Monday, November 30, 2020  | 13 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

صحافی بلال فاروقی ڈیفنس پولیس اسٹیشن سے رہا

SAMAA | - Posted: Sep 12, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 12, 2020 | Last Updated: 3 months ago

کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی بلال فاروقی کو رہا کر دیا گیا۔ انہیں ڈیفینس میں واقع ان کی رہائش گاہ سے جمعے کی شام سادہ لباس افراد اور پولیس اہلکار نے گرفتار کیا تھا۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے صحافی بلال فاروقی کی رہائی سے متعلق ٹویٹر پر اطلاع دی۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں بخیریت گھر واپس پہنچا دیا گیا ہے۔

سماء ڈیجیٹل کو ایکسپریس میڈیا گروپ سے وابستہ بلال فاروقی کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر کو گرفتار کرکے لے جانے والے افراد ایک گھنٹے بعد ان کے گھر واپس آئے اور ان سے بلال کا موبائل فون جو گھر پر ہی رہ گیا تھا لے کر دوبارہ چلے گئے۔

اُن کی اہلیہ کو بتایا گیا کہ بلال ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں ہیں تاہم ان کی تسلی نہ ہونے پر بلال سے ان کی ایک منٹ تک موبائل فون پر بات بھی کروائی گئی۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بلاول کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا ہوا ہے تاہم معاملہ حساس ہونے کی وجہ سے مزید تفصیلات نہیں بتائی جاسکتیں۔

ایس ایس پی پولیس ساؤتھ شیراز نذیر نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے بلال فاروقی کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ بلال کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 505 اور پریونشن آف الیکٹرونک ایکٹ 2016 کے سیکشن 11 اور 20  کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

سیکشن 505 کے تحت جرم ثابت ہونے پر کسی بھی شخص کو 7 برس قید کی سزا ہوسکتی ہے جبکہ سیکشن 11 پر بھی اتنی ہی مدت متعین ہے۔ سیکشن 20 کے تحت 3 برس قید کی سزا اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔

ایف آئی آر جاوید خان نامی شخص کی جانب سے درج کرائی گئی ہے جن کا موقف ہے کہ بلال فاروقی نے اپنے فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹس پر مذہبی منافرت کی بنیاد پر انتہائی سخت بیانات دیے۔

جاوید خان لانڈھی کی ایک فیکٹری میں مشین آپریٹر ہیں۔ انھوں نے بلال فاروقی پر افواج پاکستان کو بدنام کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ بلال کی پوسٹ سے پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ نے بھی بلال کی گرفتاری کی سخت مذمت کی ہے اور ان کی فوری گھر واپسی کا مطالبہ کیا۔

بلال فاروقی کے ساتھ کام کرنے والے صحافی سمیر مندھرو نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا ہے کہ جب وہ ڈیفنس کے تھانے پہنچے اوربلال کے بارے میں دریافت کیا تو انھیں بتایا گیا کہ وہ یہاں نہیں ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل جبران ناصر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ان کی ڈیفنس تھانے میں بلال سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے ان کی ہتھکڑیاں کھلوائیں ۔ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ وہ بلال کی عدالت میں پیروی کریں گے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے دباؤ کی وجہ سے بلال سے دیگر لوگوں کی ملاقات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے تاہم وہ خیریت سے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube