Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

بین الاقوامی ایرلائنز سے وابستہ پاکستانیوں سےمتعلق خطوط موصول ہوئےہیں،غلام سرور

SAMAA | - Posted: Jul 4, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 4, 2020 | Last Updated: 4 months ago

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے کہا ہے کہ 262 مشکوک لائسنس کے حامل پائلٹس کو گراونڈ کر دیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی ایرلائنز میں کام کرنے والے پاکستانی افراد کے بارے میں خطوط موصول ہوئے ہیں اور اس حوالے سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔

اسلام آباد میں پبلک سیکریٹریٹ میں 4 جولائی کو وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ انہیں ملائیشیا کی جانب سے کوئی فہرست نہیں ملی  تاہم امارات ایر لائن کی جانب سے فہرست آئی ہے۔

گفتگو کی ابتداء میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس پریس کانفرنس کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں بلکہ محض صحافیوں سے ایک ملاقات کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث وہ کافی دنوں بعد آج سیکرٹریٹ آئے۔

غلام سرور نے کہا کہ تمام کاموں سے متعلق حکومتی اقدامات نتائج پر منحصر ہوتے ہیں تاہم بھارت سے بھی موازنہ کیا جائے تو پرفارمنس کے اعتبار سے پاکستان خاصا بہتر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہمارے مقابلے میں ایک بڑی معیشت ہے لیکن ہمارے احساس پروگرام کو ہی دیکھ لیں جو بہترین انداز میں چل رہا ہے۔

اسلام آباد میں پبلک سیکریٹریٹ میں 4 جولائی کو وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس خطاب کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں، صحافیوں سے ایک ملاقات کے لیے یہاں بلایا ہے، کرونا کی بنا پر کافی دنوں بعد آج سیکرٹریٹ آیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام کاموں سے متعلق حکومتی اقدامات نتائج پر منحصر ہوتے ہیں، بھارت سے موازنہ میں بھی پاکستان بہت بہتر ہے۔ بھارت ہمارے مقابلہ ایک بڑی معیشت ہے، ہمارے احساس پروگرام کو دیکھ لیں، کہ احساس پروگرام بہترین انداز میں چل رہا ہے۔،

سابق ادوار کا ذکر کرتے ہوئے غلام سرور نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف حکومت کے دور میں لئ ایکسپریس تیز چل رہا تھا، تاہم سال 2008 کی حکومت نے لئ ایکسپریس وے کو پس پشت ڈال دیا، لئ ایکسپریس وے پنڈی اسلام کے شہریوں کے لیے ہے، راول پنڈی کیلئے وزیراعظم نے 100 ارب کے منصوبہ دیئے ہیں۔

آپریشن پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری اسپیشل پروازیں چل رہی ہیں، آپریشن تاحال معطل ہے، ہماری فلائنگ وہی کرے گا جس کے کلئیر ہونگے، سابق ادوار کا گند ہم صاف کر رہے ہیں۔ مختلف اداروں میں 10 سال میں 11 چیف ایگزیکٹو بدلے گئے۔ جن لوگوں نے ادارے تباہ کئے ان پر غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے۔ چیلنج کرتا ہوں کہ 2018 کے بعد خسارہ کم ہوا۔ سال 2008 میں اسٹیل مل خسارہ میں جارہی تھی۔ 2008 میں آئین مکمل بحال ہوا چوروں کی حکومت آئی اسٹیل مل خسارہ میں تھی۔ 2006 کے بعد سے پی آئی اے نے کوئی جہاز نہیں خریدا۔ کراچی حادثہ والا پائلٹ جعلی نہیں تھا۔ ہمارے پاس دنیا کے بہترین پائلٹس موجود ہیں۔ سب سے پہلے لوگوں کی جان کا مسئلہ ہے۔ جو ٹھیک ہونگے وہ اور ٹھیک ہونگے۔ اگر کسی کی جگہ کسی کوالیفائیڈ نے پیپر دیا تو وہ بھی نہیں بچ پائے گا۔ جن 5 افراد کو سول ایوی ایشن نے نوکری سے نکالا ان کے کیس ایف آئی اے میں جائے گا۔ ان لوگوں کے خلاف کرمنل کیس بھی درج ہونگے۔ لاک ڈاؤن اور کرونا کے باعث دنیا کی ایوی ایشن صعنت کو ساڑھے تین سو بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ ہم نے ابھی تک کسی بھی ورکر کو نہیں نکالا۔ ہم خسارے میں جارہے ہیں لیکن کسی کو نکال نہیں رہے۔ 4 بلین روپے ماہانہ خسارہ تھا جب ہم حکومت میں آئے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نقصان میں نہیں تھی،2 بلین ہفتہ وار بھی نقصان ہوا ہے۔

پائلٹس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پائلٹس کی ڈگری کے معاملے پر سوموٹو لیا کہ قومی ایرلائن کے ملازمین کے قوائف دیکھے جائیں، 336 لوگوں کی ڈگریاں ہمارے دور میں چیک ہوئیں، جس میں کیبن کرو، پائلٹ مکینک بھی شامل ہیں، جب ان افراد کو نوکری سے باہر کرو تو یہ عدالت میں چلے جاتے ہیں، میں اس معاملے پر پیچھے نہیں ہٹا، میں سینیٹ اور پارلیمنٹ گیا اور ایک ماہ میں عبوری رپورٹ پیش کی۔ ماضی کے 4 فضائی حادثات کی بھی چھان بین کرائی گئی۔ کچھ پائلٹس کی ڈگریاں چیک کی تو وہ بھی جعلی نکلیں۔ اپنی غلطی ماننے کی ہمت ہونی چاہیے۔ انکوائری کے جو نتائج سامنے آئے اس میں پائلٹ کی غلطی سامنے آئی۔

مئی 22 کو کراچی میں ہونے والے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پائیلٹ دنیا سے پہلے چلا گیا، اب مرنے والا غلطی پر ہو تو غلطی مانی جائے۔ سیاستدان، سرکاری افسران کی ڈگری میں فرق ہوسکتا ہے۔ انکوائری سے متعلق وزیراعظم کا پریشر تھا کہ انکوائری جلد مکمل کی جائے۔ 850 سے 262 پائلٹ کے لائسنس مشکوک ہیں۔ انکوائری افسر نے ایک رپورٹ میں یہ بتایا۔ کہ 28 کیس ایسے ہیں جن کو شو کاز دیا، چارج شیٹ کیا اور پرسنل سنوائی ہوگی۔ 28 میں سے 9 نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کرلیا۔ یہ سب وزیراعظم کو بتایا گیا تو کیا قوم کو بتانا نہیں چاہئے تھا؟۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے غلام سرور نے کہا کہ شہباز شریف پوری دنیا میں عمران خان کو چور کہتے ہیں، مگر شہباز شریف صاحب آپ کا تو پورا ٹبر چور ہے، وزیراعظم نے کہا مکمل سمری تیار کر کے کابینہ میں لائیں، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 262 میں سے مزید 30 افراد کو شوکاز کردیا ہے، دیگر ممالک کی جانب سے پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر غلام سرور نے کہا کہ ہمیں ملائیشیا کی جانب سے کوئی فہرست نہیں ملی، امارات ایرلائن کی جانب سے فہرست ملی ہے، 262 مشکوک لائسنس کے حامل پائلٹس کو گراونڈ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ایرلائن میں کام کرنے والے پاکستانی افراد کے بارے لیٹر ملے ہیں۔ ان تمام تر لیٹر کی تفتیش کر رہے ہیں۔

ایوی ایشن سے متعلق انہوں نے بتایا کہ 20 ارب کا نقصان ایوی ایشن کو ہوچکا ہے۔ کابینہ میں اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے۔ نئی ایرلائن سیال لائسنس لے چکی ہے۔ سیالکوٹ چیمبر نے یہ لائسنس لیا ہے۔ 4 نئے اے 320 جہاز لئے جو اپریل میں آنا تھا۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ پی آئی اے کو واپس سنہری دور میں لے جانا ہے۔ ہمارے دائیں بائیں چور ہوگا تو وہ بھی جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube