Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

پاک افغان سرحدکی بندش، چمن کے تاجروں کاعید پراحتجاج ملتوی

SAMAA | - Posted: Jul 31, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 31, 2020 | Last Updated: 2 months ago
CHAMAN, AFGHANISTAN, PAKISTAN,

فوٹو: خان زمان کاکڑ

چمن میں پاک افغان سرحد کی بندش پر دو ماہ سے جاری احتجاج جمعرات کے روز اس وقت شدت اختیار کرگیا جب 5 افراد کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔

کوئٹہ سول اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر مالک نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی علاقے سے 3 افراد کی لاشیں اور 15 زخمیوں کو کوئٹہ لایا گیا ہے۔

تاجر اور مقامی شہری تقریباً 2 ماہ سے احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے تاہم جمعرات کو سرحد کی جانب جانے پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اسسٹنٹ کمشنر چمن ذکاء اللہ درانی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 5 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں تاہم اب مذاکرات کے بعد حالات کنٹرول میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو اور دیگر حکام نے تاجروں سے مذاکرات کرکے انہیں عید الاضحیٰ کے موقع پر احتجاج نہ کرنے پر راضی کرلیا۔

کمشنر چمن نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے حکومت عید کے بعد سرحد پر آمد و رفت کھولنے کیلئے تیار ہے تاہم حتمی اعلان پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان بات چیت کے بعد کیا جاسکتا ہے۔

تاجروں کی تنظیم انجمن تاجران بلوچستان کے رکن محمد اسلم اچکزئی کا دعویٰ ہے کہ فرنٹیئر کور کے سپاہیوں نے ’’پرامن‘‘ مظاہرین پر فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دو ماہ سے احتجاج کررہے ہیں لیکن کل سے قبل علاقے میں ایک بھی پر تشدد واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ جب وہ جمعرات کو سرحد پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پہنچے تو وہاں حالات پہلے سے کشیدہ تھے۔

اسلم اچکزئی نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ نے ان کے مطالبات مان لئے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ افغان حکام سے مذاکرات کے بعد سرحد پر آمد و رفت کھول دی جائے گی، ساتھ ہی سرحد پر پیش آنیوالے ناخوشگوار واقعے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بھی بنائی جائے گی۔

سماء ڈیجیٹل سے متعدد بار ایف سی حکام سے ان کا مؤقف جاننے کیلئے رابطہ کی کوشش کی تاہم اب تک ان کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں آیا۔

وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر پاکستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں، عوام کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن سیکیورٹی معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرحد پار بیٹھے دشمن اور کئی قوتیں ملک کو غیرمستحکم کرنے کیلئے سازشیں کررہی ہیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے، دھرنے پر بیٹھے پُرامن لوگوں کو کچھ شرپسند عناصر کی جانب سے مشتعل کرکے سرحد پار کرنے اور حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔

فری لانس جرنلسٹ سید ارباز شاہ کا کہنا ہے کہ یہ سرحدی کراسنگ لوگوں کے روزگار اور مقامی معیشت کی لائف لائن ہے، جب یہ بند ہوتی ہے تو ان کی روزی بند ہوجاتی ہے، جس سے مایوسی پھیلتی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا چمن واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فورسز نے باب دوستی پر نہتے شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی، پاکستانی چیک پوسٹوں پر تعینات فوجیوں کو بھی نشانہ بنایا، پاکستان کا اقدام صرف اپنے دفاع کیلئے تھا، پاکستانی فورسز نے اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے جوابی کارروائی کی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے فوری عسکری و سفارتی ذرائع کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد افغان فورسز کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ رُکا، چمن باررڈ افغانستان کی درخواست پر تجارت اور نقل و حرکت کیلئے کھولا تھا، پاکستان دو طرفہ تجارت جاری رکھنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے چمن واقعے سے متعلق کہا کہ کل کچھ لوگوں نے بارڈر کھولنے کیلئے زبردستی کی، سرحد پار سے  فائرنگ بھی کی گئی، چیک پوسٹ کو نقصان پہنچا تو پاکستان نے بھی جواب دیا، اسمگلنگ میں ملوث عناصر نے لوگوں کو اکسایا جو کشیدگی کا سبب بنا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube