Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

کیمیکل کیسٹریشن: ریپ کےمجرم کو جنسی طور پر ناکارہ بنانا

SAMAA | - Posted: Sep 18, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Sep 18, 2020 | Last Updated: 1 year ago

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ملک میں ریپ اور بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے حامی ہیں۔

نیوز چینل 92 کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ریپ کے معاملے میں ’فرسٹ ڈگری‘ کا ارتکاب کرنے والوں کو آپریشن کے ذریعے ناکارہ کر دیا جانا چاہیے، تاکہ وہ آئندہ ایسا کوئی جرم نہ کرپائیں ۔

پاکستان کے وزیر اعظم کا یہ بیان پاکستان میں ریپ کے ایک حالیہ واقعے کے سخت ردعمل اور ملک کے مخلتف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔

 ریپ کا یہ واقعہ لاہور کے قریب پیش آیا تھا جہاں دو افراد نے رات گئے سڑک کنارے اپنی گاڑی میں مدد کے انتظار میں موجود ایک خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ریپ کیا تھا۔
وزیر اعظم نے اس تناظر میں ‘کیمیکل کیسٹریشن’ کا لفظ استعمال کیا جس کے بعد ہر کوئی اس پر بات کررہا ہے کہ یہ ہے کیا۔

کیمیکل کیسٹریشن کیا ہے ؟

کیمیکل کیسٹریشن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ظاہری طور پر مرد کے اعضاء تناسل کو نقصان پہنچایا جائے یا اس پر تیزاب ڈالا جائے ۔

کیمیکل کیسٹریشن ادویات اور کمیکل کے ذریعے مردانہ جذبات کو ختم کیا جاتا ہے، جس سے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو کم کیا جاتا ہے۔ ٹیسٹوسٹیرون وہ ہارمونز ہیں جو جنسی فعل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

سرجیکل کیسٹریشن سے مراد ظاہری طور ایک مخصوص جگہ کو جسم سے علیحدہ کردیا جاتاہے ، جبکہ کیمکل کیسٹریشن ایک مرتبہ کرنےوالا عمل نہیں اسے نگرانی کے ساتھ بار بار دہرانا پڑتا ہے ۔

جرنل آف کورین میڈیکل سائنس میں شائع ہونے والی ایک اسٹڈی کے مطابق کیمیکل کیسٹریشن بہت زیادہ کارآمد نہیں ہے اور اس کے طریقہ کار کے شدید مضر اثرات بھی ہیں۔کیمکل کیسٹریشن میں استعمال ہونے والی ادویات نہ صرف ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو کم کرتی ہیں بلکہ ایسٹروجن کی سطح کو بھی کم کرتی ہیں، ایسٹروجن ہارمون ہڈیوں کی نشوونما، پختگی ، دماغ اور دل کے کام کے لئے ضروری ہے۔ ایسٹروجن کی کمی ہڈیوں کی کمزوری ، دل کی بیماری اور میٹابولزم کی دشواریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسٹروجن میں کمی ڈپریشن،بانجھ پن اور خون کی کمی سے بھی وابستہ ہے۔

امریکہ ، برطانیہ ، جنوبی کوریا ، انڈونیشیا ، جرمنی ، ڈنمارک اور سویڈن جیسے ممالک میں جنسی مجرموں کے خلاف کیمیکل کیسٹریشن سے متعلق قوانین موجود ہیں لیکن ان میں یہ طریقہ رضاکارانہ ہے۔

بین الاقوامی کمیشن آف جیوریسٹ کی سینیئر قانونی مشیر ریما عمر کے مطابق کیمیکل کیسٹریشن کا استعمال پیڈو فائل اور بچوں کو ہراساں کرنے والوں پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ یہ بنیادی طور پر مجرموں کو جیل بھیجنے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جن کے نفسیاتی مسائل ہیں اور وہ معاشرے میں واپس جاکر دوبارہ جرم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل مجرموں کی عادات کو ختم کروانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اسے پیرول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اس عمل کے لئے مجرم کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔

اس طریقہ کار کو اس وقت ہی انجام دیا جائے گا جب مجرم اس کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ اس لیے تین سے چار سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طریقے کو مٹھی بھر ممالک ہی استعمال کرتے ہیں وہ بھی سخت پالیسیز کے اندر رہتے ہوئے۔

کیمیکل کیسٹریشن کے ذریعہ جنسی مجرموں کو سزا دینے کا عمل امریکہ کی نو ریاستوں میں متعارف کرایا گیا ہے، یہ پہلی دفعہ مجرموں کے لئے صوابدیدی ہے اور بار بار مجرموں کو جیل سے رہائی یا پیرول پر رہائی کے لئے بطور شرط لازمی ہے۔

ریما عمر نے کہا کہ وزیر اعظم کا کیمیکل کیسٹریشن سے متعلق سزا دینے کے بارے میں بات کرناسمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور ریپ کرنے والے مجرم دو الگ کیٹیگریز میں شامل ہیں، تحقیق اور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مجرموں کی نفسیات مختلف ہوتی ہیں اور وزیر اعظم کے بیان نے اس الجھن میں مزید اضافہ کیا ہے۔

بھارت میں متعدد سیاست دانوں نے 2012 میں دہلی گینگ ریپ کیس کے بعد کیمیکل کیسٹریشن کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ تاہم جے ورما کمیٹی جسے قوانین میں اصلاحات لا نے کی ذمہ داری دی گئی تھی اس نے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

ریاست کے لئے کیمیکل کیسٹریشن کا عمل ملک میں نافذ کرنا انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے انحراف کرنا اور غیر آئینی تصور کیا جائے گا کیونکہ کسی بھی شہری کی رضامندی کے بغیر اسے ممکنہ طور پر خطرناک طبی عمل سے گزارنا درست نہیں۔ اس وجہ سے ہم جنسی مجرموں کو سزا کے طور پر کسی بھی قسم کے کیمیکل کیسٹریشن کو لازمی کرنے کی سفارش نہیں کرتے۔

ریما عمر نے وضاحت کی کہ پاکستان میں عصمت دری کی سزا کے طور پر کیمیکل کیسٹریشن کا کوئی وجود نہیں ہے کیونکہ ملک میں پہلے ہی عصمت دری کے خلاف ایک اچھا قانون موجود ہے۔ قانون کے مطابق اجتماعی زیادتی کے مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسئلہ سزا کا نہیں بلکہ سزا دینے کے ارادے کا ہے۔ انہوں نے کہا ملک میں عصمت دری کے کم از کم 95 فیصد مشتبہ افراد کو نظام میں موجود خامیوں کی وجہ سے کبھی سزا نہیں ملتی ہے۔

منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری نے نشاندہی کی کہ زیادتی کرنے والوں کی سزا کو سخت کرنے کی بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جب ریاست ان کو سزا بھی نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عصمت دری کے واقعات میں ملوث مجرمان کو سزا دینے کی شرح 5 فیصد ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ایسے واقعات پے درپے ہورہے ہیں، واقعات پر ایک مہینہ شور ہوتا ہے پھر بھول جاتے ہیں، پاکستان میں ہر سال 5 ہزار ریپ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، پنجاب میں 190 کیسز گینگ ریپ کے رپورٹ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بے شمار لوگ یہ کیسز رجسٹر ہی نہیں کراتے ہیں۔ لوگ اس لیے کیس رپورٹ نہیں کرتے کہ کہیں پولیس افسر یہ نہ پوچھ لیں کہ پیٹرول کیوں چیک نہیں کیا۔ اس لیے کیسز رپورٹ نہیں ہوتے کہ ججز کے در پر چکر لگاتے رہو،آخر میں تاریخ پر پیشی کے لیے بھی پیسے ختم ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون پر عملدرآمد کروانا ہوگا۔ ہمارے سسٹم میں غلطیاں ہیں اس لیے ڈیلیور نہیں کرپا رہا ہے۔ عدالت، پولیس اور دیگر چیزوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف ریما عمر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جب ریپ کا مجرم جرم کرنے کا سوچتا ہے تو وہ سزا کے بجائے سزا یافتہ ہونے سے ڈرتا ہے۔ ہمارے ملک میں معاملات اور زیادہ آسان ہوجاتے ہیں کیونکہ مجرم جانتا ہے کہ اسے کبھی بھی نہیں پکڑا جاسکتا ہے اور اگر پکڑا گیا تو رہائی یا ضمانت بہت آسان ہوگی۔

لیگل ایڈ سوسائٹی کی ملیحہ ضیا بھی اسی طرح کی رائے رکھتی ہیں انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ریپ جیسے جرم کی روک تھام سزا سے ممکن نہیں بلکہ سزا کا ڈر ہے۔ “اگر آپ سخت سے سخت سزا دلوانا چاہتے ہیں تو آپ کو بھی زیادہ ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہے جو پاکستان میں کبھی نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پولیس اور عدالتی نظام ریپ کے واقعات کی مناسب طور پر تحقیقات کرنے کا اہل نہیں ہے اور اس قسم کی ناقص تحقیقات کے نتیجے میں ریپ سے بچ جانے والے افراد کے صدمے میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ 99 فیصد مقدمات میں مرد جج (جو ملک میں اکثریت میں ہیں) کو بچ جانے والے سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور پولیس ہمیشہ یہ مشورہ دیتی ہے کہ وہ اس کیس کو واپس لیں یا معاملات طے کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم سزاؤں پر توجہ دینے کی بجائے جنسی بیداری پیدا کرنے اور معاشرے کو ریپ کے بارے میں آگاہ کرنے پر کام کریں۔

انسانی حقوق کے خدشات

دنیا بھر میں کیمیکل کیسٹریشن کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ انسانی حقوق سے متعلق ہے۔ وار اگینسٹ ریپ کی ڈائریکٹر سارہ زمان نے اس سزا کو ظالمانہ اور غیر معمولی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی ہے، یہاں تک کہ ان ممالک میں جہاں کیمیکل کیسٹریشن نافذ کیا گیا ہے وہاں بھی اس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ریما عمر نے وضاحت کی کہ اس طرح کی سزائیں پرانے وقتوں میں دی جاتی تھیں تاہم جدید معاشروں میں یہ قابل قبول نہیں ہوسکتیں، یہ کسی شخص کے جسم اور اس کی ذاتیات پر واضح حملہ ہے اور خاص طور پر رضامندی کے بغیر یہ عمل نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقہ کار ہمیشہ کامیاب نہیں رہتا ہے اور جنسی خواہش میں کمی کی کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube