Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

لاہور میں ساڑھے10ہزار خواتین کیلئے صرف ایک لیڈی پولیس اہلکار

SAMAA | - Posted: Sep 16, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 16, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago
Lady police Lahore

فوٹو: آن لائن

اگست کی ایک تپتی دوپہر کو نادیہ ایک پولیس اسٹیشن میں کھڑی اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کر رہی ہیں۔ وہ ایک رکشے پر لگ بھگ 12 کلو میٹر کا سفر طے کرکے شمالی لاہور کے علاقے شاہدرہ سے لِٹن روڈ پر واقع اس تھانے میں پہنچی ہیں۔ وہ اپنے شوہر کے خلاف قانونی کارروائی کرنا چاہتی ہیں کیونکہ بقول ان کے وہ ان کے ساتھ جھگڑتا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ گو پہلے وہ شاہدرہ کے مقامی تھانے میں گئی تھیں لیکن وہ وہاں موجود مرد پولیس اہلکاروں کو اپنے مسائل نہیں بتا سکتی تھیں۔

نیوز ویب سائٹ سجاگ کی ایک رپورٹ کے مطابق جب نادیہ نے ان پولیس والوں سے کہا کہ وہ کسی خاتون اہلکار سے بات کرنا چاہتی ہیں تو انہوں نے انہیں اس تھانے کا بتایا جہاں خواتین کی شکایات خواتین ہی درج کرتی ہیں۔ لیکن یہاں پہنچنے کے لیے انہیں نہ صرف لاہور کی بے ہنگم ٹریفک میں سے ایک لمبا سفر کرنا پڑا بلکہ رکشے کے کرائے پر بھی ان کے اچھے خاصے پیسے خرچ ہوگئے۔

لِٹن روڈ کے اس تھانے میں وہ خاص بات ہے جو لاہور کے 85 دیگر تھانوں میں نہیں اور وہ یہ ہے کہ نہ صرف یہاں کا سارا عملہ خواتین پر مشتمل ہے بلکہ اس کی اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) بھی ایک خاتون ہیں۔ یہ تھانہ سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں بنوایا تھا۔

طوبیٰ منیر یہاں پر گذشتہ 2 سال سے بطور ایس ایچ او کام کر رہی ہیں۔ ان کے تھانے کے ریکارڈ کے مطابق رواں برس کے پہلے 8 ماہ کے دوران ان کے عملے نے محض 3 مقدمات درج کیے ہیں۔

طوبیٰ کے بقول اتنی کم تعداد میں مقدمے درج ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ وہ زیادہ تر شکایات کو عدالتوں میں پہنچنے سے پہلے ہی ’باہمی رضا مندی‘ سے حل کروا دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک انہیں گھریلو لڑائی جھگڑوں کی 200 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 197 کو عدالت میں لے جائے بغیر فریقین کی باہمی رضا مندی سے حل کروا دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مقدموں کی تعداد اس لیے کم ہے کیونکہ عورتوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کے زیادہ تر واقعات تھانے کی سطح تک بھی نہیں پہنچتے بلکہ گھروں کے اندر ہی دبا دیے جاتے ہیں۔

پنجاب کے صوبائی محکمہ پولیس کے اعداد و شمار اس کہانی کا ایک اور رخ بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لاہور میں تعینات پولیس اہلکاروں کی کل تعداد 27 ہزار 650 ہے۔ ان میں سے صرف 650 خواتین ہیں جن میں سے 497 مختلف تھانوں میں کام کر رہی ہیں جبکہ 153 مشتعل ہجوم کو قابو میں کرنے والی فورس کا حصہ ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ لاہور میں بسنے والی ہر 10 ہزار 600 خواتین کی شکایات کے اندراج اور ان کے حل کے لیے صرف ایک خاتون پولیس اہلکار موجود ہے کیونکہ سن 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق شہر میں خواتین کی کل آبادی تقریباً 53 لاکھ ہے۔

یوں لاہور کی سطح پر پنجاب پولیس میں خواتین کی نمائندگی مردوں کے مقابلے میں محض 2 اعشاریہ 4 فیصد بنتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں نادیہ کی طرح اپنے شوہروں کے ہاتھوں ستائی ہوئی خواتین کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح لِٹن روڈ تھانے پہنچ کر اپنی شکایت درج کرائیں۔

طوبیٰ منیر ایسی خواتین کی مشکلات سے آگاہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گھریلو لڑائی جھگڑے کا معاملہ ہو یا کسی خاتون کو کسی مرد کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایت درج کرانا ہو، مرد پولیس اہلکار ذاتی نوعیت کے ایسے سوالات پوچھتے ہیں کہ خواتین کے لیے مردوں کے سامنے ان کا جواب دینا ممکن نہیں ہوتا۔

خاتون ایس ایچ او کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہماری گھریلو خواتین کو یہ اعتماد مل جائے کہ تھانوں میں ان کی بات خواتین پولیس اہلکار سنیں گی تو وہ ان سب چیزوں کو کیوں برداشت کریں گی جو برادشت  نہیں کرنی چاہئیں۔

لہذا وہ سمجھتی ہیں کہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خواتین پولیس اہلکاروں اور خواتین کے لیے مخصوص تھانوں دونوں کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے۔

لیکن لاہور پولیس کے سربراہ ذوالفقار حمید کہتے ہیں کہ خواتین کے لیے مختص تھانوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے بقول ایسے تھانوں کا قیام صرف ایسےمقدمات کو نمٹانے کے لیے کیا گیا تھا جن میں دونوں فریق خواتین ہوں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے بجائے ان کا محکمہ خواتین اہلکاروں کی تعداد کو بڑھانے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ خواتین آفیسرز کی تعداد کو بڑھایا جا رہا ہے۔

نوٹ: اس رپورٹ کے لکھاری وارث پراچہ ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube