Monday, October 19, 2020  | 1 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

‘فوج پرتنقید: تحریک انصاف مجوزہ قانون کی حمایت نہیں کریگی’

SAMAA | - Posted: Sep 17, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Sep 17, 2020 | Last Updated: 1 month ago

بیرسٹر علی ظفر وزیراعظم ہاؤس میں عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں۔

ماہر قانون بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پاک فوج پر تنقید سے متعلق مجوزہ قانون سازی کی حمایت نہیں کرسکے گی کیوں کہ یہ آزادی اظہار رائے کے قانون کے خلاف ہے۔

بیرسٹر علی ظفر تحریک انصاف کے رکن اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ وزیراعظم قانونی معاملات پر ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا ہے۔ اس بل میں انہوں نے تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے۔

ان ترامیم کے تحت افواج پاکستان پر بطور ادارہ یا کسی فوجی افسر پر تنقید کرنے، اس کا تمسخر اڑانے یا بدنام کرنے پر دو سال قید کی سزا اور 5 لاکھ جرمانہ یا پھر بیک قید و جرمانہ دونوں سزائیں ہوسکیں گی۔

یہ بل قومی اسمبلی میں پیش ہوچکا ہے اور اس پر بحث ہونا باقی ہے۔ سماء ٹی وی کے اینکرپرسن ندیم مک نے اپنے پروگرام میں بیرسٹر علی ظفر سے پوچھا کہ کیا تحریک انصاف اس قانون کو منظور کروانے کی حمایت کرے گی۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ ایک پرائیویٹ ممبر بل ہے۔ جو ایک رکن اسمبلی نے اپنی سوچ اور ضمیر کے مطابق پیش کیا ہے اور یہ اس کا آئینی حق ہے۔ پھر پارلیمنٹ اس پر بحث کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ تحریک انصاف اس بل کی حمایت نہیں کرسکے گی۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میرے خیال میں اس قسم بل کی ضرورت نہیں۔ کسی بھی ادارے کو تنقید سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ جس ادارے پر تنقید ہوگی، وہ بہتری کی جانب جاسکے گا۔ چاہئے وہ عدلیہ سمیت کوئی بھی ادارہ ہو۔

امجد علی خان کی جانب سے یہ بل پیش ہونے سے قبل پاکستان کے مختلف شہروں میں تین صحافیوں کے خلاف پاک فوج کو بدنام کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جن میں کراچی کے بلال فاروقی اور اسلام آباد کے اسد طور شامل ہیں۔ ان کے ساتھ سنیئر صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پروگرام میں شریک سنیئر قانون دان سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو صحافیوں کے خلاف مقدمات کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانا چاہیے جبکہ حکومت کو بھی اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آخر غداری کے مقدمات کیوں درج کیے جارہے ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے وکلاء کو مشورہ دیا کہ وہ اس قسم کے مقدمات کا سامنا کرنے والے صحافیوں کو قانونی معاونت فراہم کریں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube