Monday, October 26, 2020  | 8 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

فیصلہ ہوا تو سارے ارکان استعفیٰ دیں گے، شاہدخاقان

SAMAA | - Posted: Sep 28, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
Posted: Sep 28, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ نواز نے اسمبلیاں چھوڑنے کا فیصلہ لیا تو ان کی پارٹی کے 100 فیصد ارکان مستعفی ہوجائیں گے۔

پیر کی شب سماء ٹی وی پر اینکرپرسن ندیم ملک سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کوئی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے ہیں لیکن یہ آخری فیصلہ ہوگا۔

مشترکہ اپوزیشن نے20  ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے چند مہینوں میں حکومت مخالف جلسے اور ایک فیصلہ کن لانگ مارچ کریں گے۔ اپوزیشن نے متنبہ کیا تھا کہ ان کے پاس اسمبلیوں سے بھی استعفیٰ دینے کا آپشن موجود ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس انتباہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی سے استعفیٰ دیتے ہیں تو حکومت ضمنی انتخابات کرائے گی۔

شہباز شریف کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حزب اختلاف کی حکومت مخالف تحریک پر اس گرفتاری سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت خوفزدہ ہے۔ حزب اختلاف کے تمام رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا تو بھی لوگ اس تحریک کو چلائیں گے۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری کو بھی شو میں مدعو کیا گیا تھا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے کچھ ممبران ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نواز شریف کی تقریر سے خوش نہیں ہیں اور وہ پارٹی چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ شرقپوری ان میں سے ایک ہیں۔

ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے جلیل شارق پوری نے کہا کہ وہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں اور اپنے قائد نواز شریف کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے دشمن ایسی تقاریر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارٹی اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی یہاں تک کہ اگر 300 افراد اس سے دستبردار ہوجائیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube