Wednesday, August 12, 2020  | 21 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

وزيراعظم نے چينی بحران پر آج اہم اجلاس طلب کرليا

SAMAA | - Posted: Jun 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago

وزیراعظم عمران خان نے چینی کے بحران پر اہم اجلاس آج اتوار 7 جون کو طلب کرلیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاس میں ذمہ دار قرار ديئے گئے افراد کے خلاف کارروائی کا فيصلہ ہوگا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اور دیگر حکام شریک ہونگے۔

اجلاس میں ایف آئی کے رپورٹ پر اب تک کی کارروائی پر بھی بات چیت ہوگی۔ سفارشات کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں گے۔ ذمہ دار قرار دئیے گئے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات نیب اور ایف آئی اے کو بھجوائے جائیں گے، جس کی حتمی منظوری وزیراعظم دیں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن چینی اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن کی رپورٹ ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہے ، لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں اصل کرداروں سے توجہ ہٹانے کیلئے 347 صفحات پر مشتمل رپورٹ لکھی گئی۔ شوگر اسکینڈل کے اصل ذمہ دار عمران خان، عثمان بزدار،حفیظ شیخ اور اسد عمر ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ20 ماہ قبل وزیراعظم عمران خان نے چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کیا اس دن سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے۔ چینی اسکینڈل پر قائم کمیشن کی رپورٹ منظر عام آنے سے لے کر اب تک چینی کی قیمت 20 فیصد بڑھ چکی ہے۔ حکومت اتنی معصوم ہے کہ 200 ارب روپے کا ڈاکہ ڈال کر خاموش بیٹھی ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی انکوائری رپورٹ میں پی ٹی آئی رہنما جہانگیر خان ترین اور دیگر کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ جہانگیر خان ترین رواں ہفتے ہی برطانیہ جا چکے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے طبی معائنے کے لیے برطانیہ آئے ہیں۔

 ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے کے لیے بننے والے 6 رکنی تحقیقاتی کمیشن نے حتمی رپورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما جہانگیر ترین، مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی، اومنی گروپ اور مخدوم خسرو بختیار کے بھائی عمرشہریار چینی بحران کو ذمہ دار قرار دے دیا تھا۔

 چینی بحران کے باعث شوگر انکوائری کمیشن 10 مارچ کو تشکیل دیا گیا۔ شوگر کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا گیا۔ کمیشن میں ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس، ڈپٹی ڈی جی آئی بی احمد کمال، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایس ای سی پی بلال رسول، جوائنٹ ڈائرکٹر اسٹیٹ بینک ماجد حسین چوہدری اور ڈی جی ایف بی آر انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ ڈاکٹر بشیر اللہ خان بھی شامل تھے۔ انکوائری کمیشن نے 63 دنوں میں رپورٹ تیار کی۔ اس دوران 220 مختلف افراد سے پوچھ گچھ کی۔

ہفتہ کے روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ چینی شوگر انکوائری رپورٹ میں تمام لوگ جیل جائیں گے کوئی نہیں بچے گا۔  

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube