Monday, October 26, 2020  | 8 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

کرپشن پر ایس بی سی اے کے مزید 3 افسران معطل

SAMAA | - Posted: Sep 28, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 28, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مزید 3 افسران کو کرپشن، غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہونے اور ہراسانی کے الزامات پر معطل کردیا گیا۔

ایس بی سی اے کے افسران کو وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کے دفتر میں موصول ہونیوالی شکایات کی روشنی میں معطل کیا گیا۔ ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی آشکار داور نے تینوں افسران کی معطلی کی منظوری دیدی۔

معطل افسران میں ایس بی سی اے ڈائریکٹر لیاقت آباد ملک اعجاز احمد جبکہ ایس بی سی اے اسسٹنٹ ڈائریکٹر احتشام خان اور سینئر بلڈنگ انسپکٹر شکیل احمد خان نارتھ ناظم آباد میں تعینات تھے۔

ایک ہفتے کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر کی جانب سے 6 افسران کو وزیر بلدیات سندھ کی ہدایت پر معطل کیا جاچکا ہے، ان تمام افسران پر غیر قانونی تعمیرات، بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات تھے۔

ایس بی سی اے کے تین افسران اسسٹنٹ ڈائریکٹر ندیم شیخ، رفیع رضا اور بلڈنگ انسپکٹر شہزاد آرائیں کو 19 ستمبر کو مذکورہ الزامات پر معطل کیا گیا  تھا۔

ایس بی سی اے نے تین تحقیقاتی کمیٹیاں قائم کردیں جو معطل افسران کیخلاف انکوائری کرکے اپنی رپورٹس 15دن کے اندر ڈائریکٹر جنرل کو پیش کریں گی۔

ایس بی سی اے ڈائریکٹر صامت علی خان، ندیم شیخ، رفیع رضا اور شہزاد آرائیں کیخلاف غیر قانونی تعمیرات اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کریں گے۔

ایس بی سی اے ڈائریکٹر ڈیزائن اینڈ لائسنسنگ ندیم رشید کو احتشام خان اور شکیل احمد کیخلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

ایس بی سی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیگل جمیل الدین احمد خان ایس بی سی اے ڈائریکٹر ملک اعجاز احمد کیخلاف لانڈھی ٹاؤن میں صنعتکار کو ہراساں کرنے اور لیاقت آباد مین غیر قانونی تعمیرات پر تحقیقات کریں گے۔

ملک اعجاز نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں حکام کے فیصلوں کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے صرف ایک ہفتہ قبل لانڈھی ٹاؤن کا چارج سنبھالا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ لانڈھی کے علاقے میں زیر تعمیر ایک فیکٹری کا بلڈنگ پلان دیکھنے گئے تھے، جس پر مالکان کی جانب سے 7ویں منزل تعمیر کی جارہی ہے جو بلڈنگ پلان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مالکان کے پاس کوئی بلڈنگ پلان نہیں، بار بار توجہ دلانے پر فیکٹری مالکان نے اپنے ایک ملازم کے ذریعے بلڈنگ پلان جمع کرایا، تاہم وہ پلان ایس بی سی اے کے ریکارڈ میں موجود ہی نہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ جعلی پلان ہے۔

ایس بی سی اے ڈائریکٹر نے اپنی معطلی کیخلاف عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اوپر لگائے الزامات کو غلط ثابت کروں گا، حکام کو معطلی سے قبل شوکاز نوٹس جاری کرنا چاہئے تھا۔

دوسری جانب ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر انفارمیشن علی مہدی کاظمی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ ملک اعجاز احمد کیخلاف کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی جانب سے کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کاٹی کی صنعتکار برادری کی جانب سے شکایات براہ راست وزیر بلدیات سندھ کو جمع کرائی گئی ہیں، بزنس کمیونٹی بہت طاقتور ہے اور بلڈرز کی طرح نہیں جو ایس بی سی اے افسران کی جانب سے دباؤ قبول کرلے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube