Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

قربانی کےجانوروں کوتکلیف پہنچانےکے بڑھتےواقعات

SAMAA | - Posted: Aug 3, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 3, 2020 | Last Updated: 2 months ago

جانور میں نقص آجائے تو قربانی نہیں ہوتی

جس طرح پالتو جانوروں اور پرندوں کی مناسب دیکھ بھال گھر کے مکینوں کا فرض ہوتا ہے اسی طرح قربانی کیلئے لائے گئے جانوروں کا خیال رکھنا بھی ان کے مالکان کی ذمہ داری ہوتی ہے کیوں کہ ایسے بے زبان کا بھی سارا انحصار اشرف المخلوقات پر ہی ہوتا ہے۔

عیدالضحیٰ کے دوران جانور کی قربانی کی عظيم سنت کی ادائيگی کے موقع پر بے احتیاطی کے باعث جانوروں کو شدید تکلیف و اذیت پہنچائے جانے والی خاصی ويڈيوز سوشل ميڈيا پر وائرل ہوئیں۔ ایسے جانوروں میں سے کچھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جانے کے دوران اور کچھ ویسے ہی گلی کوچوں اور سڑکوں پر گشت کروانے کے موقع پر بدک کر یا کسی اور وجہ سے زخمی ہوئے۔ اس دوران کہیں کہیں متعلقہ لوگ یا راہگیر بھی زخمی ہوئے۔

دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن گمان یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے کچھ واقعات نمود و نمائش کے شوق کی تکمیل کی خاطر جانوروں کو بلاوجہ ٹہلانے حتیٰ کہ دوڑ بھی لگانے کے نتیجے میں رونماء ہوتے ہیں اور کچھ میں خواہ دکھاوے کا عنصر نہ بھی ہو لیکن متعلقہ افراد کی بے احتیاطی بہر حال ضرور نظر آتی ہے۔ تاہم ایسے کچھ واقعات میں محض حادثے کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

کراچی کی ایک ویڈیو ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کسی اناڑی کے ہاتھوں جزوی طور پر ذبح کیا گیا ایک اونٹ بھاگ کر پل پر پہنچ گیا جسے اس کا تعاقب کرنے والے گروہ نے پکڑا اور مارا اور اس کے بعد پل پر ہی ذبح کرديا۔

ايک اور ویڈیو کراچی کے علاقے سرجانی ٹاون کی ہے جہاں گھر کی چھت پر رکھے ہوئے بيل کو قربانی کيلئے بالائی منزل سے کرین کی مدد سے اتارا جانے لگا جس دوران وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور کمر کے بل زمین پر آ گرا۔ اسے بھی فوری طور پر ذبح کردیا گیا۔

سوشل میڈیا پر یہ بھی تنقید دیکھنے میں آئی کہ يہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جب جانور چھت پر رکھا جاسکتا تھا تو وہیں ذبح کيوں نہيں کیا جاسکا اور اسے بلاوجہ بلند عمارت سے نیچے کیوں اتارا جا رہا تھا۔ تاہم یہ واضح نہ ہوسکا کہ اسے کسی مجبوری کی وجہ سے نیچے اتار کر ذبح کیا جا رہا تھا یا ایک یہ پہلو بھی مد نظر تھا کہ اتنا اچھا جانور خاموشی سے گھر کے اندر ہی قربان کرنے کے بجائے محلے کے ہجوم کی موجودگی میں کیا جائے۔

تاہم جن صاحب کا بیل تھا انہوں نے سماء کے پروگرام 7 سے 8 میں گفتگو کے دوران اس حادثے کا ملبہ گلی میں موجود سيوريج اور کرین آپریٹر کی لاپرواہی پر ڈال دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیل کو صاف ستھری جگہ رکھنے کی غرض سے انہوں نے اسے مکان میں اوپر چڑھایا تھا اور عید کے پہلے روز ذبح کرنے کیلئے اسے نیچے اتارا جا رہا تھا کہ وہ حادثہ ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عمل کسی ریا کاری کا نتیجہ نہیں تھا اور جانور کو جو تکلیف پہنچی اس پر وہ اللہ تعالیٰ سے معافی کے خواستگار ہیں۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی محمد زبیر نے مذہب میں بالخصوص قربانی کے جانوروں کے ساتھ غیر معمولی حسن سلوک کے احکامات بیان کرتے ہوئے کہا کہ دکھاوا، ریا کاری اور نام و نمود کی خاطر ایسی حرکتیں جو بسا اوقات شرک تک بھی جا پہنچتی ہیں حرام تو ہیں ہی لیکن اس قسم کے حادثے کے بعد اگر جانور میں کوئی نہ کوئی نقص پیدا ہوجاتا ہے تو اس صورت میں اس کی قربانی نہیں ہوسکتی ہاں اگر سانس چلنے کے دوران ذبح ہوگیا تو کھانے کے لحاظ سے حلال ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگر جانور پالنے والوں کو بھی مذہب پابند کرتا ہے کہ وہ ان کے پنجروں کی کشادگی، مناسب خوراک و ماحول وغیرہ کا خاص خیال رکھیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube