Tuesday, March 2, 2021  | 17 Rajab, 1442
X

vs

ہوم   > پاکستان

نوشہرہ: آزادی کے72سال بعد بچیوں کیلئے اسکول کی سہولت

SAMAA | - Posted: Sep 19, 2020 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 19, 2020 | Last Updated: 5 months ago

نوشہرہ: بچیوں کے اسکول کا بیرونی منظر

نوشہرہ کا علاقے شیر خان گڑھی میں تقسیم ہند کے 72 سال بعد بچیوں کو پرائمری اسکول کی سہولیت مہیا ہوگئی۔

محلہ شیر خان گڑھی میں تقریبا 1500 گھرانے مقیم ہیں اور وہاں 1947 سے لے کر ابھی تک لڑکیوں کے پرائمری اسکول کی عمارت تعمیر نہ ہونے سے دہائیوں تک وہاں کی بچیاں تعلیم سے محروم رہی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بچیوں کو دوسرے محلے جانا پڑتا تھا جس کی وجہ سے بہت کم لڑکیاں ہی یہ سفر کر پاتی تھیں۔

مقامی سماجی کارکن اسد علی کے مطابق ’’لڑکیوں کے لیے پرائمری اسکول نہ ہونے کے باعث خان شیر گڑھی کے غریب گھرانے تعلیم کی بنیادی سہولت سے محروم تھے اور جن گھرانوں کے پاس وسائل تھے انہیں روزانہ 2 کلو میٹر دور لاجبر گڑھی کے علاقے میں موجود اسکول جانا پڑتا تھا‘‘۔

مقامی فلاحی تنظیم کی مدد سے 2018 میں علاقہ مکینوں نے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ مقامی لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور ایک قرارداد بنائی گئی جس میں بچیوں کے لیے پرائمری اسکول کا مطالبہ تھا اور اس پر علاقہ مکینوں کے دستخط کروائے گئے۔

یہ قرارداد اس وقت کی ضلعی ایجوکیشن آفیسر فہیمہ احسن کو اکتوبر 2018 میں پیش کی گئی۔

بدقسمتی سے علاقہ مکینوں کو مایوسی اٹھانا پڑی جب انہیں بتایا گیا کہ علاقے میں نئے اسکول کی تعمیر ممکن نہیں مگر ساتھ ہی انہیں یہ حل دیا گیا کہ 2 کلومیٹر دور لاجبر گڑھی اسکول جس میں بچیوں کے لیے 2 پرائمری اسکول موجود ہیں، ان میں سے ایک کو خان شیر گڑھی میں منتقل کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے عمارت کرایے پر حاصل کرنا ہوگی۔

نوشہرہ: بچیوں کے اسکول کا بیرونی منظر

علاقہ مکینوں کو عمارت ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تو انہوں نے پھر انتظامیہ کا در کھٹکھٹایا۔ جنوری 2019 میں انہیں بتایا گیا کہ محمکہ تعلیم ضلعی ایجوکیشن آفیسر کے لیے جی ٹی روڈ پر دفتر ڈھونڈ رہا ہے اور اس عمارت میں دفتر کی بجائے بچیوں کے لیے اسکول کی جگہ فراہم کی جا سکتی ہے۔

علاقہ مکینوں کی انتظامیہ کی طرف سے امید ملی تو اگلے مہینے فروری میں انہوں نے ضلعی ایجوکیشن آفیسر عقیلہ جبین سے ملاقات کی جنہوں نے علاقہ مکینوں کو مطلع کیا کہ کے دفتر کے لیے عمارت کو اسکول کے لیے مختص کیا گیا اور مارچ 2019 تک نوشہرہ کی ایجوکیشن آفیسر عطیہ سلطان کی منظوری سے اسکول قائم کر دیا جائے گا۔

عمارت میں تین کمرے موجود تھے اور خان شیر گڑھی کے علاقے کی لڑکیوں کے لیے کچھ نہ ہونے سے یہ تین کمرے کافی تھے۔ مارچ 2019 میں اسکول قائم ہوا جس میں 250 بچیوں نے اپنی پڑھائی شروع کی۔ اسی مہینے میں اسکول کے لیے تین نے اساتذہ بھی بھرتی کر لیے گئے۔

اسد علی کا کہنا ہے کہ ’’یہ اسکول علاقے کی بچیوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوا ہے‘‘۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube