Wednesday, January 27, 2021  | 12 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

اعلیٰ عدلیہ اورججزکودھمکیاں دینےوالےملزم آغاافتخارکاصحتِ جرم سے انکار

SAMAA | - Posted: Jul 23, 2020 | Last Updated: 6 months ago
Posted: Jul 23, 2020 | Last Updated: 6 months ago

اعلیٰ عدلیہ اورججز کو دھمکیاں دینے والے ملزم آغا افتخار الدین مرزا نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران انھوں نے کہا کہ اپنا دفاع کروں گا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ سے گواہان اور شواہد طلب کرلیے۔ ایف آئی اے سے ملزم کی فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق پیشرفت رپورٹ بھی مانگ لی گئی۔

جمعرات کوتوہین عدالت کیس کےملزم افتخارالدین مرزا نے اپنا بیان بدل لیا۔پچھلے بیان میں وہ پہلے غیرمشروط معافیاں مانگتے رہے،فردِجرم عائد ہوئی توصحت جرم سے ہی انکار کردیا۔ سپریم کورٹ میں سماعت کےدوران افتخار مرزا نے کہا کہ اپنا دفاع کروں گا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےریمارکس دیئے کہ معافی ناموں کے باوجود صحت جرم سے انکاری ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔ وکیل صفائی نےٹرائل کورٹ کےفیصلے تک کارروائی مؤخرکرنے کی استدعا کی اور کہا کہ ایک ہی ویڈیو کی بنیاد پر2 مقدمات بنے ہیں،عدالت نےاستدعا مسترد کردی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے ایک ویڈیو میں 4 قوانین پامال کئے توہرادارہ حرکت میں آئےگا،ہرجرم کےٹرائل کا طریقہ،شواہد اور سزا الگ ہوتی ہے،ویڈیو میں جسٹس فائزعیسیٰ کودھمکی دی گئی جو فوجداری جرم ہے۔

ایف آئی اے نے ملزم کے رابطوں سے متعلق رپورٹ پیش کردی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کانٹیکٹ لسٹ 486 افراد پرمشتمل ہے،26 افراد کیساتھ رابطے زیادہ ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ معاون خصوصی شہزاد اکبر نے شامل تفتیش ہوکر افتخار الدین سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ سے گواہان اور شواہد  طلب کرلئے۔ایف آئی اے کوملزم کےفنڈنگ ذرائع سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتےہوئےمزید سماعت 3ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube