Wednesday, July 8, 2020  | 16 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

کرونا، معاشی مسائل کے باعث پیٹ کے امراض میں اضافہ

SAMAA | - Posted: Jun 4, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 4, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو: اے ایف پی

کرونا وائرس کی وبا کی حالیہ صورتحال کے باعث ذہنی دباﺅ اور گھبراہٹ جیسے امراض کی وجہ سے پیٹ کے امراض میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لہذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کریں۔ روزانہ ورزش کریں اور متوازن غذا کا استعمال کریں تاکہ ان مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین صحت نے ورلڈ ڈائجسٹیو ہیلتھ ڈے 2020 کی مناسبت سے پاک جی آئی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی کے زیر اہتمام ہونے والے ایک آن لائن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ عالمی وبا کے نتیجے میں پریشان کن معاشی صورتحال کی وجہ سے آنتوں کی دائمی سوزش کی بیماری یعنی ’’ایریٹیبل باول سنڈروم‘‘ کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور اس مرض میں مبتلا لوگوں کا پیٹ اکثر خراب رہتا ہے جس کے باعث مریضوں کو ڈائریا، قبض، گیس، پیٹ میں درد اور مروڑ سمیت دیگر شکایات کا سامنا رہتا ہے۔

معروف ماہر امراض پیٹ و جگر ڈاکٹر لبنیٰ کامانی کا کہنا تھا کہ آنتوں کی دائمی سوزش کی بیماری بیک وقت آسان اور انتہائی مشکل بیماری ہے اور اس مرض سے متاثر زیادہ تر مریض اپنی بیماری کی وجہ سے انتہائی اذیت میں مبتلا رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹریس کے ساتھ حاملہ خواتین میں ہارمونز کی کمی بیشی، غیرمتوازن غذا کا استعمال اور معاشی پریشانیوں کی وجہ سے ہونے والی ذہنی بیماریاں اس بیماری کا سبب بنتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ روزانہ ورزش کرنے، صحت مند غذا کھانے اور سکون آور نیند سے اس مرض کی علامات پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے رجسٹرار اور ماہر امراض پیٹ و جگر پروفیسر امان اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ آج کل کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کا پیٹ بھی خراب ہو جاتا ہے اور تقریبا 25 سے 30 فیصد مریضوں کو کرونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے پیٹ کے امراض کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مرض میں مبتلا مریضوں کو ایسی غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں یا تو ان کو ڈائریا ہوجائے یا قبض کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پیٹ کے اس مرض میں مبتلا لوگوں کو ماہرین غذائیت اور دماغی امراض کے ماہرین سے بھی صلاح مشورہ کرنا چاہئے۔

پی جی ایل ڈی ایس کے سرپرست اعلی ڈاکٹر شاہد احمد کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے جس کی وجہ سے لوگ ذہنی پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں اور یہی آنتوں کی دائمی سوزش کے مرض کا ایک اہم سبب بن رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹ کے امراض میں مبتلا 75 فیصد لوگوں کو اسی مرض کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اگر متوازن غذا کا استعمال کیا جائے، ورزش کو معمول بنایا جائے اور قوت مدافعت کو بڑھانے والی عادات اپنائی جائیں تو انسان امرض سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔

سیمینار سے ڈاکٹر حفیظ اللہ اور ڈاکٹر نازش بٹ نے بھی خطاب کیا اور پیٹ کے امراض میں مبتلا مریضوں کو مشورہ دیا کہ وہ ریشہ دار غذاؤں کا استعمال کریں، پانی زیادہ سے زیادہ پیئں اور پیٹ کی خرابی بشمول ڈائریا اور قبض کے دوران اسپغول کی بھوسی کا استعمال کریں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube