Wednesday, August 5, 2020  | 14 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

پاکستان: کروناوائرس سے صحتیاب 8بچے سوزش کی بیماری میں مبتلا

SAMAA | and - Posted: Jul 9, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
Posted: Jul 9, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

پاکستان میں کرونا وائرس سے صحتیاب ہونیوالے 24 بچوں میں کاواساکی۔طرز کی سوزش کی بیماری کی علامات رپورٹ ہوئی ہیں۔ لاہور میں اس بیماری کا شکار ایک بچہ زندگی کی بازی ہار گیا، سوجن کی علامات سے جڑی یہ ملک میں پہلی ہلاکت ہے۔

سماء کے پروگرام نیا دن میں گفتگو کرنیوالے رپورٹر دانیال عمر کے مطابق پاکستان کے شہر لاہور کے چلڈرن اسپتال میں رپورٹ ہونیوالے سوزش کی بیماری میں مبتلا بچوں کی عمریں 5 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔

چلڈرن اسپتال لاہور کے ڈین پروفیسر مسعود صادق نے بچوں میں اس بیماری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں اب تک 8 ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ لاہور میں انتقال کرنیوالے بچے کی عمر 11 سال تھی۔

بیماری کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کاواساکی۔لائیک ملٹی سسٹم انفلیمیٹری سینڈورم کہلاتی ہے مگر کاواساکی ڈیزیز کی طرح نہیں ہوتی۔

کاواساکی بیماری بچوں میں پائی جانیوالی انتہائی کمیاب اور نامعلوم خطے سے تعلق رکھنے والی بیماری ہے، جو جسم میں موجود خون کی رگوں میں سوزش کا سبب بنتی ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اس بیماری کے شکار بچوں کی اوسط عمر 2 سال ہے جبکہ 75 فیصد 5 سال سے کم کے بچے اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں، لڑکیوں کی نسب لڑکوں کے اس بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات ڈیڑھ گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

کاواساکی۔لائیک ملٹی سسٹم انفلیمیٹری سینڈورم کا تعلق کرونا وائرس سے ہے اور یہ رواں سال وباء کے دوران ہی سامنے آیا ہے۔ اس سے متاثر وہ بچے ہورہے ہیں جو کرونا وائرس انفیکشن سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ اس کی علامات 2 سے 6 ہفتوں کے دوران سامنے آنا شروع ہوتی ہیں۔

اس بیماری کی علامات کی پہلی نشانی عام طور پر بخار، پیٹ کا درد، قے و دست، آنکھوں کا سرخ ہونا اور جلد پر دھبے شامل ہیں۔ کچھ بچوں میں منہ اور زبان کا سرخ ہونا اور کچھ کے گردن کے غدود میں سوزش کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہے۔

یہ بیماری دل پر دباؤ ڈالتی ہے، جس کی وجہ دل تک خون لے جانیوالی رگوں میں سوزش ہے جو زیادہ مقدار میں خون کو دل تک پہنچانے سے قاصر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسپتال داخل ہونے والے بہت سے بچوں میں دل کی پیچیدگیاں نظر آئیں۔

پروفیسر صادق کا کہنا ہے کہ لاہور میں اس بیماری کے تمام مریض لڑکے اور 5 سال سے زائد عمر کے ہیں۔

اسپتال لائے بچے دو طرح کے تھے : جن میں علامات واضح تھی مگر ان کی بیماری سنجیدہ نوعیت کی نہیں تھی اور دوسرے وہ جو کم بلڈ پریشر، ٹھنڈے ہاتھ اور پاؤں کے ساتھ آتے ہیں جن کو جھٹکوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

پروفیسر صادق کا کہنا ہے کہ اس میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، اگر اس کی تشخیص وقت پر ہوجائے تو اس کا علاج کیا جاسکتا ہے، علاج کیلئے انہیں دل اور پھیپھڑوں کے حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ آئی وی آئی جی (انٹروینیس امیونوگلوبولن)، اسٹیرائیڈ اور اسپرین کی ہائی ڈوز دی جاتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں اس نئی بیماری کے معیاری علاج کے مطابق ہے۔

تمام بچوں کا کرونا وائرس اینٹی باڈیز ٹیسٹ مثبت آیا۔ پروفیسر صادق کا کہنا ہے کہ صحتیاب مریض 4 سے 6 ہفتوں تک وائرس کا بہاؤ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم عملے کو وہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جو کرونا وائرس کے مریضوں کیلئے کی جاتی ہیں۔

وائرس کے بہاؤ سے متعلق امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پرویونشن کا کہنا ہے کہ کہ دیگر وائرس کے تجربات کی بنیاد پر اس بات کا امکان نہیں کہ ایسے افراد دوسروں میں یہ مرض منتقل کرسکتے ہیں۔

کووڈ۔19 سے صحتیاب ہونیوالے مریضوں سے یہ مرض دوسروں کو لگنے کے تاحال کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں۔

ڈین چلڈر اسپتال لاہور پروفیسر صادق نے مزید بتایا کہ بچوں میں سوزش کی بیماری کے پاکستان میں مزید کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ اسلام آباد میں دو سے تین، اور کراچی کے این آئی سی ایچ، آغا خان یونیورسٹی اسپتال اور انڈس اسپتال میں بھی ایک درجن سے زائد بچے اس بیماری کا شکار ہیں۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب بہت سے بچے کرونا وائرس سے صحتیاب ہوکر اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے کا کافی وقت گزار چکے ہیں۔

لاہور کے چلڈرن اسپتال کے ڈین نے ایسے والدین جن کے بچے کرونا وائرس سے صحتیاب ہوئے ہیں، کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنے بچوں میں اس بیماری کی نشانیوں اور علامات پر نظر رکھیں اور علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ان کا علاج کرائیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube