Friday, August 14, 2020  | 23 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

اسلام آبادمیں مندر،مذہبی وسماجی پہلوؤں کاجائزہ لیں گے، نورالحق قادری

SAMAA | - Posted: Jul 6, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Jul 6, 2020 | Last Updated: 1 month ago

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر سے متعلق تمام مذہبی اور سماجی پہلوؤں کا جائزہ لے گی، مندر کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی نہیں ہے، پاکستان تمام مسالک اور مذاہب کے لوگوں کا ملک ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے پیغام امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اسلام آباد میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر دو روز قبل (4جولائی کو) روک دی گئی تھی، سی ڈی اے کے ترجمان مظہر حسین کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے مندر کی تعمیر کا بلڈنگ پلان جمع نہیں کرایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کسی بھی طرح کی تعمیرات چاہے وہ رہائشی ہوں یا تجارتی، اس کیلئے بلڈنگ پلان (نقشہ) منظور کرانا ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ مندر کے حوالے سے صورتحال غیریقینی نہیں ہے، تمام مذہبی و سماجی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، علماء کی رائے کا احترام اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرینگے، مندر سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کو حکومت کی رہنمائی کا ٹاسک دیا گیا۔

انہوں نے اتحاد بین المسالک کیلئے پیر نقیب الرحمان اور مولانا عبدالخبیر آزاد کی کاوشوں کو لائق تحسین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور دینی اجتماعات میں تشدد کی لہر آچکی ہے، جو مسلکی و مذہبی حوالے سے افراتفری کو مزید فروغ دیتا ہے، انشاء اللہ امن اور اتحاد کا پیغام ہر ممبر و محراب سے مسلمانوں کے دلوں میں پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ تفرقہ بازی کی کوشش شیطانی اور اتحاد کی کوشش رحمانی ہے، نور الحق قادری نے زور دیا کہ اپنے مسلک کو چھوڑیں نہیں اور دوسرے مسالک کو چھیڑیں نہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مدینہ اور مشہد سے چھپنے والا قرآن ایک ہی ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں، تمام مسلک فساد پھیلانے والوں سے اعلان لاتعلقی کریں، ایسا کرنے سے امہات المومنین اور اہل بیت سے متعلق گستاخانہ گفتگو کسی مسلک کی نہیں بلکہ انفرادی ہوگی۔

پیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام مسالک اور مذاہب کے لوگوں کا ملک ہے، ضرب عضب پاکستان کا آپریشن تھا کسی ایک فرقے کا نہیں، دلیل کے ذریعے سلجھے ہوئے انداز میں ہونیوالے اختلاف کی گنجائش موجود ہے، پیغام پاکستان نامی دستاویز پر سات ہزار سے زائد علماء کے دستخط ہیں۔

وفاقی زیر نے واضح کیا کہ پاکستان کی ریاست کسی کو بدمعاشی نہیں کرنے دے گی، ریاست نے پہاڑوں میں موجود شرپسندوں کو نہیں چھوڑا تو شہروں والے کیسے بچیں گے، ریاست سے پہلے علماء کی ذمہ داری ہے کہ امن کو فروغ دیں۔

پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان، طالبان اور لسانیت کے کارڈ کھیلنے والے ناکام ہوچکے، پڑوسی ملک اب سنی شیعہ اور دیوبندی کارڈ کھیلنا چاہتا ہے، علماء مل کر دشمنوں کو تقسیم کارڈ نہیں کھیلنے دینگے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube