Monday, October 19, 2020  | 1 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

کوئی مجھ سے استعفیٰ مانگتا تو اسے فارغ کردیتا، وزیراعظم

SAMAA | - Posted: Oct 1, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago
Posted: Oct 1, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی مجھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے تو انہیں فارغ کر دیتا، مجھ سے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو اُسے معزول کر ديتا، منتخب وزیراعظم ہوں، کس کی جرأت ہے کہ مجھ سے استعفیٰ مانگے، پاک فوج جمہوری حکومت کے پیچھے کھڑی ہے، نواز شریف باہر بیٹھ کر اداروں کیخلاف مہم چلا رہے ہیں، کوئی شک نہيں کہ ان کے پيچھے بھارت ہے، وہ مجرم ہیں انہیں واپس لانے کا منصوبہ بنالیا۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے، پاک فوج نہ ہوتی تو ملک کے 3 ٹکڑے ہوچکے ہوتے، حکومت چھوڑنے کو تیار ہوں، انہیں این آر او نہیں دوں گا۔

وزیراعظم عمران خان نے سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ماضی میں آرمی چیف کی غلطیوں پر پوری فوج کو برا بھلا کہنا ہے، کسی جج نے غلط کیا تو پوری عدلیہ کو غلط کہنا ہے، سیاستدان نے غلط کیا تو کیا سب کو برا بھلا کہنا ہے، ماضی کے غلط فیصلوں سے سبق سیکھنا چاہئے، فوج کا کام حکومت چلانا نہیں، ہماری عدلیہ اور فوج میں کافی تبدیلی آچکی ہے۔

ایک سوال کہ ایسا تاثر ہے کہ وزیراعظم عمران خان ہیں لیکن اصل کردار پیچھے فوج ادا کررہی ہے؟، پاک فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں فوج اور حکومت کے تعلقات تاریخی ہیں، پاکستان کی فوج مکمل طور پر جمہوری حکومت کے پیچھے کھڑی ہے، ہمارا ہمیشہ سے مؤقف رہا کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں، امریکا کی جنگ میں نہیں پڑنا چاہئے، لیکن جب پڑ گئے تو کہا کہ ضرورت پڑنے پر طاقت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، آج پاکستانی فوج میری پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے میں بھی فوج ساتھ رہی، بھارتی پائلٹ پکڑا جسے واپس کرنے کا فیصلہ کیا تو پاک فوج ہمارے ساتھ کھڑی تھی، کوئی ایک موقع بتادیں کہ جب جمہوری حکومت کے فیصلے کے ساتھ فوج کھڑی نہ ہوئی ہو۔

تفصیلات جانیے : ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں، نواز شریف

عمران خان نے الزام لگایا کہ نواز شریف کبھی بھی جمہوری نہیں رہے، انہیں جنرل جیلانی، ضیاء الحق نے پالا، نواز شریف کو منہ پر چوسنی لگا کر سیاستدان بنایا گیا، یہ پھل کے ٹوکرے ڈی سی کے کمرے کے باہر رشوت دیتے تھے، آج یہ سپر ڈیموکریٹ بن گئے ہیں، نواز شریف کو ہمیشہ دوسروں سے مسائل رہتے ہیں، پہلے صدر غلام اسحاق خان پھر جنرل آصف نواز سے مسئلہ ہوا، بعد میں اپنے لگائے گئے جنرل پرویز مشرف، جنرل راحیل شریف اور اب قمر جاوید باجوہ سے بھی مسائل ہیں، مجھے فوج سے کوئی مسئلہ کیوں نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ چوری کرنے آتے ہیں، ہماری ایجنسیز آئی ایس آئی اور ایم آئی ورلڈ کلاس ہیں، انہیں ان کی چوریوں کا پتہ چل جاتا ہے، یہ لوگ عدلیہ سمیت سول اداروں کو کنٹرول کرلیتے ہیں، جب جسٹس سجاد علی شاہ کو قابو نہیں کرسکے تو ڈنڈوں سے حملہ کیا، باقی عدلیہ کو ملانے کیلئے بریف کیس دیئے، ان کی لڑائی ہمیشہ سے یہی رہی کہ فوج کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔

وزیراعظم نے نواز شریف کے بیان پر کہا کہ جنرل ظہیرالاسلام پر استعفیٰ کی دھمکی دینے کا الزام لگاتے ہیں، آپ وزیراعظم ہو ان کی کیا جرأت کہ آپ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرے ۔ ندیم ملک نے سوال کیا کہ اگر آپ کو استعفیٰ کا کہا جائے تو آپ کیا کریں گے؟۔ جس پر عمران خان نے کہا کہ میں ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کروں گا، میں جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم ہوں، کس کی جرأت ہے کہ مجھے آکر استعفیٰ کا کہے۔

انہوں نے نواز شریف کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف سری لنکا میں تھے ان کے پیچھے جنرل ضیاء الدین کو آرمی چیف بنادیا، اگر میری معلومات کے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو میں اسے سامنے بلاکر عہدے سے ہٹا دیتا، میں اتنا بزدل آدمی نہیں ہوں، یہ لوگ اس ملک کو چلانے نہیں مال بنانے آتے ہیں، انسان کی سب سے بڑی طاقت جسمانی نہیں اخلاقی ہوتی ہے، اسی اخلاقی طاقت سے حکومت چلتی ہے، یہ امیر المومنین بن کر تمام اداروں کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے، ان کا سیاسی مائنڈ سیٹ نہیں ہے، جمہوریت میں لیڈر شپ جوابدہ ہے، یہ جواب نہیں دینا چاہتے۔

ندیم ملک نے سوال کیا کہ آپ باس ہیں یا جنرل باجوہ؟، جس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فوج حکومت کا ایک ادارہ ہے، میرا کام ہے گورننس چلانا، جہاں بھی ضرورت پڑے گی اداروں کو استعمال کروں گا، پوری دنیا میں فوج ایک اہم ادارہ ہوتا ہے، فوج سیکیورٹی معاملات پر سیاسی قیادت سے بات کرتی ہے، جہاں ضرورت پڑتی ہے فوج سے مشورہ لیا جاتا ہے اور لیا جانا چاہئے، کسی بھی ملک جانا ہو تو دفتر خارجہ بریفنگ دیتا کہ ان سے کیسے تعلقات ہیں اور وہاں کیا حالات ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ نواز شریف بہت خطرناک کھیل، کھیل رہا ہے، یہی الطاف حسین نے کھیلا تھا، بھارت نواز شریف کی مدد کررہا ہے، امریکا میں بیٹھا حسین حقانی باہر بیٹھ کر فوج کیخلاف مہم چلاتا ہے، پاکستان میں نادان لبرلز بھی فوج کیخلاف ہیں، لیبیا، شام، عراق، افغانستان اور یمن کا حال دیکھیں، ہم صرف پاکستانی فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں، بھارتی تھنک ٹینک کھلے عام کہتے ہیں پاکستان کو توڑنا ہے، کچھ لوگ فوج کو کمزور کرنے کیلئے مہم چلاتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں واحد ڈیمو کریٹ ہوں جو کسی فوجی نرسری میں نہیں پلا، سیاسی اور جمہوری طریقے سے الیکشن جیت کر آیا ہوں۔

آرمی چیف کی گلگت بلتستان کے معاملے پر سیاسی رہنماؤں سے ملاقات اور اس میں وزیراعظم کا موجود نہ ہونے کے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھ سے پوچھ کر جنرل قمر جاوید باجوہ نے میٹنگ کی، اس کا ایک خاص مقصد تھا، گلگت بلتستان میں بھارت کافی متحرک ہے، آرمی چیف نے تمام جماعتوں کو موجودہ اور آئندہ سیکیورٹی کے حوالے سے حالات سے آگاہ کیا، جہاں بھی سیکیورٹی ایشوز آتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ فوج آکر واضح کرے، فوج کے پاس اس کی صلاحیت ہے، سول اداروں کے پاس نہیں، ابتدائی طور پر گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کے اندر انتشار پھیلائے، شیعہ سنی کی لڑائی کرائے، بھارت نے شیعہ اور سنی علماء کو قتل کرنے کا بھی منصوبہ بنایا جسے ایجنسیوں نے ناکام بنادیا، اسلام آباد سے 2 دہشت گرد گروپ پکڑے گئے۔

بی جے پی حکومت سے متعلق انہوں نے کہا کہ پہلے کبھی بھارت میں اتنی پاکستان مخالف حکومت نہیں آئی، ہم دوست بنانے کی پوری کوشش کررہے ہیں، مگر یہ نظریاتی طور پر پاکستان کے وجود کیخلاف ہیں، ان سے بہت بڑا خطرہ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ نواز شریف ملک میں فتنہ پھیلا رہے ہیں، وہ جھوٹ بول کر پاکستان سے باہر گئے، ہمیں بتایا گیا کہ انہیں باہر نہ بھیجا تو وہ کسی بھی وقت مر جائیں گے، ہمیں خوف ہوگیا تھا کہ نواز شریف کا اتنا برا حال ہے کہ یہ جہاز کی سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ پائے گا، عدالتوں نے بھی کہا کہ انہیں کچھ ہوگیا تو حکومت ذمہ دار ہوگی، ہم نے عدالت کو ان سے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈ مانگنے کا کہا تھا، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے انہیں مدد ملی، جن عدالتوں سے ریلیف ملا وہ آج انہی پر حملے کررہے ہیں، وہ پہلے بھی پرویز مشرف کے ساتھ معاہدہ کرکے سعودی عرب گئے، نواز شریف بغیر پشت پناہی کے کچھ نہیں کرسکتا، وہ اپنا پیسہ بچانے کیلئے پاکستان کو بھی داؤ پر لگادے گا، یہ دوسرا الطاف حسین بن گیا ہے۔

مزید جانیے : نوازشریف بانی متحدہ کی فوٹو کاپی ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

احتجاج کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ میں کسی پرچی پر وزیراعظم نہیں بنا، مجھے فرق نہیں پڑتا، یہ جو چاہیں کرلیں،  یہ باہر بیٹھ کر فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کا مقصد دباؤ ڈال کر این آر او لینا ہے، پرویز مشرف نے اپنی طاقت بچانے کیلئے این آر او دیا، اگر مجھے کہا گیا کہ طاقت بچائیں یا این آر او دیں تو میں اقتدار چھوڑنے کو ترجیح دوں گا۔

وزیراعظم کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کا یہ فیصلہ کن وقت ہے ہمیں سوچنا ہوگا کہ اوپر جانا ہے یا نیچے آنا ہے، ملک کے تمام ڈاکو اکٹھے ہوگئے ہیں، ان کا مقصد صرف اپنا پیسہ بچانا ہے، انہیں پتہ ہے کہ میں این آر او نہیں دونگا، یہ عدلیہ، نیب اور فوج پر دباؤ ڈال کر این آر او لینا چاہتے ہیں، اگر ملک چوروں کیخلاف کھڑا ہوگیا اور دباؤ برداشت کرلیا تو پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی، ملک چوری سے نہیں اخلاقیات سے تباہ ہوتا ہے، جب چوروں کو جمہوری کہیں گے تو ملک تباہ ہوگا، پرویز مشرف کے دو این آر اوز نے ملک کو بڑا نقصان پہنچایا، ٹیکس کا آدھا پیسہ ان کے دور کے قرضوں کی ادائیگی پر چلا جاتا ہے، دونوں جماعتوں (پیپلزپارٹی اور ن لیگ) نے پاکستان کا دشمنوں سے زیادہ برا حال کیا، سابقہ حکومتوں کے منصوبے قرض اتارنے کے بجائے مزید قرضے بڑھا رہے ہیں، ملک میں دولت بڑھانے کیلئے کچھ نہیں چھوڑا اور آج ہم سے ان باتوں کا جواب مانگ رہے ہیں۔

ندیم ملک سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جب بلاتفریق احتساب نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں، نیب کے ہوتے ہوئے کرپشن بڑھی، کمزور کیلئے قانون الگ اور طاقتور کیلئے الگ ہے، اگر ہم طاقتور اور کمزور میں فرق کریں گے تو نظام نہیں چل سکے گا، جس دن ہم نے فرق کرنا شروع کیا احتساب کا نظام ختم ہوجائے گا، عاصم باجوہ کیخلاف کوئی اور چیز آئی تو ضرور تحقیقات کریں گے۔

اقتدار میں آنے کے بعد اثاثوں سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ میرے تمام اثاثے ڈیکلیئرڈ ہیں، اگر ان میں اضافہ ہوا تو سب کو پتہ چل جائے گا، میں نے کہا تھا کہ جب پاور میں آیا تو کوئی بزنس نہیں کروں گا، وزیراعظم بننے کے بعد میرے اثاثے کم ہوئے ہیں، والد سے لیا گیا پلاٹ بیچنا پڑا، میری کوئی بے نامی پراپرٹی ہے نہ ہی بیرون ملک جائیداد، تمام ٹیکس ریکارڈ پر موجود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شریف خاندان اقتدار سے پہلے اور بعد کی جائیدادوں کا جواب نہیں دے سکتے، جواب دینے کے بجائے وہ فوج اور عدلیہ کو برا کہتے ہیں، شہباز شریف آج نیلسن منڈیلا بن رہے ہیں، صرف رمضان شوگر ملز میں ملازمین کے اکاؤنٹ میں 900 کروڑ روپیہ آیا، سلمان شہباز کے بینک میں 300 کروڑ روپے ہیں، جواب مانگا جائے تو کہتے ہیں کہ نیازی نیب گٹھ جوڑ ہے، جب پاناما پر جواب مانگا تو قومی اسمبلی اور جے آئی ٹی میں الگ الگ دیا، انہوں نے ہر جگہ جھوٹ بولا، بلیک میل کرنے کیلئے مجھ پر الٹا کیس کردیا، میں کہہ سکتا تھا کہ لندن کا فلیٹ لیا تو کرکٹ کھیلتا تھا میرے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا، لیکن جمہوری جماعت کا رہنماء ہونے کے ناطے سپریم کورٹ نے جو بھی دستاویز مانگی وہ جمع کرائیں، نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے خاندان جواب دینے کے علاوہ سب کچھ کررہے ہیں۔

تفصیلات جانیے: گرفتار کیاگیا تو سیاہی انکے منہ پر ملی جائیگی، مریم

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے استعفیٰ کے مطالبہ کے سوال پر وہ بولے کہ وزیراعظم استعفیٰ دے گا تو ان کی چوری بچ جائے گی، کہتے ہیں کون این آر او مانگ رہا ہے، ایف اے ٹی ایف سے متعلق نیب میں تبدیلی کیلئے 38 شقیں دیں، اگر نیب ختم کردیتا اور ان کی ترامیم مان جاتا تو استعفیٰ کا مطالبہ نہ ہوتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کے پاس پرامن احتجاج کا حق ہے، جب بھی قانون توڑا ایک ایک کو جیل میں ڈالوں گا، چوروں کی بلیک میلنگ میں آکر استعفیٰ کیوں دوں۔

ندیم ملک نے سوال کیا کہ آپ کی کچھ باتوں سے غلط مطلب لیا جاتا ہے، جس پر سربراہ پاکستان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ امپائر کی انگلی کا مطلب فوج ہے، میرا اشارہ اللہ کی طرف تھا، میرا امپائر اللہ ہے، میں جمہوری آدمی ہوں، کیا دھرنا فوج کو بلانے کیلئے دیا تھا، پرویز مشرف کی آمریت کیخلاف جیل گیا، ن لیگ نے رابطہ کیا، جنرل راحیل کو ثالثی کا رول بھی حکومت نے دیا، انہوں نے دھرنا ختم کرنے کا کہا ہم نے انکار کردیا۔

اپوزیشن کی جانب سے اجتماعی استعفوں کی دھمکیوں پر وزیراعظم نے کہا کہ استعفیٰ دیدیں تو بہت اچھا ہے ہم دوبارہ الیکشن کروالیں گے، اپوزیشن جو کرنا چاہے میں تیار ہوں، ان کی بلیک میلنگ میں آئے تو ہماری آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گے، اقتدار میں آکر ملک لوٹنے والے چوروں کو چھوڑ دینے سے ہی ملک اس حال کو پہنچا، نواز شریف کو فکر ہے کہ باہر کے لوگ ناراض ہوگئے تو یہ منی لانڈرنگ میں پکڑے جائیں گے، مجھے کوئی فکر نہیں، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، اقتدار سے گیا تو پاکستان سے باہر نہیں جاؤں گا، یہ لوگ باہر جاکر شاہی زندگیاں گزارتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن سے پہلے بھی اپوزیشن کچھ نہیں کرسکتی، انتخابات کے بعد قانون سازی آسان ہوجائے گی، ہمارے لئے قانون سازی اس وقت مشکل ہے کیوں کہ وہاں اپوزیشن کی اکثریت ہے، اپوزیشن کا کردار ہوتا ہے کہ عوامی مفاد کیخلاف حکومت کو کچھ نہ کرنے دے لیکن ہماری اپوزیشن صرف اپنا پیسہ بچانا چاہتی ہے، لیگل ریفارمز اور سستے گھروں کے پروگرام سمیت دیگر چیزیں اپوزیشن کے کردار کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہیں۔

سماء کے اینکر نے میڈیا کے حالات اور آزادی رائے پر قدغن سے متعلق سوال کیا تو وزیراعظم نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے، کبھی بھی پاکستان میں ایسی حکومت نہیں آئی، ہم کسی جج کو فیصلے کیلئے فون نہیں کرتے، عدلیہ میں کبھی مداخلت نہیں کی، پچھلا نیب کا چیئرمین ان کی چوریاں چھپا رہا تھا، جمہوریت کا مطلب صرف میڈیا نہیں آزاد عدلیہ بھی ہے، ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں، میڈیا بھی اس کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے اداروں کو کبھی چلنے نہیں دیا، سپریم کورٹ پر ڈنڈوں سے حملہ کرکے کوئی بچ سکتا ہے، آج عدلیہ اور نیب آزاد ہے، ہمارے دو وزراء، وزیراعلیٰ کو بھی بلالیا گیا، میڈیا میں جس طرح ہماری حکومت پر تنقید کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی، ہمارے خلاف پروپیگینڈا کیا گیا، فیک نیوز سے ہمیں نقصان پہنچایا گیا، نواز شریف نے تنقید پر نجم سیٹھی کو مار پڑوائی تھی، ہم نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ کئی میڈیا ہاؤسز کا کردار اچھا اور کئی کا برا رہا ہے، کئی میڈیا ہاؤسز نے مجرموں کے تحفظ میں کسر نہیں چھوڑی، ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو بچانے کی کوشش کی جبکہ کئی صحافیوں نے ملکی اور قومی مفادات کی حفاظت کی، انہیں ضمیر بیچنے والوں کے ساتھ کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔

مطیع اللہ اور دیگر صحافیوں کی جبری گمشدگی کے سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی ہوا ایسے کسی بھی کام میں حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں، کسی بھی صحافی کو اٹھانے میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں نقصان ہی نقصان ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسٹس ریکوری یونٹ میں ایک معاملہ آیا، جیسے شہباز شریف اور دیگر افراد کی معلومات آئی تھی، ہم نے اسے فیصلے کیلئے عدلیہ کو بھیج دیا، یہاں کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہئے، احتساب بلاتفریق ہوتا ہے، جب امتیاز کریں تو احتساب نہیں رہتا۔

عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماڈرنائزیشن اور ویسٹرنائزیشن ایک چیز نہیں، کم عمری میں مغربی معاشرے میں اپنی آنکھوں سے خاندانی نظام ٹوٹتے دیکھا، مغرب میں طلاق کی شرح 14 سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی، جیسے جیسے معاشرے میں فحاشی بڑھے گی خاندانی نظام پر برا اثر پڑے گا، ہالی ووڈ میں سب سے زیادہ فحاشی ہے وہاں شادی زیادہ سے زیادہ ڈھائی سال چلتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی سب سے بڑی طاقت خاندانی نظام ہے جو معاشرے کو بچاکر بیٹھا ہوا ہے، مغرب کا خاندانی نظام ٹوٹ گیا انہیں سوشل سیکیورٹی سسٹم بچا رہا ہے، وہاں اکیلی عورت کو بچے پالنے کیلئے حکومت سے پیسے ملتے ہیں، ہمارے پاس وہ نظام نہیں ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ بنیادی طور پر ہالی ووڈ کو کاپی کرتا ہے، بھارت میں اس سے فحاشی بڑھی اور ریپ کیسز میں بھی اضافہ ہوا، جب معاشرے میں فحاشی آئے تو اس کے برے نتائج پڑتے ہیں، بدقسمتی سے ہم بھی وہی کررہے ہیں، ہمیں کاپی نہیں اپنی پاکستانیت کو پروموٹ کرنا چاہئے، مجھے کہا گیا کہ ہماری فلمیں اور ٹی وی ڈرامے کوئی نہیں دیکھے گا، ترک صدر رجب طیب اردوان سے ارطغرل ڈرامہ پی ٹی وی پر دکھانے کا کہا، اس میں کوئی فحاشی نہیں لیکن اسے ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔

ریپ کے ملزمان کو سزائے موت یا سخت سزائے دینے سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں بار بار جرم کرنیوالوں کو سزائے موت اور کیمیکل کیسٹریشن کی سزا دی جاتی ہے، بچوں سے ریپ کے واقعات ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ ہیں، والدین شرمندگی میں بات نہیں کرتے، کیسز رپورٹ نہیں ہوتے، ان کیسز کا متاثرہ شخص، اس کے خاندان اور ہمارے معاشرے پر بہت برا اثر پڑتا ہے، بچوں اور خواتین سے ریپ پر سخت ترین سزاؤں کا قانون لارہے ہیں۔

معاشی ترقی سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آتا پاکستان 50 سال پہلے تیزی سے اوپر جارہا تھا کیوں نیچے آگیا، سنگاپور کی آبادی 50 لاکھ اور برآمدات 300 ارب ڈالر سے اوپر ہے، ان کے مقابلے میں ہماری 22 کروڑ آبادی کی برآمدات صرف 25 ارب ڈالر ہے، برآمدات بڑھائے بغیر امیر ملک نہیں بن سکتے، جب تک آمدنی خرچوں سے زیادہ نہیں ہوگی ملک مقروض اور غریب ہوتا جائے گا۔

خراب معاشی صورتحال سے نکلنے کیلئے تین چیزیں ضروری ہیں، پہلا برآمدات میں اضافہ، جسے بڑھانے کیلئے اسپیشل اکنامک زون بنانے سمیت دیگر اقدامات کررہے ہیں۔ دوسرا ترسیلات زر میں اضافہ، جس کیلئے بیرون ملک پاکستانیوں کا پیسہ بینکنگ چینل سے ملک میں لائیں۔ تیسرا سرمایہ کاری، جسے پاکستان میں برآمدات بڑھانے والے منصوبوں میں لگانا چاہئے۔ پورے ملک کو اس پر لگانا ہوگا کہ یہاں مصنوعات بناکر باہر بھیجیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈالر پاکستان آئیں۔

برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے تعلقات میں تلخی کے سوال پر پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے سعودی عرب سے تعلقات ٹھیک ٹھاک ہیں، ان سے تعلقات خراب ہو ہی نہیں سکتے، مستقبل میں سعودی عرب جانے کا پلان ہے۔

عمران خان نے بتایا کہ نواز شریف کو واپس لانے کا پلان بنالیا، برطانوی حکومت سے رابطہ کرکے انہیں بتائیں گے نواز شریف کو واپس بھیجیں، وہ مجرم ہے، کبھی کسی مجرم کو ایسی اجازت نہیں دی گئی، ہم نے انسانی بنیادوں پر اجازت دی تاہم انہوں نے وہاں جاکر سیاست شروع کردی، وہ پاکستان کیخلاف سازش کررہے ہیں، اسے واپس لانے کیلئے کسی دو طرفہ معاہدے کی ضرورت نہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube