Saturday, October 24, 2020  | 6 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

اپوزیشن کے 20 نکات کا مکمل متن پڑھیں

SAMAA | - Posted: Sep 20, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 20, 2020 | Last Updated: 1 month ago

اسلام آباد میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے جس میں جبری گمشدگی اور فوج کی سیاسی مداخلت بند کرنے کے ساتھ عاصم سلیم باجوہ کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ شامل ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے 20 نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

ذیل میں آپ پورا اعلامیہ من و عن پڑھ سکتے ہیں۔

جمہوری اتحاد کا قیام

آئین اور وفاقی پارلیمانی نظام پر یقین رکھنے والی قومی سیاسی جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ اتحاد عوام دشمن حکومت سے نجات کے لیے ملگ گیر احتجاجی تحریک کو منظم اور مربوط انداز میں چلائے گا اور رہنمائی کرے گا۔

فوج کی سیاسی مداخلت

اجلاس نے قرار دیا کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو مصنوعی استحکام اس اسٹبلشمنٹ نے بخشا ہے جس نے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے اسے عوام پر ملسط کیا۔ اجلاس نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں میں ہر قسم کی مداخلت فوری طور پر بند کرے۔

اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ملک میں شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے جس میں مسلح فوج اور ایجنسیوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے فوری طور پر انتخابی اصلاحات کی جائیں۔

مہنگائی اور معاشی بدحالی

سلیکٹڈ حکومت نے ریکارڈ توڑ مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کی بھرمار سے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ یہ اجلاس آٹے، چینی، گھھی، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو فوری کم کرکے اعتدال پر لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

سلیکٹڈ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں تباہ حال معیشت پاکستان کے دفاع، ایٹمی صلاحیت اور ملک کی باوقار خودمختاری کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

آئین، پارلیمانی نظام اور صوبائی خود مختاری کا تحفظ

اجلاس یہ اعادہ کرتا ہے کہ 1973 کا آئین، اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ قومی اتفاق رائے کا مظہر ہیں۔ ان پر حملوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اور پوری قوت سے صوبائی خودمختاری کا تحفظ کیا جائے گا اور ان پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس میں صدارتی نظام رائج کرنے کے مزموم ارادے کو رد کرتا ہے اور وفاقی پارلیمانی جمہوریت کو پاکستان کے تحفظ کا ضامن سمجھتا ہے۔ اجلاس دو ٹوک انداز میں واضح کرتا ہے کہ پارلیمان کی بالادستی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اس پر سمجھوتا کیا جائے گا۔

کشمیر اور افغان پالیسی

یہ سلیکٹڈ حکومت سقوط کشمیر کی ذمہ دار ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور عالمی قانون کے منافی موری سرکار کا عمل پاکستان کے موجودہ کٹھ پتھلی حکمرانوں کی ملی بھگت کا شاخسانہ ہے۔

اجلاس سلیکٹڈ حکومت کی افغان پالیسی کی مکمل ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔

سینسرشپ اور صحافیوں کے خلاف مقدمات

اجلاس میڈیا پر تاریخ کی بدترین پابندیاں لگانے دباؤ اور سنسر شپ کے حکومتی ہتھکنڈوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ میر شکیل الرحمان سمیت تمام دیگر گرفتار صحافیوں اور میڈیا پرسنز کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف غداری اور دیگر بے بنیاد مقدمات فوری طور پر خارج کیے جائیں۔ اجلاس نے عزم ظاہر کیا کہ شہریوں اور میڈیا کی آزادیوں کو چھیننے کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

احتساب

اجلاس سیاسی قائدین رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف سیاسی انتقام پر مبنی بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات قائم کرنے، ان کی گرفتاریوں اور قید و بند کی صعوبتوں کی شدید مذمت اور ان کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اجلاس خورشید شاہ اور حمزہ شہباز شریف سمیت سیاسی انتقام کا سامنا کرنے والے تمام قائدین اور کارکنان کی کی جرات، بہادری اور استقامت کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

بدامنی اور دہشت گردی

اجلاس نے قرار دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے ملک کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اجلاس ملک میں امن و امان کی بگڑتی اور سنگین ہوتی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیتا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اجلاس اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں میں فرقہ وارانہ تناؤ میں اضافے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر حکومت کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کی شدید مذمت اور گہری تشویش ظاہر کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیا جائے۔

سی پیک

سی پیک قومی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ نااہل کرپٹ اور ناتجربہ کار حکمرانوں نے سی پیک کو رول بیک کرکے اس کا وجود ہی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کی رفتار کو فی الفور تیز کیا جائے۔ مغربی روٹ پر موٹروے اور ریلوے ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کی جائے۔

پارلیمنٹ کا تقدس

سلیکٹڈ حکومت نے پارلیمان کو بے توقیر اور بے وقعت کر کے مفلوج کردیا ہے۔ عوام کے آئینی، بنیادی، قانونی اور انسانی حقوق کے منافی قانون سازی کی جا رہی ہے اور اپوزیشن کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ آج کے بعد اس ربڑاسٹمپ پارلیمنٹ سے اپوزیشن کوئی کوئی تعاون نہیں کرے گی۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ غیر آئینی، غیر جمہوری، غیر قانونی اور شہری آزادیوں کے منافق قوانین کو واپس لیا جائے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات

اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان میں مقررہ وقت پر صاف، شفاف اور بغیر کسی مداخلت کے انتخابات کرائے جائیں۔ انتخابات کے بعد قومی اتفاق رائے سے گلگت بلتستان کو قومی سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس قرار دیتا ہے کہ گلگت بلتستان کا علاقہ بہت حساس ہے، وہاں انتخابات میں ایجنسیز کی مداخلت ختم کی جائے تاکہ کوئی بھی ان انتخابات کی شفافیت پر اعتراض نہ اٹھا سکے۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ گلگت بلتستان کے انتخابی عمل پر گہری نظر رکھی جائے گی۔

غیرقانونی حراستی مراکز

اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی علاقہ جات کو نو گو ایریا بنا دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ختم کیا جائے۔ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں نجی جیلوں ( فوجی حراست مراکز) کے قیام کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ان غیر قانونی نجی جیلوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔

عدلیہ کی آزادی اور ججوں کے خلاف مقدمات

اجلاس نے منصف مزاج اورغیر جانبدار ججوں کو ریفرنسز اور بے بنیاد مقدمات کے ذریعے جکڑنے اور آئین، قانون اور انصاف کے منافی فیصلے کرانے کے لئے دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ اجلاس نے قرار دیا کہ یہ تمام واقعات آئین کے تحت غیر جانبدار اور آزاد عدلیہ کے تصور کے لیے سنگین دھچکا اور ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں۔

اجلاس نے پاکستان بار کونسل کی 17ستمبر 2020 کو منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں منظور کردہ قرارداد کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کا موجودہ طریقہ کار ایک آزاد عدلیہ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس ضمن میں پاکستان بار کونسل کی اے پی سی میں منظور کردہ نکات پر عمل کیا جائے۔

یکساں احتساب

اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کی روشنی میں احتساب کا نیا قانون بنایا جائے اور ملک کے تمام اداروں اور افراد کا، خواہ ان کا تعلق عدلیہ یہ یا ڈیفنس سروسز، یا بیوروکریسی، یا پارلیمان سے ہو، ایک ہی قانون کے تحت احتساب کیا جائے۔

عاصم سلیم باجوہ کے خلاف تحقیقات

اجلاس نے مطالبہ کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹ کی مکمل اور شفاف تحقیقات اسی طریقہ کار کے مطابق کی جائے جو ملک کے دیگر سیاستدانوں سے متعلق اپنایا گیا ہے۔ تحقیقات جب تک مکمل نہیں ہو جاتیں انہیں عہدے سے برطرف کیا جائے۔

جبری گمشدگی

اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو مسنگ پرسن بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور پہلے سے مسنگ پرسنز کو قانون کے مطابق عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے۔

ایکشن پلان

مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر اپوزیشن کا ایکشن پلان بھی پڑھ کر سنایا جس کے مطابق آل پارٹی کانفرنس سلیکٹڈ وزیراعظم عمران احمد نیازی کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے۔

وکلا، تاجر، کسان، مزدور، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کو اس تحریک کی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے گا۔

اکتوبر، نومبر 202 میں پہلے مرحلے میں ملک کے صوبائی دارالحکومتوں سمیت بڑے شہروں میں جلسے کیے جائیں گے۔

دسمبر 2020 میں دوسرے مرحلے میں صوبائی دارالحکومتوں میں بڑی عوامی ریلیاں اور مظاہرے منعقد ہوں گے اور عوام کے ساتھ ملکر بھرپور ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

جنوری 2012 میں اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ ہوگا۔

سلیکٹڈ حکومت کی تبدیلی کے لیے متحدہ حزب اختلاف پارلیمان کے اندر اور باہر تمام جمہوری، سیاسی اور آئینی آپشنز استعمال کرے گی جن میں عدم اعتماد کی تحاریک اور مناسب وقت پر اسمبلیوں سے اجتماعی استفوں کا آپشن شامل ہے۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. وقار احمد  September 21, 2020 9:27 pm/ Reply

    پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن پارٹیوں کی اکثریت غیر جمہوری قوتوں کی آلہ کار نظر آتی ہے۔ یہ دو رنگی نہیں چلے گی۔

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube