Sunday, September 27, 2020  | 8 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

کراچی کو دریا بننے سے بچالیں

SAMAA | - Posted: Aug 13, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Aug 13, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Karachi rainy road

کراچی میں تیز بارش کے بعد سڑکوں پر پانی جمع ہے۔ فوٹو: آن لائن

کیا آپ شہر کراچی میں رہتے ہیں؟ اگر ہاں، تو اس شہر کو روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، اس بات سے تو واقف ہونگے۔ لیکن دریاٶں کا شہر اِسے کیوں کہا جانے لگا ہے، اس کی اہم وجہ جانتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ابھی معلوم ہوجائے گی۔

ویسے دنیا میں بے شمار خوبصورت شہر ہیں لیکن ان میں ایک اٹلی کا شہر ’’وینس‘‘ ہے، جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے مقبول ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل ہے۔ یہاں آمدورفت کے لیے کشتیاں استعمال ہوتی ہیں، اس لیے ’’وینس‘‘ کو جھیلوں اور دریاؤں کا شہر کھا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح شہر کراچی کو بھی روشنیوں کا شہر کا جاتا ہے، لیکن شدید بارشوں کی وجہ یہ شہر دریاؤں کے شہر میں تبدیل ہوگیا ہے۔

تباہی کی اہم وجہ؟

چونکہ ترقی یافتہ شہروں اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے بنے ہوئے شہروں کے لوگوں میں بڑا فرق ہے۔ وہ بارش سے لطف اندوز ہوتے ہیں، بجائے کہ ہماری طرح کہ ایک بوند گرنے پر ’’ہائے ہائے‘‘ کرتے ہیں۔ ارباب اختیار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم شہر کو ’’پیرس‘‘ بنا دیں گے، یعنی اتنی سہولیات ہوں گی، جس کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہونے لگے گا۔ لیکن بدقسمتی سے حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ المیہ صرف یہ ہے، جو وعدے ہوتے ہیں وہ پورے نہیں ہوتے ہیں۔ جس وجہ کراچی جیسا میگا سِٹی دریا بن جاتا ہے۔ کیونکہ ان ایوانوں اور محلوں میں بیٹھے حکمران کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ’’ابرِ رحمت‘‘ ہر ایک کے لئے ’’زحمت‘‘ بن جاتی ہے۔ اب مسلہ سارا یہ ہے کراچی کو دریا بننے سے کیسے بچائیں۔

آبادی میں تیزی سے اضافہ

شہر کراچی کی 70فیصد آبادی کچی بستیوں میں رہائش پذیر ہے، جبکہ ایک اندازے کے مطابق اس میں سالانہ 10 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اب ان بستیوں کو ایک منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا تھا، لیکن ان بستیوں میں سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ جب کہ سیورج کا نظام کرڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر تو ہوا ہے، لیکن دیکھ بھال نہیں ہونے کی وجہ سے مکمل تباہ ہوگیا۔ چنانچہ ان کا رخ بھی فطری نالوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ لہذا ان علاقوں میں جو سیورج کا نظام تباہ ہوا ہے، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر علاقوں میں گہرے نالوں پر مشتمل نظام قائم کیا گیا تھا، جسے بہتر طریقے سے چلانا اور اس کی دیکھ بھال کرنا مشکل کام تھا۔

کراچی میں کتنی بارشیں ہوتی ہیں؟

یوں تو مون سون کی جب لہر آتی ہے، زیادہ بارشیں لاتی ہے، زیادہ بارشیں زیادہ پانی لاتی ہیں۔ لیکن بارشوں کی خواہش کرنا بھی مہنگی پڑسکتی ہے۔ جبکہ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے آرکائیوز کو دیکھیں، تو معلوم ہوگا کہ جولائی کے مہینے میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش سن 1967 میں ریکارڈ ہوئی تھی۔ اس بارش کی مقدار 429.3 ملی میٹر تھی۔ اب اتنی بارشوں سے جو صورت حال بگڑی تھی، اس پر سب خاموش ہیں۔ لیکن شہر کراچی میں بارش کی سالانہ اوسط 174.6 ملی میٹر کے قریب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہر کراچی میں اربن فلڈنگ کا جوخدشہ ہے، اس کی وجہ 26 جولائی کی بارش کی مقدار ہے۔ جبکہ سیوریج کا ناقص نظام شہر کو مزید ڈوبا رہا ہے۔

برساتی نالوں پر قبضہ، صفائی میں دشواری

برساتی نالے برسات کے پانی کو آگے لے جانے کے لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ تیزی کے ساتھ پانی بہہ جائے لیکن ان برساتی نالوں میں لوگ کچرا پھینکتے رہتے ہیں، جس وجہ سے پانی کی روانی متاثر ہوتی ہے جبکہ صفائی کے دوران شدید دشواری پیش آتی ہے۔ اکثر نالوں پر تجاوزات قائم ہیں، حتیٰ کہ لیز تک بھی حاصل کر لی ہے۔ جس بنا پر 40 فٹ کے نالے پر 2 فٹ جگہ رہ گئی ہے۔ عوام کو سوچنا چاہیے، کیا اس پریشانی کے وہ خود ذمہ دار ہیں؟ اور عوامی نمائندے، تو سو رہے ہیں۔

چنانچہ سولجر بازار نالے بہ شمول اس کی چار شاخیں (4,000 فٹ) اور سٹی ریلوے اسٹیشن نالے (10,825 فٹ) سے ملحقہ علاقے زیر آب آجانے کی اہم وجہ ان نالوں کی ٹھیک طرح سے صفائی نہ ہونا ہے جبکہ ان نالوں کا پانی براہ راست سمندر میں جاتا ہے۔ حیرت انگیز  بات یہ ہے، سولجر بازار نالے کا دہانہ پہلے 65 فٹ چوڑا تھا لیکن اب تقریباً 35 فیٹ ہی رہ گیا ہے۔ بالکل اسی طرح سٹی ریلوے اسٹیشن نالے کا دہانہ پہلے تقریباً 45 فیٹ چوڑا تھا، لیکن اب کم ہوکر 30 فیٹ ہی رہ گیا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال تقریباً ہر نالے کی ہے۔ سارا مؤثر حکمت کے فقدان کا ہے۔

چنانچہ سمجھ دار کہتے ہیں اچھے وقت میں برے وقت سے بچنے کی تیاری کر لینی چاہیے۔ لیکن ہم تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ بالخصوص عوام اور ارباب اختیار کو سنجيدگی کے ساتھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس مقصد کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ہمارا شہر دریاؤں کے شہر ’’وینس‘‘ جیسا نظر نہ آئے کیونکہ وہاں کے لوگوں نے اسے دلکش بنا دیا ہے۔ ہمارے شہر کراچی کو ’’وینس‘‘ جیسا ترقی یافتہ بننا چاہیے۔ لیکن ’’وینس‘‘ کی طرح دریاؤں کا شہر نظر نہیں آنا چاہیے تاکہ کراچی دریا بننے سے بچ جائے۔

تعارف: بلاگر طالب علم ہیں، صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں، سماجی مسائل پر باقاعدگی سے لکھتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ فنِ خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان سے ای میل ایڈریس پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

khateebahmed64@gmail.com

WhatsApp FaceBook

One Comment

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

  1. نباہت علی  August 17, 2020 12:02 pm/ Reply

    بہت خوب ، ایک اچھا اندازِ بیان۔

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube