Wednesday, September 30, 2020  | 11 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

حکومت سندھ نے تاریخی مسجد کو سفید پینٹ نہیں کیا

SAMAA | - Posted: Aug 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Aug 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Sindh-govt-used-correct-restoration-method-in-Tando-Fazal-experts

فوٹو: محکمہ ثقافت سندھ کے ترجمان سعید میمن

سندھ کے علاقے ٹنڈو فضل میں تاریخی ہنگورانی ماریون مسجد کی بحالی پر محکمہ ثقافت و نوادرات کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے بالکل ٹھیک کام کیا۔

بدھ 12 اگست کو محکمہ کی جانب سے مسجد کی بحالی کی تصویر ٹویٹر پر شائع کی گئی جس پر بیشتر صارفین نے ناراضی کا اظہار کیا۔ مسجد کی تصویر دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسا کہ اس پر سفید پینٹ کیا گیا ہو۔

صارفین نے محکمہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ثقافتی ورثے کو تباہ کر رہی ہے۔ اس پوسٹ کے بعد مختلف میمز بھی بنائی گئیں۔

بعدازاں وزیر ثقافت سردار علی شاہ نے ٹویٹر پر بحالی کے عمل کی تفصیلات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی جس میں واضح کیا گیا کہ مسجد پر سفید پینٹ نہیں کیا گیا بلکہ چونا پھیرا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اینٹ کی چنائی پر پہلے جپسم (چیرولی) لگایا گیا تھا پھر اس پر جوٹ اور پہاڑی ریت کا چونا ملا اس پر ڈالا گیا۔ اس کے بعد مزدوروں نے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لئے صابن پتھر کے پاؤڈر (سنجیرات) کے ساتھ چونے کا پیسٹ لگایا۔

رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا کہ چونکہ سارا کام بغیر کسی کیمیائی اور مصنوعی رنگ کے کیا گیا تھا اس لیے محفوظ شدہ یادگار کی شکل سفید نظر آتی ہے۔

آرکیٹیکٹ اور ورثہ سے متعلق کنسلٹنٹ ماروی مظہر نے وزیر ثقافت کی رپورٹ کو درست قرار دیا ہے۔ انہوں نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہر کوئی اسے سفید پینٹ کہہ رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، یہ چونے کا پلاسٹر ہے۔ محکمہ نے ڈھانچے کو چونے کی مدد سے محفوظ کیا ہے اور اس میں کچھ غلط نہیں‘‘۔

تصویر پر بےتحاشہ تنقید کے بعد محکمہ نے سوشل میڈیا سے اس پوسٹ کو ہٹا دیا مگر ماروی مظہر محکمہ کے اس عمل سے خوش نہیں ہوئیں۔ انہیں لگتا ہے کہ لوگوں کے ایسے رد عمل کی وجہ سے حکومت مستقبل میں کسی بھی منصوبے کی ایک جامع رپورٹ شیئر کرنے سے گریزاں ہوگی۔

مظہر نے مزید کہا کہ جب تک مشروط سروے رپورٹ شائع نہیں ہوتی تب تک لوگ محکمہ کے طریقہ کار کو غلط قرار نہیں دے سکتے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ محکمہ کو چاہیئے کہ منصفانہ کام اور شفافیت کی ترغیب دینے کے لئے اوپن کال پر ٹینڈرز کا اعلان کرے اور آئندہ اس طرح کے انتشار سے بچ جائے۔

تاریخ دان اور ورثہ کے ماہر ڈاکٹر کریم اللہ لاشاری نے بھی صوبائی حکومت کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے، ہمیں اس کام کی تعریف کرنی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک روایتی طریقہ استعمال کیا ہوگا جس میں جگہوں کی بحالی کے لیے کلی چونا کا استعمال شامل ہے۔ اس سے چونے کو سفید اور چمکدار بنانے میں مدد ملتی ہے، اس وجہ سے لوگوں نے اسکو کیمیکل پینٹ سمجھا ہے۔

نوٹ: حکومت سندھ کی جانب سے مسجد کی بحالی کے عمل سے متعلق اب تک ماہرین کے متنازعہ بیانات آچکے ہیں۔ ہم نے بی بی سی کے رپورٹر ریاض سہیل سے بات کی جنہوں نے نگرپارکر کے گوری مندر اور ہنگورانی ماریون مسجد کی بحالی سے متعلق خبر شائع کی تھی۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بحال کی جانے والی سائٹ کا دورہ کرکے ہی حقائق تک پہنچا جاسکتا ہے کیونکہ زیادہ تر ماہرین محض تصویر پر ہی رائے دے رہے ہیں۔ سندھ میں فی الحال پانچ یا چھ مندروں کو بحال کیا گیا ہے اور صوبائی حکومت نے صرف ہنگورانی ماریون مسجد کی بحالی کے عمل سے متعلق ہی وضاحت جاری کی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube