Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

سپریم کورٹ میں جی آئی ڈی سی کیخلاف کمپنیزکی تمام اپیلیں خارج

SAMAA | - Posted: Aug 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Aug 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago

جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ تشکیل دیا تھا

سپریم کورٹ نےجی آئی ڈی سی کیخلاف کمپنیزکی تمام اپیلیں خارج کردیں۔سپریم کورٹ نے حکومت کو سیس بقایاجات وصولی تک مزید سیس عائد کرنے سے روک دیا ہے۔

جمعرات تیرہ اگست کواسلام آباد میں سپریم کورٹ نے20فروری 2020 کومحفوظ شدہ فیصلہ سنادیا۔ سپریم کورٹ کے3رکنی بنچ نے2ایک کی اکثریت سے فیصلہ سنایا۔سپریم کورٹ نے جی آئی ڈی سی کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیاہے۔جسٹس فیصل عرب نے 47 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے 31 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ لکھا۔

فیصلے میں درج ہے کہ جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 کا مقصد گیس کی درآمد کیلئے سہولت دینا تھا، جی آئی ڈی سی کے تحت نافذ کی گئی لیوی آئین کے مطابق ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو سیس بقایاجات وصولی تک مزید سیس عائد کرنے سے روک دیا ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2020-21 کیلئے گیس قیمت کا تعین کرتے وقت اوگرا سیس کو مدنظر نہیں رکھ سکتا،تمام کمپنیوں سے 31 اگست 2020 تک کی واجب الادا رقم 24 اقساط میں وصول کی جائے۔

عدالت نے حکومت کو شمال جنوبی پائپ لائن منصوبہ پر کام 6ماہ میں شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ٹاپی منصوبہ بھی پاکستانی سرحد تک پہنچتے ہی اس پر فوری کام شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ پاک ایران اورٹاپی منصوبوں پرکام نہ ہواتوجی آئی ڈی سی ایکٹ غیرفعال تصورہوگا۔ اس کے علاوہ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ رواں ماہ تک قابل وصول رقم 700 ارب روپے تک پہنچ جائے گی،اب تک سیس کی مدمیں295 ارب روپے وصول کیےجاچکےہیں۔

حکومت نےآرڈیننس کےذریعےجی آئی ڈی سی کے220ارب روپےمعاف کیےتھے۔ اپوزیشن کی تنقید پرحکومت نےآرڈیننس واپس لےلیاتھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت کمپنیزکوگیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس کی مدمیں417ارب روپےاداکرنےہونگے۔ 60 کمپنیوں نے کمپنیزکوگیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس صارفین سے وصول کرلیا تھا لیکن حکومت کو ادائیگیاں نہیں کی جارہی تھیں۔

اس کیس میں پہلےہائیکورٹ نےحکومت کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی کہ جو درخواستیں التوا کا شکار ہیں ان پر جلد فیصلہ کیا جائے کیوں کہ حکومت کو بھاری مالی خسارہ ہورہا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ تشکیل دیا تھا جن پر طویل سماعتیں ہوئی تھیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube