Thursday, July 9, 2020  | 17 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

پیپلز پارٹی نے امریکی خاتون کے الزامات مسترد کردیے

SAMAA | - Posted: Jun 6, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 6, 2020 | Last Updated: 1 month ago

پاکستان میں مقیم امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی نے سابق وزیرداخلہ رحمان ملک سمیت پیپلزپارٹی کی قیادت پر سنگین الزامات عائد کئے جن میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پی پی رہنما مخدوم شہاب الدین بھی شامل ہیں۔

پيپلزپارٹی کی قيادت کے خلاف امریکی بلاگر نے جمعہ کی شام ویڈیو بیان جاری کیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ 2011 میں اس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک نے ایوانِ صدر میں ان کے ساتھ زیادتی کی تھی۔

امریکی خاتون نے سابق وزيراعظم يوسف رضا گيلانی اور سابق وفاقی وزير مخدوم شہاب الدين پر بھی الزامات لگائے اور کہا کہ ان دونوں رہنماؤں نے ان کے ساتھ دست درازی کی تھی۔

امریکی خاتون نے بتایا کہ یہ تمام واقعات ایوان صدر میں پیش آئے تھے۔ انھوں نے پیش کش کی کہ ان واقعات کی مزید تفصیلات بھی دیں گی۔ خاتون کے الزامات کے بعد ٹويٹر پرسنتھیا رچی سمیت پیپلزپارٹی کے رہنماء ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔

سنتھیا ڈی رچی نے کہا کہ سینیٹر شیری رحمان بھی شرمناک فعل میں ملوث رہی ہیں۔ انھوں نے شیری رحمان کے خلاف ثبوت پیش کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

ان الزامات پر رحمان ملک نے کہا ہے کہ امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کے من گھڑت،بیہودہ ونازیبا الزامات کے جوابات دینا  توہین سمجھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکی خاتون کی الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں جس کا مقصد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے، یہ نازیبا الزامات کسی مخصوص فرد یا گروہ کے اکسانے پر لگائے ہیں۔

رحمان ملک کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ سنتھیا ڈی رچی کا بطور خاتون اور تمام خواتین کا احترام کرتے ہیں لہذا کسی قسم کی توہین آمیز کلمات سے جواب دینا ان کا شیوہ نہیں۔

سینیٹر رحمان ملک کے بیٹوں نے آزادانہ طور پر اپنے وکیلوں سے ضروری قانونی رائے مانگ لی ہے تاکہ امریکی خاتون کے خلاف قانونی کارروائی اور ہتک عزت کا دعوی دائر ہوسکے۔

سابق وزيراعظم يوسف رضا گيلانی نے بھی غيرملکی خاتون کے الزامات کو مسترد کرديا اور کہا کہ وہ ايوان صدر،صدرمملکت سےملنےجاتے رہے، ان الزامات کےحوالے سے کوئی تبصرہ نہيں کرنا چاہتے، لوگوں کوايسی باتيں کرتےہوئےشرم آنی چاہيے۔

یوسف رضا گیلانی کے بیٹےعلی حیدر گیلانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سنتھيا رچی کے خلاف سائبر کرائم ملتان میں درخواست جمع کروائی تھی جس میں سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے خلاف امریکی بلاگر کے کلمات کا حوالے دیا گیا۔ اس کے جواب میں سنتھيا رچی نے حالیہ ویڈیو بیان میں یوسف رضا گیلانی کے خلاف الزامات عائد کرتے ہوئے حملہ کیا۔

مخدوم شہاب الدين کا کہنا تھا کہ وہ سنتھيا رچی سے ہميشہ احترام سے پيش آئے اور کوئی بدسلوکی نہيں کی۔

ان کےعلاوہ پيپلزپارٹی کے ديگر رہنماؤں نے بھی امريکی خاتون کے الزامات کو شرمناک قرار دے کر اُن کی ملک بدری کا مطالبہ کرديا۔

سابق گورنر پنجاب سردار لطيف کھوسہ نے کہا کہ سنتھیا رچی کے دعوؤں کی کوئی قانونی حيثيت نہيں، خاتون کو9 سال بعد الزامات کيوں يادآئے، وہ یہ دعوؤں کو ثابت نہيں کرسکیں گے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سحر کامران نے ان الزامات کوشرمناک قراردے ديا اورمطالبہ کيا کہ تحقيقات کی جائيں کہ امريکی خاتون کس مشن پر پاکستان آئيں،انہيں ملک بدرکياجائے۔

سحرکامران نےالزام لگايا کہ سنتھارچی پاکستان ميں انتشار پھيلانا چاہتی ہيں اوران کے خلاف متعلقہ اداروں کوخطوط لکھ چکی ہيں۔

مسلم لیگ نون کی رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے ساتھ سفر کرنے کا اتفاق ہوا، وہ انتہائی شفقت کرنے اور عزت دینے والے انسان ہیں، انھیں خاتون کی عزت کرنا آتی ہے۔

واضح رہے کہ بینظیر بھٹو کے خلاف توہین آمیز اور متعصبانہ الزامات گانے پر پاکستان بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکنان نے گزشتے ہفتے سنتھیا ڈی رچی کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے اور پولیس کو شکایت درج کروائی تھیں۔ 

پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر ایڈوکیٹ شکیل عباسی نے 28 مئی کو ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ امریکی خاتون کے الزامات جھوٹ، تعصب اور بہتان تراشی پر مبنی ہیں اور ان الزامات نے پاکستان کے ان لاکھوں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے جو بے نظیر بھٹو کا احترام کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی لاہور کے کارکن فیصل میر نے بھی ایف آئی اے کو خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بلاگر کے الزامات نے نہ صرف فیڈریشن پر حملہ کیا ہے بلکہ پاکستان کے لاکھوں لوگوں کو بھی تکلیف پہنچائی ہے۔ لہذا ایف آئی اے ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائے۔ 

پارٹی کے رہنما شہزادہ افتخار الدین نے امریکی خاتون کے خلاف اسلام آباد کے کوہسار پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرواتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو سزا دی جائے۔

پیپلزپارٹی کے میڈیا سیل سے وابستہ عثمان غازی نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ امریکی خاتون کے الزامات سے پاکستان بھر میں پارٹی کے کارکنان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ گلگت بلتستان آزاد کشمیر پنجاب اور کراچی سمیت ملک بھر میں کارکنان نے ان کے خلاف مقدمات درج کروائے ہیں۔

عثمان غازی نے کہا کہ معاملہ پیپلز پارٹی تک محدود نہیں بلکہ ان الزامات سے پاکستان بھر کے عوام میں اشتعال پھیل گیا ہے کیونکہ بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کے باعث سے بہت سارے لوگوں کے لیے رول ماڈل تھیں۔ 

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان نے انفرادی طور پر قانونی کارروائی کیلئے درخواستیں دی ہیں مگر پیپلز پارٹی کی جانب سے باقاعدہ طور پر تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

اب تک پیپلز پارٹی کے کارکنان کی جانب سے ملک بھر میں امریکی خاتون کے خلاف 9 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ 

امریکی خاتون نے بے نظیر بھٹو کی توہین کرتے ہوئے ان کی نجی زندگی پر حملے کیے اور آصف علی زرداری پر ناجائز تعلقات کا الزام لگایا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube