Saturday, October 24, 2020  | 6 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

دریائےسندھ کےتینوں بیراجوں پرسیلاب ڈکلیئر

SAMAA | , and - Posted: Sep 9, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Sep 9, 2020 | Last Updated: 1 month ago

پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ

دریائے سندھ میں کئی مقامات پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے ہورہا ہے۔گڈو پراونچے،سکھر پر درمیانے اور کوٹڑی بیراج پر نچلے درجے کا سیلابی ریلہ گذررہا ہے۔

محکمہ انہارنےبدھ کو بتایا ہے کہ گڈو بیراج سے نکلنا والا اونچا سیلابی ریلہ سکھر بیراج کے طرف تیزی سے بڑھنے لگا ہے۔ سکھربیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 60 ہزار 280 کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔سکھر بیراج پر پانی کا اخراج 4 لاکھ 18 ہزار 555 ریکارڈ کیا گیا۔

گڈوبیراج پربھی پانی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔گڈو بیراج پر پانی آمد پانچ لاکھ 70 ہزار 722 کیوسک ہوگئی ہے،گڈو بیراج سےپانی کااخراج 5 لاکھ 40 ہزار 650 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فلڈ کنٹرول روم نےبتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گڈوبیراج میں 22 ہزار کیوسک پانی کا اضافہ ہوا ہے۔کچے کا علاقہ مکمل ڈوب گیا ہے اور زمینی رابطہ منقطع ہونے سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سامان اور مویشی کے ساتھ حفاطتی بندوں اور محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرنے میں مصروف ہیں۔

ادھرکوٹڑی بیراج کی پانی سطح 2 لاکھ 2 ہزار 71 کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔کوٹڑی بیراج سے پانی کااخراج ایک لاکھ 97 ہزار 701 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

گھوٹکی میں دریائے سندھ میں قادر پورکے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔پانی میں اضافے کے باعث درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔کچے کےگاؤں شہاب الدین چاچڑ،یوسف چاچڑ،گاؤں قادرو سندرانی میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔گاؤں حبیب اللہ،سانود رئیس ،قاسم سانود اور مینگل چاچڑ کے  زمینی راستے زیر آب آگئے ہیں۔متاثرہ گاؤں کے رہنے والے گھروں تک محصورہوگئےہیں اوراشیاء خوردونوش کی قلت پیداہوگئی ہے۔ سیلاب کے باعث کچے کےعلاقےکےباسی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگےہیں۔

ادھررحیم یار خان میں بھی دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اورپانی کا بہاؤ 6 لاکھ کیوسک کے قریب پہنچ گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنرنےبتایا ہے کہ رحیم یار خان میں کچہ چوہان، رسول پور، جمہ واہ میں شگاف پڑ گیا ہے اورفیض آباد کے مقام پر شگاف پڑنے سے زمیندارہ بند ٹوٹ گئے ہیں۔ سیلابی پانی کی زد میں آ کر ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور سینکڑوں گھر متاثر ہوئےہیں۔

متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور 200 سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل کردئیے گئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ نےبتایا ہے کہ سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں 25 مقامات پرفلڈ ریلیف کیمپ قائم کیا گیا ہے اورریسکیو کیمپ بھی قائم کیے گئےہیں۔

 فلڈ ریلیف کیمپ میں سیلاب زدگان کو طبی سہولیات اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ سیلابی پانی سےمتعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوا ہے،سیلاب سے متاثرہ افراد کے قیمتی سامان اورمال مویشیوں کو باہر نکالا جا رہا ہے۔ ریسکیو اہلکار اور ٹائیگر فورس رضاکاروں کی جانب سے متاثرین کو لائف جیکٹس پہنا کر کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ادارے ہائی الرٹ ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube