Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

بلوچستان آپ کی کتابوں کا منتظر

SAMAA | - Posted: Aug 18, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Aug 18, 2020 | Last Updated: 1 year ago
Books

تحصیل وڈھ میں 500 کتابیں پہنچ گئیں۔ فوٹو: آن لائن

بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں ایلف شفق اور پائلو کوہلو نام کے مصنفین بہت مشہور ہیں اور یہ بات انتہائی عجیب ہے کہ وہاں ان مصنفین کی کوئی بھی کتاب فروخت کے لیے دستیاب نہیں۔

خضدار یونیورسٹی سے انجینئرنگ کے شعبے میں فارغ التحصیل سراج شیخ اور اس کے پانچ دوست جو ضلع بھر کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں چھوٹی لائبریریاں کھول رہے ہیں انہوں نے حال ہی میں وڈھ اسٹوڈنٹس لائبریری کھولی ہے۔ انہوں نے لائبریری کے قیام کے لیے ایک ایسی عمارت کا استعمال کیا جہاں منشیات کا استعمال ہوتا تھا۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سراج شیخ نے بتایا کہ لائبریری کے قیام کے لیے انہیں جگہ کی تلاش تھی لیکن کوئی جگہ نہ ملنے پر ہم نے ضلعی حکومت سے مدد کی درخواست کی۔ کچھ دن انتظار کے بعد ہمیں فون آیا اور اجازت ملی کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ایک پرانی خالی عمارت کو لائبریری کے لیے استعمال کیا جائے۔

تین کمروں والے مکان کی حالت خستہ تھی جبکہ اس کی چھت خراب اور دیواروں سے پینٹ اکھڑ رہا تھا۔ سراج اور اسکے دوست صبح 7 بجے سے رات دیر تک مسلسل 50 دن عمارت کو لائبریری میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرتے رہے۔ اس کام کے لیے انہوں نے اپنی جیب خرچ اور رہاشیوں سے چندہ لے کر سارا کام کیا۔

سراج شیخ نے بتایا کہ بعض افراد نے 1000 روپے اور کچھ نے 500 روپے عطیہ کیے جبکہ کچھ لوگوں نے مزدوری کی صورت میں ہماری مدد کی۔ انہوں نے یہاں شیلف بنائیں، دیواریں پینٹ کیں اور قالین بیچھایا۔

فوٹو: سماء ڈیجیٹل

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں ابھی بھی نئی ٹیبل اور کرسیوں کی ضرورت ہے کیونکہ پرانی ٹوٹ چکی ہیں۔ یہاں آنے والے بیشتر طلباء اسے اپنے لیے کوئی رکاوٹ نہیں سمجھتے اور فرش پر ہی بیٹھ جاتے ہیں۔

لوگوں میں راشن تقسیم کرنے والی ایک تنظیم بلوچستان یوتھ اگینسٹ کرونا وائرس (بی وائے اے سی) نے 500 کتابیں عطیہ کی ہیں۔ بی وائے اے سی کے بانی سکندر بزنجو نے ٹویٹر پر کھلی دعوت دی جو مدد کا باعث بنی۔

بزنجو کا تعلق بلوچستان سے ہے لیکن برطانیہ سے بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اب کراچی میں مقیم ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگوں کے لئے یہ حیرت کی بات ہوسکتی ہے لیکن بلوچستان کے لوگ بہت پڑھے لکھے ہیں۔ جب ہم نے وہاں کے نوجوانوں سے ان کی ضرورت کی کتابوں سے متعلق پوچھا تو ہمیں ایلف شفق اور پائلو کوہلو کے نام ہی موصول ہوئے۔

وہاں کے نوجوان علاقائی اور بین الاقوامی سیاست، ادب، نفسیات اور فلسفہ سے متعلق کتابیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی وائے اے سی بلوچستان میں اس طرح کی قائم کی گئیں 13 لائبریریوں کو کتابیں بھیجنے کا کام کر رہے ہیں جس میں ایک لائبریری آواران میں ہے جسے 2013 کے زلزلے میں شدید نقصان پہنچا۔ وہاں کے نوجوانوں نے اسکول کے طلباء کے لیے لائبریری قائم کی اور انٹرمیڈیٹ سمیت گریجویٹ کے طلباء کے لیے منصوبہ بنا رہے ہیں۔

ضلع نال میں ایک اور لائبریری بنائی جا رہی ہے۔

لائبریری کے قیام کا مرحلہ کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران شروع ہوا کیونکہ ملک کے دیگر حصوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے والے طلباء اپنے گاؤں واپس آگئے۔

سراج شیخ کا کہنا تھا کہ جب میں کوئٹہ کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا تو میں صبح 5 بجے اٹھ کر شہر لائبریری جایا کرتا تھا اور پھر مجھے بیٹھنے کی جگہ ملتی تھی۔

سراج جب اپنے گھر واپس آیا تو اسے احساس ہوا کہ وڈھ میں کوئی بھی لائبریری موجود نہیں ہے۔ سراج ایک چھوٹے سے گاؤں ٹک سے تعلق رکھتے ہیں جوکہ وڈھ سے 25 کلومیٹر دور ہے۔

کسان کا بیٹا سراج واحد شخص ہے جو اپنے گاؤں سے یونیورسٹی تعلیم کے لیے گیا۔ اس کے گاؤں کے بیشتر طلباء پرائمری اسکول کے بعد تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔

بلوچستان کی لائبریریوں کو کتابیں کیسے عطیہ کریں؟

اگر آپ بھی لائبریریوں کو کتابیں بھیجنا چاہتے ہیں تو بزنچو سے بذریعہ ای میل اور سوشل میڈیا پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ بی وائے اے سی کا کہنا ہے کہ ہمارا ٹویٹر اکاؤنٹ ایکٹو ہے اور لوگ روزانہ اس کے ذریعے ہی رابطہ کرتے ہیں۔ بی وائے اے سی خود ہی کتابیں پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔

بزنجو نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومتی بجٹ پر چلنے والی سرکاری لائبریریوں کے برخلاف ان کمیونٹی لائبریریوں میں بڑے کمرے اور اونچی چھتیں نہیں ہیں۔ ان کا مقصد نوجوانوں کو ایسی جگہ مہیا کرنا ہے جہاں وہ پر سکون سے پڑھ سکیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube