Wednesday, October 28, 2020  | 10 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

افغانستان سےفوجیوں کا عجلت میں انخلا احمقانہ فیصلہ ہوگا

SAMAA | - Posted: Sep 27, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 27, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فائل فوٹو: پاکستانی وزیراعظم خان اور افغان صدر غنی

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حقیقی امن سے ہی پاکستان میں امن آئے گا، افغانستان میں امن و استحکام طاقت کے ذریعے باہر سے تھوپا نہیں جا سکتا۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ امن مذاکرات کسی صورت بھی جبر اور تشدد کی فضا میں جاری نہیں رہ سکتے، فریقین پرتشدد واقعات میں کمی لائیں۔

امریکی روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے مضمون میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن ممکن ہے۔ اس وقت افغانستان اور خطے کے لیے امید کا سنہری موقع ہے۔ دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں افغان جنگ خاتمے کے قریب ہے۔ صرف افغانستان کی قیادت اور افغانیوں کی شمولیت سے ہی پائیدار امن ممکن ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ امن مذاکرات کسی صورت بھی جبر اور تشدد کی فضا میں جاری نہیں رہ سکتے، فریقین پرتشدد واقعات میں کمی لائیں۔

عمران خان کا مزید لکھنا تھا کہ افغانستان میں امن اور استحکام طاقت کے ذریعے باہر سے تھوپا نہیں جا سکتا۔ دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں افغان جنگ خاتمے کے قریب ہے۔ تاہم اس سلسلے میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا عجلت میں انخلا غیر دانش مندانہ ہوگا۔ بین الافغان مذاکرات کا دور مزید مشکل ہو سکتا ہے جس کے لیے تحمل اور مفاہمت کی فضا درکار ہے، امن عمل سست اور تکلیف دہ بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے افغان مذاکرات پر لکھتے ہوئے بتایا کہ پاکستان افغانستان میں سیاسی امن اور حل کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔ افغانستان میں امن کا جو راستہ ہم نے اختیار کیا، وہ آسان نہیں تھا۔ پاکستان نے ہی افغان قیادت اور طالبان کے درمیان بات چیت کی بنیاد فراہم کی۔

عمران خان کا یہ بھی لکھنا تھا کہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذاکرات کی میز پر تعطل میدان جنگ میں خونی تصادم سے کہیں بہتر ہے۔ پاکستان اس سارے عمل کے دوران پاکستان اپنے افغان بھائیوں سے تعاون جاری رکھے گا۔ افغان حکومت نے طالبان کو سیاسی حقیقت تسلیم کیا ہے، امید کی جاتی ہے کہ طالبان بھی اس سلسلے میں افغان حکومت کی پیش رفت کو سراہیں گے۔

وزیراعظم نے لکھا کہ افغانستان میں امن کیلئے تمام فریقین نے ہمت اور لچک کا مظاہرہ کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سال 2018 میں افغانستان میں سیاسی حل کیلئے پاکستان کی مدد مانگی۔پاکستان افغانستان میں سیاسی حل کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان ہی کی کوششوں سے امریکا اور طالبان کے درمیان فروری میں امن معاہدہ ہوا۔

پاکستانی وزیراعظم کے مطابق افغان جنگ میں پاکستانی عوام نے بھی بڑی قیمت چکائی ہے۔ کئی دہائیوں سے پاکستان 40 لاکھ مہاجرین کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ افغان جنگ سے اسلحہ اور منشیات پاکستان میں آئی۔ افغان جنگ سے پاکستانی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پائیدار امن افغان امن و استحکام سے مشروط ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام طاقت سے قائم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مضمون میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ افغانیوں پر مشتمل مفاہمتی عمل کے ذریعے افغانستان میں دیرپا امن ممکن ہے۔ یہاں تک کا سفر کوئی آسان نہ تھا، مگر دونوں جانب سے رویوں کی لچک نے یہ کر دکھایا۔ اس کیلئے پہلا قدم دوحہ مذاکرات میں اٹھا لیا گیا ہے۔ خطے کا امن پاکستان کیلئے مرکزی اہمیت رکھتا ہے اور اس سلسلے میں ہم ہر ممکن تعاون دینے کیلئے تیار ہیں۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ افغانستان میں امن لانے کیلئے امریکا اور پاکستان کی سوچ ایک جیسی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم افغانستان میں جنگ کے بعد آنے والے وقت اور حالات کے بارے میں سوچیں اور حکمت عملی ترتیب دیں اور وہاں کے لوگوں کیلئے ساز گار ماحول کی فراہمی کیلئے لائحہ عمل بنائیں، تاکہ اس سے دیرپا امن ممکن ہوسکے۔

عمران خان نے لکھا کہ افغان جنگ سے ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان آپس میں جغرافیہ، ثقافت اور رشتوں سے جڑے ہیں، جب تک ہمارے افغان بھائیوں اور بہنوں کو امن و سکون نصیب نہیں ہو گا، پاکستان بھی حقیقی امن حاصل نہیں کر سکتا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube