قدرتی آفات:حکومت آپ کا گھر دوبارہ بنانے کی پابند ہے

SAMAA | - Posted: Sep 4, 2020 | Last Updated: 9 months ago
Posted: Sep 4, 2020 | Last Updated: 9 months ago

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان سیلاب متاثرہ شخص کو چیک پیش کر رہے ہیں

حالیہ دنوں میں سیلانے ملک کے بیشتر علاقوں کو متاثر کیا ہے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا میں شہری سیلاب اور خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں سیلابی ریلوں کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ جن لوگوں کا مالی نقصان ہوا، وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا حکومت ان کو معاوضہ ادا کرے گی۔

سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ریلیف اور بحالی والا کام بلدیاتی اداروں کے کام سے مختلف ہے۔ سڑکوں پر کھڑا پانی نکالنا، سڑکوں کی مرمت اور نالوں کی صفائی بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے جبکہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کی فوری امداد جیسے کھانے پینے کا انتظام، فوری رہائش کا بندوست، گرم کپڑے، ادویات و دیگر ضرورت کی اشیا فراہم کرنا ریلیف کے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ جن میں نیشنل ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی سمیت تمام صوبوں کے ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹیز شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان تیمور علی کے مطابق پی ڈی ایم اے کی پالیسی کے مطابق قدرتی آفات میں جاں بحق شخص کے اہل خانہ کو 3 لاکھ اور زخمیوں کے علاج کیلئے ایک لاکھ روپے نقد مالی امداد فراہم کرنا لازمی ہے۔

بحرین میں سیلاب کا منظر

مگر خیبر پختونخوا حکومت نے سوات کے علاقہ مدین میں سیلابی ریلے کے باعث جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو 5 لاکھ اور زخمیوں کو ایک لاکھ روپے نقد مالی امداد فراہم کی ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے علاقے سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی نے بتایا کہ ’ہم نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی تھی مالی امداد میں اضافہ کیا جائے۔ جس پر انہوں نے 2 لاکھ روپے اپنے صوابدیدی فنڈ سے جاری کرکے فی کس 5 لاکھ روپے ادا کیے۔‘

میاں شرافت علی کے مطابق حالیہ سیلابوں میں 16 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان سب کو سیلاب کے دو دن بعد امدادی چیک گھروں میں پہنچا دیے گئے ہیں۔ متاثرہ افراد نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

تیرات کے رہائشی پیر جان کے خاندان کے 7 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔ انہوں نے گزشتہ روز سماء ٹی وی کو بتایا کہ انہیں امدادی رقم مل گئی ہے مگر گھر کا معاوضہ تاحال نہیں ملا۔

کیا پی ڈی ایم اے گھر کا معاوضہ ادا کرنے کی پابند ہے؟

خیبر پختونخوا ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان تیمور علی کے مطابق پی ڈی ایم اے مقامی انتظامیہ یعنی پٹواری، اسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے وساطت سے سروے کرواتا ہے اور جن گھروں کو نقصان پہنچا ہے، ان کی لاگت تیار کرکے رپورٹ وزیراعلیٰ کو بھیج دیتا ہے۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ متاثرین کو گھروں کا معاوضہ ادا کرنے کی منطوری دیتے ہیں۔

مدین کے علاقہ تیرات میں تباہی کے مناظر

تیمورعلی کے مطابق ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کی پالیسی میں کاروباری نقصان کا ازالہ شامل نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی جمعہ کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے مقامی انتظامیہ کو نقصانات کا جائزہ لیکر رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سندھ کے ڈیزاسٹرمنجمنٹ اتھارٹی کے اسٹنٹ ڈائریکٹر مقصود سومرو نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ’ہم نے ہنگامی حالات کے دوران بلدیاتی اداروں کی بھی مدد کی ہے اور اس کے ساتھ ایمرجنسی حالات میں لوگوں کو کھانا اور رہائش فراہم کرتے ہیں اور پھنسے ہوئے لوگوں کو محوظ مقام پر منتقل کیا جاتا ہے۔‘

کیا سندھ حکومت متاثرہ افراد کو معاوضہ فراہم کرے گی۔ اس کے جواب میں امداد سومرو نے بتایا کہ ’یہ ریلیف کمشنر کا ڈومین ہے اور اس کے بارے میں وہی بتا سکتے ہیں۔ سندھ میں ریلیف کمشنر بورڈ آف ریونیو کے ایک سنیئر رکن کو لگایا جاتا ہے۔‘

کراچی میں سیلاب کے دوران جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور زخمیوں کی سندھ حکومت نے تاحال کوئی مالی امداد نہیں کی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube