Friday, September 25, 2020  | 6 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

کراچی چڑیا گھر کی 150ویں سالگرہ، میئرکراچی نے کیک کاٹا

SAMAA | - Posted: Jul 22, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 22, 2020 | Last Updated: 2 months ago

 

پاکستان کے سب سے بڑے چڑیا گھر کی آج 150 ویں سالگرہ کے موقع پر کراچی زو میں کیک کاٹا گیا، میئر کراچی نے عوام کو صحتمند ماحول کی فراہمی کیلئے سبزہ زار کی تزین و آرائش اور سفید شیر کے پنجرے کا افتتاح کیا۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ سالانہ 3 لاکھ سے زائد افراد کراچی چڑیا گھر میں تفریح کیلئے آتے ہیں۔ انہوں نے کراچی زولوجیکل گارڈن کو عنقریب فیملی زو کا درجہ دینے کا بھی اعلان کردیا۔

پاکستان کے سب سے بڑے چڑیا گھر کراچی زو کو 150 سال مکمل ہوگئے، اس موقع پر گارڈن میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، میئر کراچی وسیم نے کیک کاٹا اور عوام کو صحتمند ماحول کی فراہمی کیلئے سبزہ زار کی تزین و آرائش کے ساتھ چڑیا گھر میں سفید شیر کے پنجرے کا بھی افتتاح کیا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کراچی زولوجیکل گارڈن کو عنقریب فیملی زو کا درجہ دینے کا اعلان کردیا، جس کیلئے بلدیہ عظمیٰ کراچی پہلے ہی ایک قرار داد منظور کرچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نایاب اور قیمتی جانوروں کا بھی اضافہ کردیا گیا، چڑیا گھر کے تالاب کو بھی ٹھیک کیا ہے تاکہ شہریوں کو سرسبز و خوبصورت ماحول میں کشتی رانی کی سہولت فراہم کی جاسکے، اس کے علاوہ یہاں جانوروں کے علاج کیلئے اسپتال قائم کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی الٰہ دین پارک میں تفریحی سہولیات چلانے کے لیے دوبارہ ٹینڈر کرے گی، موجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نظر نہیں آرہا، حکومت اگر چاہے تو اگست میں بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کرسکتی ہے۔

انہوں نے اس قدیم ترین مقام کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ کراچی زو شہر کا قدیم ترین مقام اور پاکستان کا سب سے بڑا چڑیا گھر ہے، جسے برطانوی حکومت نے 1890ء میں قائم کیا تھا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کراچی چڑیا گھر میں زو ڈائریکٹریٹ کے دفتر کی تزین و آرائش اور پبلک اناؤنسمنٹ سسٹم کا بھی افتتاح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چڑیا گھر کی زمین 1884ء میں کراچی میونسپلٹی کے حوالے کی گئی تاکہ یہاں شہریوں کیلئے خوبصورت گارڈن بنایا جائے، 33 ایکڑ رقبے پر محیط چڑیا گھر کے 40 فیصد حصے میں 900 سے زائد جانور رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1913ء میں مہاتما گاندھی کے دورے کے موقع پر کے ایم سی نے متفقہ قرار منظور کرکے اسے گاندھی گارڈن کا نام دیا تاہم قیام پاکستان کے بعد 1955ء میں کراچی میونسپلٹی نے داخلہ ٹکٹ کا نظام شروع کرنے کے ساتھ اس کا نام تبدیل کرکے کراچی زولوجیکل گارڈن رکھنے کی قرار داد منظور کی تھی۔

وسیم اختر نے بتایا کہ کراچی چڑیا گھر میں 1952ء میں مچھلی گھر بھی تعمیر کیا گیا، 1960ء اور 70ء کے عشروں میں متعدد ترقیاتی کاموں کے ساتھ مغل گارڈن کی تعمیر بھی کی گئی۔

میئر کراچی کے مطابق کراچی چڑیا گھر میں سالانہ 3 لاکھ سے زائد افراد فیملیز کے ہمراہ تفریح کیلئے آتے ہیں، کراچی چڑیا گھر میں بدھ کا دن صرف خواتین اور بچوں کیلئے مخصوص ہے، چڑیا گھر کا 60 فیصد حصہ سرسبز باغات، تالابوں، مغل گارڈن، کینٹین، تفریحی پارک، پلے لینڈ اور دیگر سہولیات کیلئے وقف ہے۔

کے ایم سی نے حال ہی میں کراچی چڑیا گھر میں جانوروں کے پنجروں، در و دیوار اور جنگلوں پر رنگ و روغن کرکے اسے خوشنما بنایا ہے جبکہ اطراف میں قائم دکانیں بھی مسمار کردی گئی ہیں، جس سے اس کی خوبصورت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

میئر کراچی نے بتایا کہ کراچی زو کے اسٹاف بشمول سیکیورٹی گارڈ، مالی، زو کیپرز اور سوئپرز کو مخصوص یونیفارم بھی فراہم کردیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube