Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

مقتولہ گل پانڑہ پر پہلے بھی حملہ ہوا تھا

SAMAA | - Posted: Sep 9, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 9, 2020 | Last Updated: 2 months ago

پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا

پشاور میں گزشتہ شب نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے خواجہ سرا گل پانڑہ کو قتل اور اس کی ایک ساتھی چاہت کو زخمی کردیا جو اس وقت اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے مگر ابھی تک کوئی ملزم نہیں پکڑا گیا۔ ایس پی کینٹ حسن جہانگیر نے سماء کو بتایا کہ مختلف زاویوں سے تحقیات کی جا رہی ہیں۔ ان خواجہ سراؤں کو اگر کسی کی جانب سے کوئ دھماکی ملی ہو، وہ بھی چیک کر رہے ہیں اور مشتبہ لوگوں سے بھی پوچھ گچھ چل رہی ہیں۔

مگر پشاور میں خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے سرگرم آرزو نے سماء ٹی وی کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گل پانڑہ کو ایک ماہ قبل بھی چند افراد نے فنکشن کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس پر گل پانڑہ نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی۔

آرزو نے بتایا کہ وہ ملزمان آج تک گرفتار نہ ہوسکے اور وہ گل پانڑہ کو دھمکیاں دیتے رہے کہ مقدمہ واپس نہ لیا تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ سراؤں پر تشدد کے واقعات میں پہلے پولیس اپنے فرائض پورے نہیں کرتی۔ اگر ملزمان عدالت پہنچ بھی جائیں تو رہا ہوجاتے ہیں۔ آج تک کسی خواجہ سرا کے قاتل کو سزا نہیں ملی جس کے باعث ملزمان کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔

خیبر پختونخوا خواجہ سرا ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ 5 برس میں 1500 خواجہ سراؤں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور 69 کو قتل کیا گیا ہے۔ ان پانچ برس میں کسی بھی ملزم کو قابل ذکر سزا نہیں ملی۔

شی میل ایسوسی ایشن کی سربراہ الماس بوبی نے کہا کہ 5 فیصد خواجہ سراؤں کے قتل فنکشن کے دوران تلخ کلامی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ پروگرام میں شریک ہر بندہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس کے سامنے رقص کیا جائے اور اسی بات پر جھگڑا بن جاتا ہے۔ پانچ فیصد ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہوتے ہیں جبکہ 90 فیصد قتل کے واقعات میں خواجہ سراؤں کے اپنے دوست ملوث ہوتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube