Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

شیعہ برادری کیخلاف ریلیاں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرہ

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

کراچی میں 11 ستمبر کو شیعہ مخالف مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ فوٹو : اے ایف پی

گزشتہ ہفتے اور اس سے قبل پاکستان کے کئی شہروں میں درجنوں بڑی ریلیاں نکالی گئیں، جس میں ایک چیز مشترک تھی، یعنی ملک کی شیعہ آبادی کیخلاف نفرت انگیز تقاریر۔

رواں ماہ 11، 12 اور 13 ستمبر کو مذہبی جماعتوں اور کالعدم تنظیموں کی کراچی میں ریلیوں میں کئی لاکھ افراد نے شرکت کی اور کراچی اور اسلام آباد میں اہل تشیع علماء کی جانب سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیخلاف مبینہ توہین آمیز گفتگو پر احتجاج کیا۔

ایسی ہی ایک ریلی کے اسٹیج سے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایک مقرر نے کہا کہ ہم صحابہ کی توہین مزید برداشت نہیں کریں گے۔

مظاہرین کی جانب سے کراچی کے علاقے لائنز ایریا میں ایک امام بارگاہ پر پتھراؤ کیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی گئی جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین نفرت انگیز نعرے لگارہے ہیں اور ایک فرقے کے لوگوں کو غیر مسلم کہہ رہے ہیں۔

مظاہرین جن کا تعلق سنی مذہبی جماعتوں اور کالعدم اہل سنت والجماعت سے تھا، کا کہنا تھا کہ شیعہ عالم نے محرم الحرام کے جلوس میں جان بوجھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیخلاف توہین آمیز کلمات ادا کئے۔ کلعدم اہل سنت والجماعت  (شیعہ مخالف جماعت سپاہ صحابہ پاکستان)  مظاہروں کے دوران صف اول میں شامل نظر آئی۔

کلعدم اہل سنت والجماعت نے دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کئی گروپوں کو ساتھ ملا کر علماء کمیٹی قائم کی۔ اہل سنت والجماعت کے ترجمان کے مطابق علماء کمیٹی میں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) اور جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق) سمیت کئی مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔

سنی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی مختلف جماعتوں کے کارکنان (13 ستمبر کو) کراچی میں شیعہ مخالف مظاہرہ کررہے ہیں۔ فوٹو : اے ایف پی

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں عمر معاویہ نے بتایا کہ ہم نے اپنی تحریک کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس احتجاجی تحریک کا مقصد حکومت کو مقدس ہستیوں کی توہین  کی روک تھام کیلئے سخت قانون سازی پر مجبور کرنا ہے۔

عمر معاویہ نے مزید کہا کہ ہم اصحاب رسول ﷺ کی توہین کرنے والوں کیلئے کم از کم 10 سال قید کی سزا چاہتے ہیں۔

اہل سنت والجماعت کے ترجمان نے کراچی میں ریلی کے دوران نفرت انگیز نعروں سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں کے مجمعے میں کچھ لوگوں نے ایسے نعرے لگادیئے ہوں گے، ایسے نعرے اسٹیج سے نہیں لگائے گئے۔

فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز تقاریر پاکستان میں جرم ہیں تاہم ریلی کے منتظمین اور شرکاء کیخلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ کراچی کے ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ تقاریر مکمل طور پر غیر قانونی ہیں لیکن کیا آپ واقعی توقع رکھتے ہیں کہ پولیس مذہبی مجمعہ میں جائے گی؟۔ اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایسا کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

پولیس افسر نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ سیاسی ہجوم یا مزدوروں اور اساتذہ کے احتجاج کو قابو کرنا مشکل نہیں کیونکہ وہ انتظامیہ کی بات مان لیتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر وہ نہیں سنتے تو ہم طاقت استعمال کرسکتے ہیں، لیکن اگر ہم مذہبی نظریات کے حامل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں ایک گولی بھی چلادیں تو وہ اشتعال میں آسکتا ہے اور اگر وہ مشتعل ہوجائیں تو غصے میں آکر لوگوں کو مارنا اور شہر کو جلانا شروع کردیتے ہیں۔

انہوں نے 2013ء میں سنی تحریک کے ایک کارکن کے کراچی میں قتل کے موقع پر اپنے تجربے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایم اے جناح روڈ پر  نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نماز جنازہ کے بعد پارٹی کارکنوں نے ہوائی فائرنگ شروع کردی جس کے بعد مجھے میرے سینئر افسر کا ان کیخلاف کارروائی کیلئے فون آیا تو میں نے انہیں کہا کہ ہم سب کو ان کا ممنون ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے یہاں تعینات پولیس اہلکاروں کو نہیں مارا۔

اہلسنت والجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی نے اسلام آباد میں ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اہل سنت والجماعت کی جانب سے صرف پنجاب میں محرم کے دوران 150 ایف آئی آر یا مقدس ہستیوں کی توہین کے مقدمات کا اندراج کرایا گیا۔ شیعہ کارکن کا کہنا ہے کہ ان الزامات کا مقصد پاکستان کی اکثریتی سنی آبادی کو اہل تشیع برادری کیخلاف اکسانہ ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے شیعہ کارکن راشد رضوی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ ان الزامات سے ایک دو نہیں بلکہ پورے پورے خاندانوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جائیں گی۔

اہل حدیث اتحاد کونسل کے کارکنان کراچی میں (20 ستمبر کو) شیعہ مخالف احتجاجی ریلی میں شریک ہیں۔ فوٹو : اے ایف پی

اہل تشیع پاکستان میں سب سے زیادہ نشانہ بنائی جانیوالی برادریوں میں سے ایک ہیں۔ ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق 2001ء سے 2018ء تک اہدافی حملوں اور بم دھماکوں میں اس فرقے سے تعلق رکھنے والے 2 ہزار 693 افراد ہلاک اور 4 ہزار 847 زخمی ہوئے۔

راشد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کئی دہائیوں سے حملوں کی زد میں ہیں تاہم انہوں نے پہلی بار محرم کے دوران ایسے نعرے سنے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک شخص مقدس ہستیوں کی توہین کرتا ہے تو اسے ہی ذمہ دار قرار دیا جانا چاہئے، کسی کے انفرادی فعل پر  پوری شیعہ برادری کو غیر مسلم قرار دینا بالکل غلط ہے۔

عوامی ریلیوں اور ایف آئی آر کے اندراج کا مقصد کچھ گھرانوں میں خوف کی فضاء پیدا کرنا ہے۔ واٹس ایپ گروپس پر اہل تشیع لوگوں کو کالے کپڑے پہننے پر تنبیہی پیغامات بھی گردش کررہے ہیں۔

اہل تشیع علماء زیادہ رد عمل کا اظہار نہیں کررہے۔ چند روز قبل مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شہنشاہ حسین نقوی کا کہنا تھا کہ بڑا مجمعہ دکھا کر ہمیں دباؤ میں لانے کی کوشش نہ کی جائے، میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ چہلم میں شرکت کو اپنے اوپر لازم کرلیں اور پچھلے تمام ریکارڈ توڑ ڈالیں۔

کالعدم اہل سنت والجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی اسلام آباد میں (17 ستمبر کو) ریلی میں شرکت کیلئے آرہے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

سیکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ ریلیوں پر حکومتی خاموشی خطرناک ہے، ایسا لگتا ہے کہ شہروں میں انتظامیہ ریلیاں نکالنے کی اجازت دے رہی ہے کیونکہ حکومت کو لگتا ہے کہ مذہبی گروپ اپنا غصہ روڈ پر نکال کر گھر چلے جائیں گے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ طریقۂ کار کارگر ثابت نہیں ہوگا۔

اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں نئے شیعہ گروہ تشکیل اور ان کے اراکین کو لڑنے کی تربیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’1990 کی دہائی میں دیگر فرقوں کے مقابلے میں سنی عسکریت پسندوں کی جماعتیں زیادہ طاقتور تھیں تاہم حال ہی میں شام اور عراق میں تنازعات کے بعد بہت سارے شیعہ عسکریت پسند گروپ گروہ بھی منظر عام پر آئے ہیں، یہ وہ شیعہ جنگجو ہیں جو عراق اور شام سے واپس پاکستان آئے تھے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت شدت پسند تنظیموں سے خوفزدہ دکھائی دیتی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اگر وہ ان کیخلاف قدم اٹھاتی ہے تو سرکاری حکام کے خلاف تقاریرکی جائیں گی اور حکومت کیخلاف فتوے دئیے جائیں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube