Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > پاکستان

پولیس کے غیرانسانی سلوک کیخلاف پشاور میں پرتشدد مظاہرے

SAMAA | - Posted: Jun 26, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 26, 2020 | Last Updated: 4 months ago

پولیس وین پر پتھراؤ

پشاور میں نوجوان کے ساتھ پولیس کے غیر انسانی سلوک کے خلاف احتجاج کے دوسرے روز اسمبلی چوک میدان جنگ بن گیا۔ پولیس کی شلینگ اور لاٹھی چارج کے جواب میں مظاہرین کی جانب سے پولیس وین پر پتھراؤ کیا گيا۔

پشاور پولیس نے گزشتہ دنوں نوجوان کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا اور حوالات میں اس کے کپڑے اتار کر ویڈیو بنانے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔

ویڈیو وائرل ہونے اور لوگوں کی جانب سے پولیس پرتنقید کے بعد ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر آفریدی نے ایس ایچ او تہکال، اے ایس آئی ظاہر اللہ، کانسٹیبل نعیم اور کانسٹیبل توصیف کو معطل کردیا۔ اس کے ساتھ اے ایس آئی ظاہر اللہ، کانسٹیبل نعیم اور کانسٹیبل توصیف پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا جبکہ آئی جی پولیس نے بعد ازاں ایس ایس پی ظہور بابر آفریدی کر عہدے سے برطر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس واقعے میں ملوث ہیں۔

متاثرہ نوجوان عامر تہکالی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ پولیس کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ریسٹورنٹ میں ملازم تھا مگر لاک ڈاؤن کے بعد بیروزگار ہونے کے بعد نشہ کرنے لگا اور نشے میں ہی پولیس کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

واقعے پر پشاور ہائیکورٹ نے نوٹس لیکر پولیس سے جواب طلب کیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات کیلئے صوبائی حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے اور پشاور ہائیکورٹ کو اس سلسلے میں خط بھی لکھا ہے۔

دریں اثنا جمعہ کو ایک بار پھر پشاور کا اسمبلی چوک میدان جنگ بنا رہا۔ شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کیا تو پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ جس پر مظاہرین نے مشتعل ہوکر پولیس وین پر پتھراؤ کیا۔

مظاہرین نے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف  سخت سزا کا مطالبہ کیا جبہ پولیس ایکشن کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے اور روڈ کوٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔

ایس ایس پی آپریشن منصورامان کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا ہے۔ جس سے کچھ پولیس اہلکاروں کو پتھرلگے ہیں مگر ہم برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube