Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

ڈيرہ اسماعيل خان:ٹريفک پوليس کےخلاف فیس بک پرپوسٹ کرنےپرگرفتاربچہ رہا

SAMAA | - Posted: Jun 16, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 16, 2020 | Last Updated: 2 years ago

ڈيرہ اسماعيل خان ميں ٹريفک پوليس کے خلاف پوسٹ کرنے پر پوليس نے 13 سالہ بچے کوحوالات ميں بند کرديا۔سینئر سول جج کی عدالت سے ضمانت پر رہا کردیاگیا۔پولیس نےزیردفعہ107 اور 151کے تحت رپورٹ درج کی تھی۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری فیصل کریم کنڈی نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں 13 سالہ بچے نے ٹریفک پولیس کے خلاف سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بچے کو حراست میں لے کر لاک اپ میں بند کردیا۔حوالات میں قید بچے کو والدین اور وکیل سے بھی ملنے نہیں دیا گیا،بچےکے والدین ساری رات سے تھانے کے باہر موجود رہے اور پولیس سے بچے سے ملنے کی درخواست کرتے رہے لیکن پولیس نےبچےکےوالدین اور وکلاء کو بھی بچے سے نہیں ملنے دیا ۔ اس سلسلہ میں جب پولیس حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی،پھربھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

بچےکی والدہ نے کہا کہ ميرے بچے نے کوئی اتنا بڑا جرم نہيں کيا کہ اس کواتنی بڑی سزا دی گئی۔بچے کے والد عرفان لغاری نے وزیراعلی خیبر پختون خوا اور آئی جی پولیس سےاس ظالمانہ اقدام کانوٹس لینےکامطالبہ کیا۔والد کا مزید کہنا تھا کہ اگر بچے کو کچھ ہوا توحکومت ذمہ دار ہوگی۔

منگل کی صبح بچےکوسینئر سول جج کی عدالت سے ضمانت پر رہا کردیاگیا۔پولیس نے زیر دفعہ 107 اور 151کےتحت رپورٹ درج کی تھی۔

بچے کو گرفتارکرکے حوالات میں بند کرنے پر پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری فیصل کریم کنڈی نے  اپنے ٹویٹ میں پولیس اور صوبائی حکومت کو شدید تنقید کو نشانہ بناتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube