Thursday, August 6, 2020  | 15 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

کیا ڈرامہ ارطغرل غازی سمیت دیگر ڈرامے دیکھنا جائز ہے؟

SAMAA | - Posted: Jul 14, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: Jul 14, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago

فوٹو: انادولو نیوز ایجنسی

ترک سیریز کا مشہور ڈرامہ ارطغرل غازی سمیت دیگر ڈراموں کو مسلمانوں کے لیے دیکھنا جائز ہے یا نہیں،اس سے متعلق مذہبی حلقوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

ڈرامہ ارطغرل غازی اس وقت پاکستان میں انتہائی مقبول ہے اور نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد ڈرامے کو دیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ بعض حلقے یہ کہتے ہیں کہ ارطغرل ڈرامہ دیکھنے سے مثبت پہلو نکلے گا جبکہ بعض منفی پہلو نکلنے کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔

سماء ڈیجیٹل نے ڈرامہ ارطغرل غازی سے متعلق جب جامعہ دارالعلوم کراچی سے رابطہ کیا تو انہوں نے اسلامی ڈراموں سے متعلق پہلے سے جاری ایک فتوے کی کاپی ارسال کردی۔اس فتوے میں اسلامی ڈراموں سمیت دیگر ڈراموں کو اسلام کے خلاف سازش کا ایک حصہ قرار دیا گیا۔

فتوے کے مطابق ’’اسلام اور اسلامی شخصیات کو یا ان کے کارناموں کو ڈراموں یا ویڈیو فلموں کے ذریعہ پیش کرنا خود ان ہستیوں کی شان مجروح کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ڈراموں میں غلط بیانی اور غلط انتساب تقریباً لازمی ہے، لہٰذا اس کو اسلامک ڈرامہ کہنا یا اس طرح ڈراموں کی شکل میں بلند پایہ شخصیات کا کردار پیش کرکے اسے اسلام کی خدمت سمجھنا درست نہیں‘‘۔

فتوے میں کہا گیا کہ ’’ڈراموں میں اپنی طرف سے حلیہ، لباس اور گفتگو کو منسوب کیا جاتا ہے جو درحقیقت اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اسلام کےخلاف سازش کا ایک حصہ ہے، لہٰذا اس طرح کی فلمیں بنانا، دیکھنا اور دکھانا گناہ ہے اور مسلمانوں کو اِن سےمکمل پرہیز کرنا لازم ہے‘‘۔

دوسری جانب مذہبی اسکالر مفتی محمد زبیر نے واضح کیا کہ جامعہ دارالعلوم نے خصوصاً ڈرامہ ارطغرل غازی کیخلاف کوئی فتویٰ جاری نہيں کيا بلکہ ایسے ڈراموں کے لیے جاری ہوا تھا جس میں انبیاء کرام کی تشبیہات، اصحاب کرام اور دیگر مشہور شخصیات کو دکھائے جانے کا معاملہ تھا۔

سماء ڈیجیٹل نے مفتی زبیر کے بیان پر جب جامعہ دارالعلوم کراچی رابطہ کیا تو انہوں نے بھی ان کے بیان کی تائید کی اور کہا کہ مفتی زبیر درست کہہ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان ڈرامہ ارطغرل سے متعلق کہہ چکے ہیں کہ ایسے ڈرامے اسلام کے مختلف پہلو دکھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

نوٹ: اس خبر میں تصحیح کی گئی ہے۔ دارالعلوم کراچی کی جانب سے خاص طورپر ترک ڈرامے ارطغرل سے متعلق کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا گیا۔ جو فتویٰ جاری کیا گیا اس میں بتایا گیا کہ کسی ڈرامے یا فلم میں اسلام یا اسلامی شخصیات یا اِن کا کارناموں کی عکاسی کرنا ممنوع ہے۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

  1. Anonymous  July 15, 2020 12:54 pm/ Reply

    Sadudi
    Funded

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube