Wednesday, September 23, 2020  | 4 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

سیکریٹری صحت کا پنجاب میں پلازمہ کی فروخت کا اعتراف

SAMAA | - Posted: Jun 23, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 23, 2020 | Last Updated: 3 months ago

سرکاری اسپتال میں جان، نجی میں مال نہیں بچتا، عدالت

سيکریٹری صحت پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ ميں پلازمہ کی فروخت کا اعتراف کرليا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پلازمہ فروخت کرنے پر 7 سال تک سزا ہوسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری اسپتال میں کرونا کا مریض جائے تو جان نہیں بچتی، پرائیویٹ میں جائے تو مال نہیں بچتا۔

پلازمہ کی فروخت کے خلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے کہا کہ پلازمہ تین سے پانچ لاکھ روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

سیکریٹری صحت پنجاب نے پلازمہ کی لاکھوں روپے ميں فروخت کا اعتراف کرلیا۔ جس پر عدالت نے کارروائی اور پنجاب بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کو مکمل فعال کرنے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

ہیلتھ کیئر کمیشن کے سی ای او ڈاکٹر شعیب نے بتایا کہ پرایویٹ اسپتالوں میں فروری کے ریٹس منجمد کردیئے گئے ہیں، جو بھی زیادہ چارج کریگا، اس کیخلاف کارروائی ہوگی، سروسز بند کردی جائیں گی۔

سیکریٹری صحت نبیل اعوان نے عدالت کے روبرو واضح کیا کہ پلازمہ کی فروخت قانوناً جرم ہے، اس میں ملوث شخص پر مقدمہ درج  ہوسکتا ہے اور 7 سال تک کی سزا ہوسکتی ہے، ہر اسپتال کو یہ اجازت نہیں کہ وہ مریض کو پلازمہ لگائے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ میرے جاننے والے نے تین اور 5 لاکھ روپے کی پلازمہ کی بوتلیں خریدی ہیں، سیکریٹری داخلہ بتائیں پلازمہ کی فروخت پر کیا کارروائی کی۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ پرائیویٹ اسپتال کے ریٹ ہوٹلوں سے بھی زیادہ ہیں، میرے جاننے والے نے 50 ہزار روپے میں سادہ کمرہ لیا۔

چیف جسٹس نے پرایویٹ اسپتالوں کے ریٹس پر رپورٹ مانگتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو بھی 8 جولائی کو طلب کرلیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube