Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

کلبھوشن عدالت آئیگا توتحفظ کا معاملہ دیکھ سکیں گے،عدالت

SAMAA | - Posted: Oct 6, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Oct 6, 2020 | Last Updated: 1 year ago

فائل فوٹو

 بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیلئے وکیل مقرر سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن عدالت آئے گا تو ہی اس  زندگی کے تحفظ کا معاملہ دیکھ سکیں گے۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل نے بھارت کے 4 اعتراضات سے بھی عدالت کو آگاہ کردیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ کلبھوشن یادیو کیلئے وکیل مقرر کرنے کی حکومتی درخواست پر دوپہر 2 بجے کیس کی سماعت کا آغاز ہوا۔

آج ہونے والی سماعت میں وفاقی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل نے بھارت اور کلبھوشن یادیو کے جواب سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا اپنے طور پر کلبھوشن کو وکیل دینے سے عالمی عدالت کے فیصلے پر موثر عملدرآمد ہو گا؟۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کلبھوشن کے کیس میں معاونت طلب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کی نظیروں کی روشنی میں معاونت کی جائے، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی معاونت کے لئے 3 سے 4 ہفتے کا وقت  درکار ہے۔

اٹارنی جنرل نے بھارت کے 4 اعتراضات سے متعلق بھی عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں چاہتا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے ایک انسانی جان کا مسئلہ ہے، بھارت وکیل دینے سے گریزاں ہے اور ہم نے فئیر ٹرائل کے تقاضے دیکھنے ہیں۔ کیا بھارت اور کلبھوشن کی مرضی کے بغیر وکیل فراہم کرنا مؤثر ہو گا؟۔ کیا عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کی ایسی روایات موجود ہیں؟۔

جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے میں عدالت کی معاونت کر سکتے ہیں، پاکستان پر ایک ذمہ داری تھی کہ وکیل تک رسائی دی جائے۔ پاکستان نے اپنی ذمہ داری نبھانے کی پوری کوشش کی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عالمی عدالت انصاف کی کچھ ایسی ہی نظیریں ضرور موجود ہوں گی۔ کیا عالمی عدالت انصاف کی کچھ ایسی ہی نظیریں پیش کی جا سکتی ہیں؟ عالمی عدالت انصاف کے کیس لاء کو دیکھ کر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہاں کیس کی پیروی کرنے سے بھارت کی خودداری متاثر نہیں ہو گی۔ یہ صرف عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت صرف اس معاملے کر سیاست کی نذر کرنا چاہتا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم اِس موقع پر بھارت کی نیت پر کوئی شک نہیں کر رہے۔ ہو سکتا ہے بھارت کی ہچکچاہٹ کی وجوہات کچھ اور ہوں۔ کیا گزشتہ سماعت کا حکمنامہ کلبھوشن کو فراہم کیا گیا ؟ ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے کلبھوشن یادیو کو فیصلے کی کاپی فراہم کر دی تھی۔ جس پر عدالت نے کہا کہ یہ بھارتی حکومت کا نہیں ایک بھارتی شہری کی زندگی کا معاملہ ہے۔ کیس کی سماعت 9 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

دوسری جانب سینیر وکلاء مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی۔

عدالت عالیہ نے سینیر وکیل عابد حسن منٹو اور مخدوم علی خان کو کلبھوشن کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔ دونوں نے عدالت میں جمع جواب میں یہ ذمہ داری نبھانے سے معذرت کرتے ہوئے جواب عدالت میں جمع کرادیا۔ اپنے جواب میں عابد حسن منٹو نے خراب صحت اور مخدوم علی خان نے پیشہ وارانہ وجوہات کا جواز بنایا ہے۔

عابد منٹو نے مؤقف اپنایا ہے کہ اپنی عمر اور جسمانی کمزوری کے باعث عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہوں۔ کچھ سال قبل وکالت سے ریٹائر بھی ہوچکا ہوں۔ عدالت معذرت قبول کرے۔

مخدوم علی خان کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے معاون مقرر کیا جانا باعث فخر ہے لیکن پیشہ ورانہ وجوہات کی بنیاد پر معاونت نہیں کرسکتا۔ واضح رہے کہ وزارت قانون نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں وکیل مقرر کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube