Thursday, August 6, 2020  | 15 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

کوئٹہ:طلبہ کےاحتجاج کرنےپرگرفتاری،ایس پی سٹی تھانہ معطل

SAMAA | - Posted: Jun 25, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 25, 2020 | Last Updated: 1 month ago

کوئٹہ میں طلباء وطالبات کواحتجاج کرنے پرگرفتار کرنے اورغیرمناسب رویہ اختیار کرنے پروزیراعلی بلوچستان نےایس پی سٹی تھانہ کوعہدےسےہٹادیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نےاپنےایک ٹویٹ میں کہا کہ حکومت نےطلباء کی گرفتاری کا کوئی حکم جاری نہیں کیا،پولیس اورطلباء میں جھگڑے کےبعد طلباء کوگرفتارکیا گیا،پولیس کو فوری طور پر طلباء کی رہائی کے احکامات جاری کئے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ طلباء کےساتھ ناروا سلوک اپنانے پرایس پی سٹی تھانہ عبداللہ جان آفریدی کوعہدے سے ہٹا دیا گیا ہےجبکہ طالبات کےساتھ بدسلوکی کرنے والی خاتون کانسٹیبل کےخلاف بھی کارروائی ہوگی۔

طلباء نےآج ایک بارپھربلوچستان اسمبلی کے باہرآن لائن کلاسزاورانٹرنیٹ کی عدم دستیابی کےخلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کوبلوچستان کی طلبہ ایکشن کمیٹی کے زیرِاہتمام پریس کلب شارع عدالت سےایک ریلی نکالی گئی،جس میں بڑی تعداد میں لڑکے اورلڑکیاں دونوں شریک ہوئے۔طلبہ کےمطابق وہ بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے تھے، اس دوران احتجاج کرنیوالے طلباء اورطالبات کو پولیس نے گرفتارکرلیا۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور بلوچ کونسل قائداعظم یونیورسٹی پر مشتمل بلوچ طلباء الائنس کے زیر اہتمام بلوچستان میں آن لائن کلاسز کیلئے انٹرنیٹ کی عدم فراہمی اور ایچ ای سی کی جانب سے آن لائن کلاسز کے اجراء کیخلاف احتجاجی ریلی کے شرکاء کو گرفتاری کے بعد مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا۔

ساتھیوں کی گرفتاری کیخلاف طلبہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے اپنے تمام ساتھی طلبہ کو رہاء کرنے کا مطالبہ کیا، طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بھی لگائے۔پولیس افسر تھانہ سول لائن ضامن حسین ضامن کے مطابق طلبہ اسمبلی کی طرف ریلی نکال رہے تھے جبکہ کوئٹہ میں ہر قسم کی ریلیوں پر پابندی عائد ہے، ان کا کہنا تھا کہ گرفتار طلبہ کو مختلف تھانوں میں رکھا گیا۔

اس کےعلاوہ پولیس نے طلباء اور طالبات کو گرفتارکیا تو ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے موقف اختیار کیا کہ طلباء کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا اورگرفتاری انہیں کرونا سے بچاؤ کیلئے کی گئی۔

جب معاملہ اسمبلی تک پہنچا توصوبائی وزیرسردارعبدالرحمان کھیتران نے ایوان کوبتایا کہ طلباء اسمبلی میں داخل ہوناچاہتےتھے جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں اسپیکر میرعبدلقدوس بزنجو نےرولنگ دیتے ہوئےکہ صوبائی وزیرنےایوان کوگمراہ کرنے کی کوشش کی اورغلط معلومات فراہم کیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube