Saturday, October 31, 2020  | 13 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

پاکستان کا29جون کوکرتارپورراہداری کھولنےکااعلان،بھارت کوآگاہ کردیا

SAMAA | - Posted: Jun 27, 2020 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Jun 27, 2020 | Last Updated: 4 months ago

پاکستان نے29 جون کو کرتار پور راہداری کھولنے کے انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ انتظامات کی تیاری کے حوالے سے بھارتی حکومت کو باضابطہ آگاہ کردیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ک مطابق پاکستان مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی پر کرتارپور راہدرای کھولنے کو تیار ہیں۔ جس کیلئے انتظامات کی تیاری کے حوالے سے بھارتی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مذہبی مقامات کو بتدریج کھولا جارہا ہے۔ یہ قدم بھی اس ہی سلسلہ کی کڑی ہے۔ 16 مارچ کو کرونا کے باعث کرتار پور راہداری کو بند کیا تھا۔

دوسری جانب شاہ محمود قریشی کا ٹویٹ میں کہنا تھا کہ دنیا بھر میں عبادت گاہیں کھولی جا رہی ہیں، 29 جون سے کرتارپور راہداری کھولنے کیلئے تیار ہیں، وزیر خارجہ کے مطابق کوریڈور کھولنے کا فیصلہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے کیا ہے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ

مہاراجہ رنجیت خود ایک پکے سکھ تھے اور ان کا عقیدہ گروہ گرنتھ صاحب پر تھا۔ کرتار سنگھ دوگل کے مطابق جنگ کے میدان میں بھی گرو گرنتھ کو ایک ہاتھی پر لاد کر لے جایا جاتا تھا۔ مہاراجہ رنجبت سنگھ کی حکومت باباگرونانک کے فلسفے پر چلائی جاتی تھی۔

وہ 40 برس تک پنجاب پر حکمران رہے۔ رنجیت سنگھ پاؤں زمین کے بجائے رکاب میں رکھنا زیادہ پسند کرتے تھے۔ ان کے شاہی اصطبل میں 12 ہزار گھوڑے تھے اور کہا جاتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی 20 ہزار روپیوں سے کم میں خریدا نہیں گیا تھا۔ ان میں سے ایک ہزار گھوڑے صرف مہاراجہ کے لیے مخصوص تھے۔

وہ تھکے بغیر گھنٹوں گھڑ سواری کر سکتے تھے۔ کوئی پریشانی ہوتی یا غصہ تو گھڑسواری سے اپنے حواس بحال کرتے۔ دو گھوڑے ہمیشہ ان کی سواری کے لیے تیار ہوتے تھے اور گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ان کا دماغ خوب چلتا۔

یہی وجہ ہے کہ انگریز بادشاہ نے جہاں انھیں اسکاٹش گھوڑے تحفے میں دیے تو حیدرآباد کے نظام نے بڑی تعداد میں عربی گھوڑے بھجوائے۔ انہیں اپنے گھوڑوں سے اتنا پیار تھا کہ انہوں نے اپنے گھوڑوں کو نسیم، روحی اور گوہربار جیسے شاعرانہ نام دے رکھے تھے۔

مہاراجا کے بیٹے دلیپ سنگھ کی دو بیٹیوں میں سے ایک کا نام بمبا تھا جو سدرلینڈ سے بیاہی گئیں۔ عمر کے آخری حصے میں بمبا برطانیہ سے لاہور منتقل ہو گئیں۔

بمبا نے سنہ 1957 میں موت سے پہلے اپنا بیشتر ورثہ حکومتِ پاکستان کے سپرد کر دیا تاکہ اس کی دیکھ بھال کی جا سکے۔ مصنف مستنصر حسین تارڑ کے مطابق اسی دوران پراسرار طور پر لیلیٰ کا ہیروں سے مزین سازوسامان چوری ہو گیا۔

مہاراجہ کی پسندیدہ لیلیٰ کا بھس بھرا وجود اور رنجیت سنگھ کے ساتھ اس تاریخی گھوڑی کی تصویر لاہور کے عجائب گھر کی سکھ گیلری میں موجود ہے اور دیکھنے والوں کو انسان اور جانور کی محبت کی کہانی سناتے ہیں۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ سے متعلق یہ اقتباس برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ سے لیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube