 13537/2020) مارچ 2020 میں درخواست دائر کی تھی۔

لیگل افسران نے عدالت سے درخواست کی کہ دنیا بھر کی وزارت انسانی حقوق اور ریاستوں کی جانب سے ٹو فنگر ٹیسٹ (ٹی ایف ٹی) کو ختم کردیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس دیگر ثبوتوں پر انحصار رکھا جارہا ہے۔

درخواست میں اعلیٰ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ورجنیٹی ٹیسٹ طبی اعتبار سے ناقابل اعتماد ہے اور اس کی کوئی ٹھوس سائنسی بنیاد نہیں۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ورجنیٹی ٹیسٹ نا صرف خواتین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے بلکہ یہ ٹیسٹ خواتین کے لیے تضحیک آمیز ہے۔

درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک نے کی جس کی مزید سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ میں یہ درخواست صدف عزیز، فرح ضیا سمیت دیگر سماجی خواتین کارکنوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ جس میں ریپ کا شکار بننے والی خواتین کے ورجنیٹی ٹیسٹ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں لاہور ہائی کورٹ نے ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین کے ’ورجنیٹی ٹیسٹ‘ پر پابندی کے لیے آئینی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت دیگر اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube