اسلام آبادایلیٹ کلچرکی کلاسیک مثال بن چکاہے،اسلام آبادہائیکورٹ

SAMAA | - Posted: Jun 3, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Jun 3, 2020 | Last Updated: 1 year ago

فوٹو : آن لائن

اسلام آباد میں نئے سیکٹرز کی تعمیر پر متاثرین کو معاوضے کی عدم فراہمی اورایک ہزارمتاثرین کو متبادل پلاٹ نہ ملنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سی ڈی اے پر برہم ہوگئی۔ عدالت نےکیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ایلیٹ کلچر کی کلاسیک مثال بن چکا ہے،آپ ہمیں بتادیں ہم عدالتوں کوبندکردیتے ہیں۔

بدھ کو اسلام آباد میں نئے سیکٹرز کی تعمیر کے متاثرین کومعاوضوں کی عدم فراہمی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایک ہزار متاثرین کو ابھی تک متبادل پلاٹ نہ ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے پر برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ججوں، بیوروکریٹس، صحافیوں سب کو اسلام آباد میں پلاٹ ملے،جن لوگوں سے زمینیں خریدی گئیں انہیں ہی پلاٹ نہ دیئے گئے،کیا یہاں مذاق ہورہا ہے،ہزاروں لوگوں کو بے گھر کرکے متبادل زمین ہی نہیں دی گئی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایلیٹ کلچر کی کلاسیک مثال بن چکا ہے،قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی ذمہ دار سی ڈی اے ہے،کیا کرونا نے بھی ہمارے دلوں میں اللہ کا ڈر پیدا نہیں کیا؟،ہم بھول چکے ہیں کہ ہمیں اللہ کے ہاں بھی پیش ہونا ہے،ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کیا قانون سے بالاتر ہے جوعدالتی احکامات بھی نہیں مانتی؟،آپ ہمیں بتادیں کہ ہم عدالتوں کو بند کردیتے ہیں۔

وزیراعظم کےمعاون خصوصی علی نوازاعوان نے کہا کہ عدالت جوکہہ رہی ہے ٹھیک کہہ رہی ہے،ہم پہلی بار بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دئیےکہ عدالت صرف یہ چاہتی ہے کہ ایلیٹ کلچر ختم ہو۔عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube