Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

فیصلے “جی ایچ کیو”میں نہیں پارلیمنٹ میں کریں،مریم

SAMAA | - Posted: Sep 23, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 23, 2020 | Last Updated: 1 month ago

ن لیگی نمائندوں کی آرمی چیف سے ملاقات کی تردید

ن لیگی کی نائب صدر مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اطلاع کے مطابق پارلیمانی رہنماوں کی ملاقات اسلام آباد میں نہیں بلکہ راول پنڈی میں ہوئی ہے۔

باجوہ کو نیب کا نوٹس؟

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے اختتام پر میڈیا سے مختصر اور غیر رسمی گفتگو میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف سے صحافی نے سوال کیا کہ اے پی سی کے بعد حکومت کہتی ہے کہ پارٹی ن لیگ سے شین ہو جائے گی۔ جس پر مریم نواز نے کہا کہ پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، ہم سب ایک پیج پر اکھٹے ہیں۔ نیب نے غلطی سے مولانا فضل الرحمان کے گھر نوٹس بھیج دیا۔ دراصل نیب نے نوٹس عاصم سلیم باجوہ کے گھر بھجوانا تھا۔

خلائی مخلوق سے صلح

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ" آپ یہ بتائیں کہ خلائی مخلوق جو ہے وہ خلا میں چلی گئی ہے یا آپ لوگوں کی صلح ہوگئی ہے؟، کیوں کہ ٹی وی پر آپ کا خطاب بھی چلا اور میاں صاحب کا بھی خطاب نشر ہوا۔" جس پر مریم نے کہا کہ یہ تو آپ بتائیں نہ کہ آپ لوگ کیوں ہمارے خطاب چلا رہے ہیں۔ اس لیے چلا رہے ہیں کہ ظلم، پریشر اور ہھتکنڈے ایک حد تک چلتے ہیں، ہمیشہ نہیں۔

جی ایچ کیو ڈنر ہوا تھا؟

ایک صحافی نے طلعت حسین کی بات کرتے ہوئے پر مریم نواز سے سوال کیا کہ پارلیمانی رہنماوں جو جی ایچ کیو میں ڈنر پر مدعو کیا گیا تھا، کیا وہ نواز شریف کی اجازت سے ہوا تھا؟ جس میں ن لیگ کی جانب سے خواجہ آصف، احسن اقبال اور شہباز شریف گئے، کیا وہ نواز شریف کی اجازت سے گئے؟۔ آرمی چیف سے ملاقات پر کیا کہیں گی ؟ جس پر مریم نے کہا کہ کیا جو کہوں گی آپ کا چینل چلائے گا؟۔ جواب آگے بڑھاتے ہوئے مریم نواز شریف نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق پارلیمانی رہنماوں کی ملاقات اسلام آباد نہیں پنڈی میں ہوئی اور نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی۔

اہم ملاقات سے نواز شریف لاعلم ؟

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جس ایشو پر وہ بلایا گیا تھا وہ گلگت بلتستان کا ایشو تھا اور گلگت بلتستان کا جو ایشو ہے وہ سیاسی ایشو ہے۔ وہ عوامی نمائندوں کا ایشو ہے۔ ان کے حل کرنے کا ایشو ہے اور ان کی مشاورت کا ایشو ہے۔ یہ فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہیئے، جی ایچ کیو میں نہیں۔ مجھے علم نہیں کہ نواز شریف کو ملاقات کا علم تھا یا نہیں مگر نہ سیاست دانوں کو جی ایچ کیو بلانا چاہیئے اور نہ سیاست دانوں کو جی ایچ کیو جانا چاہیئے۔

فضل الرحمان

انہوں نے کہا کہ ن لیگ پی پی، مولانا صاحب اور ہم سب اے پی سی کے فیصلوں پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ ایک صحافی نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوا، جس پر نائب صدر نے کہا کہ استعفوں کے معاملے پر مشاورت ہوئی ہے، جلد اتفاق بھی ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اشتہاری کی درخواست پر منتخب وزیر اعظم کو نااہل کیا گیا۔ یہ سوال ہم نے پہلے نہیں اٹھایا جو اٹھانا چاہیے تھا۔ اشتہاری جس تھانے کی حدود کا ملزم تھا اسی تھانے کی حدود میں عدالت میں پیش ہوتا تھا۔

سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت آپریشن کی متقاضی ہے، لیکن جب تک کرونا ہے نواز شریف کا آپریشن نہیں ہوسکتا۔ نواز شریف کا امیون سسٹم کمزور ہے۔ نواز شریف کا ادویات سے علاج جاری ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube