Thursday, August 13, 2020  | 22 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

کلبھوشن نےاپنی سزاکیخلاف نظرثانی درخواست سےانکارکردیا

SAMAA | - Posted: Jul 8, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jul 8, 2020 | Last Updated: 1 month ago

قونصلر رسائی بھی دی گئی

ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان کا کہنا ہے کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث رہا، تاہم پاکستان نے اپنی عالمی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا اور کلبھوشن کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا بھی آپشن دیا، تاہم اس نے انکار کردیا۔ بھارت کو دوسری قونصلر رسائی کی پیشکش کی ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی عمارت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان اور ڈی جی جنوبی ایشیاء و سارک زاہد حفیظ نے مشترکا پریس کانفرنس کی۔

سزائے موت پانے والے بھارتی جاسوس کا اعترافی بیان

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل احمد عرفان نے بتایا کہ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ ہم نے عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق تمام اقدامات کیے۔ پاکستان اپنی عالمی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ عالمی عدالت کے فیصلے پر کلبھوشن کی والد اور بہن سے دوبارہ ملاقات کرا رہے ہیں۔ اس سے قبل کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کرائی گئی۔ پاکستان نے کلبھوشن کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا بھی آپشن دیا، تاہم اس نے انکار کردیا۔ پاکستان کا قانون فیصلے کی ازسر نو جائزہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن نے اپنے ازسرنو فیصلے کے جائزہ لینے کے حق کو رد کیا۔ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے تیار ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی کمانڈر یادو کی اہل خانہ سے ملاقات کرا چکا ہے۔ یہ دنیا پر ظاہر ہوگیا ہے کہ بھارت پاکستان میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ پاکستان نے عالمی دنیا کو بھارتی ریاستی دہشتگردی کے ثبوت پیش کیے۔ پاکستان، مسلسل ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کی کارروائیوں بارے دنیا کو مطلع کرتا رہا ہے۔

بھارتی وکیل کا معاملہ

احمد عرفان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے اپنا وکیل پیش کرنے کی درخواست کی ہے۔ پاکستان نے بھارتی وکیل پاکستانی عدالت میں پیش ہونے کو رد کردیا ہے۔ تاحال علم نہیں کہ کیا بھارت نے کسی وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں یا نہیں۔ صرف پاکستانی ہائی کورٹ کے لائسنس یافتہ وکلاء پیش ہوسکتے ہیں۔ کمانڈر یادیو یا اس کا وکیل رحم کی اپیل دائر کرسکتا ہے۔ کمانڈر یادیو کو دوبارہ قونصلر تک رسائی کی پیشکش کی ہے۔ امید ہے بھارت پاکستان کی پیشکش کا مثبت جواب دے گا۔

ڈی جی جنوبی ایشیاء اور سارک

مشترکا پریس کانفرنس میں ڈی جی جنوبی ایشیا اور سارک کا کہنا تھا کہ آرڈینیس کے تحت 60 روز کے اندر کیس کی دوبارہ سماعت شروع کی جاسکتی ہے۔ کمانڈر یادیو کے والد ان سے ملاقات کرسکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube