Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

بچی کے ریپ اورقتل کے مجرم کو 3بار سزائے موت

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 1 year ago

CHILD RAPE

پنجاب کے ضلع ساہیوال میں عدالت نے کمسن بچی کا ریپ کرنے کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو تین بار سزائے موت سنادی اور 11 لاکھ جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

مجرم علی شیر نے 2 دسمبر 2019 میں 4 سال کی بچی کو ساہیوال کے علاقہ غلہ منڈی میں گھر کے باہر سے اغوا کرکے ریب کیا اور پھر اس کو قتل کرکے لاش پھینک دی تھی۔

بعد ازاں 13 دسمبر 2019 کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کیپٹن (ر) محمد علی ضیاء نے پریس کانفرنس میں ملزم کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے اس کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے بتایا کہ 4 سالہ بچی مریم کو 2 دسمبر کو غلہ منڈی اسٹریٹ 99 ایل سے سڑک پر کھیلتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا۔ اہل خانہ نے تھانہ غلہ منڈی میں مقدمہ درج کروایا۔ پولیس نے سرچ آپریشن شروع کیا تو بائی پاس بچی کی لاش ملی۔

پولیس نے بچی کی نعش پوسٹمارٹم کے لئے ڈی ایچ کیو منتقل کردی جہاں رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ چھوٹی بچی کا قتل سے پہلے ریپ ہوا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا اور ان کا ڈی این اے فرانزک ٹیسٹ کے لئے بھیجا۔ جن میں علی شیر اصل مجرم نکلا۔

اس وقت پولیس نے یہ بھی بتایا کہ مجرم مقتولہ بچی کے والد گلزار کا قریبی رشتہ دار ہے اور وہ جرم کے بعد بچی کی تلاشی میں پولیس اور اہل خانہ کی مدد بھی کر رہا تھا۔ علی شیر کے دوران تفتیش اعتراف کے بعد پولیس نے مجرم کے خلاف اغوا، قتل، ریپ اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

کیس کا ٹرائل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری عبدالغفور کی عدالت میں ہوا۔ جس نے پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو 3 بار سزائے موت سنانے کے ساتھ 11 لاکھ جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube