Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

سوات: ہزاروں سال پرانے آثارو نوادرات اصل حالت میں موجود

SAMAA | - Posted: Jul 23, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 23, 2020 | Last Updated: 3 months ago

اطالوی ماہرین 1956 سے آثار قدیمہ کی دریافت کر رہے

وادی سوات میں ہزاروں سال پرانے کھنڈرات سے دریافت ہونے والے قیمتی آثار و نوادرات اور بدھا کے مجسمے آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہيں۔ بیشتر نوادرات عجائب گھر کی زینت بنے ہوئے ہیں۔

اطالوی ماہرین کی جانب سے 1956 سے آثار قدیمہ کی دریافت کا کام جاری ہے جبکہ 1963 میں بننے والے سوات میوزیم ان نوادرات کا خزانہ ہے۔

ماہر آثار قدیمہ فضل خالق کہتے ہیں کہ قیمتی مجسمے موجود ہیں اور اب آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ اس کو محفوظ بنا رہا ہے اور نوجوان بھی اس کو اپنا سمجھ کر حفاظت کر رہے ہیں۔ بہرحال، ذیادہ تر مجسمے تباہ ہوچکے ہیں۔

ریجنل آفیسر محکمہ آثار قدیمہ نیاز علی شاہ کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے شورش کے دوران بدھا کے مجسمے کو نقصان پہنچایا گیا لیکن اس امن کے بعد اصلی حالت میں مرمت کرلیا گیا ہے اور اب سخت قانون سازی کی گئی جس کے تحت ایسے عناصر کی سرکوبی کی جاتی ہے۔

سوات کا یہ تاریخی خطہ آج بھی بدھ مت کے پیروں کاروں کا گہوارہ ہے جہاں پر وہ آزادانہ طور پر مذہبی رسومات اداکرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube